alsadeqain.blogfa.com

موسسہ الصادقین فی الںجف الاشرف


غلو علماءِ مسلمین کے نگاہوں میں:

متعدد علماء فریقین کے کلمات میں غلو کا معنی بیا ن ہو اہے۔

(۱)شیخ مفیدؒ :

’’الغلوھوالتجاوزعن الحد والخروج عن القصدوالافراط فی حق الانبیاء والائمۃ علیہم السلام‘‘۔

’’حد سے بڑھ جانا میانہ روی سے خارج ہونا انبیاء ؑ وآئمہ ؑ کے حق میں حد سے بڑھ جانے کا نام غلو ہے‘‘۔

لا تغلوا فی دینکم(اپنے دین میں غلو سے کام نہ لو)کی آیت کے ذیل میں فرمایا:

’’ان اللہ نھی عن تجاوزالحد فی المسیح وحذّر من الخروج عن القصد وجعل ما ادعتہ النصاری فیہ غلواًلتعدیہ الحدّ۔‘‘(تصحیح اعتقادات الامامیۃ ص۱۰۹)

’’خدا وندعالم نے جناب عیسیٰ ؑ کے حق میں حد سے تجاوز کرنے سے نہی کی ہے اور میانہ روی سے نکلنے سے ڈرایا ہے اور نصاریٰ کے دعوی کو غلو قرار دیا ہے کیونکہ وہ حد سے بڑھ گئے تھے۔‘‘

(۲)شہیدالصدرؒ :

بعض اوقات مرتبہ الوہیت کے لحاظ سے غلو ہوتاہے،بعض اوقات مرتبہ نبوت کے لحاظ سے غلو ہو تاہے اور بعض اوقات خدا کی صفات و افعال میں غلو ہوتاہے۔

مرتبہ الوہیت میں غلو کبھی ایسے ہوتاہے کہ انسان کسی کے حق میں خدا ہونے کا عقیدہ رکھے یا کبھی ایسے ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کو اللہ(واجب الوجود)تو نہیں سمجھتا مگر الوہیت اور استحقاق عبادت میں واجب الوجود کا شریک سمجھتا ہے اور یہ شریک ٹھہرانا بعض اوقات عرض میں ہوتا ہے بعض اوقات طول میں ہوتاہے۔یا کبھی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خداوندعالم فلان شخص میں حلول کرگیا ہے۔یہ سب کفر ہے پہلی صورت میں کیونکہ وہ خداوندعالم کا منکر ہے اسی لیے کافر ہے۔دوسری صورت میں اسکی توحید کا منکر ہے اسی لیے کافر ہے اور تیسری صورت میں حلول کی بازگشت غیر خدا کی طرف ہے اسی لیے کافر ہے۔

مرتبہ نبوت میں غلو ایسے متصور ہے کہ کوئی انسان کسی کے بارے میں نبی سے افضل ہونے کا عقیدہ رکھے اور یہ کہے کہ یہ انسان نبی اور خدا کے درمیان حلقہ وسط ہے یا ایسے متصور ہے کہ وہ نبی کا مساوی و ہم پلہ ہے اس طرح کہ نبی کی نبوت و رسالت اس کو شامل نہ ہو(یعنی یہ نبی ورسول اس کے لیے نہ ہو)یہ بھی کفر کا موجب ہے کیونکہ شھادت ثانیہ کا مفہوم متصور ہے یہ اس کا انکار ہے کیونکہ دوسری شہادت میں انسان یہ تسلیم کرتاہے کہ یہ نبی تما م مکلفین کے لیے رسول بن کر آیاہے اس سے کوئی مستثنی نہیں ہے۔

خدا کی صفات وافعال میں غلو ایسے متصور ہے کہ کسی صفت یا فعل کو ایسے شخص کی طرف منسوب کیا جائے جو اس صفت وفعل کی صلاحیت ومستوی کا نہ ہو۔(بحوث فی شرح العروۃ الوثقی ج۳ص۲۸۴)۔

(۳)شہرستانی:

وہ لوگ جو آئمہؑ کے حق میں غلو کرتے ہیں حتی کہ انہیں مخلوق کے درجہ سے نکال کر ان پر الہیٰ احکام لگاتے ہیں وہ غالی ہیں۔

بعض اوقات وہ لوگ کسی ایک امام کو معبود کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں بعض اوقات معبود کو مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں یہ غلو اور تقصیر کی حدوں پر کھڑے ہیں انکی یہ تشبیہات حلول،تناسخ،مذہب یہود و نصاری سے پھوٹی ہیں کیونکہ یہود نے خالق کو مخلوق سے تشبیہ د ی ہے اور نصاری نے مخلوق کو خالق کے ساتھ تشبیہ دی ہے اس قسم کے شبھات شیعہ میں موجود غالیوں کی طرف بھی سرایت کر آئے ہیں یہاں تک کہ بعض نے آئمہ ؑ کے حق میں احکام الہی کو جاری کیاہے۔(الملل و النحل ج۱ ص۱۷۳)

+

 نوشته شده در  پنجشنبه ششم مهر ۱۳۹۱ساعت 15:27  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

Advertisements