alsadeqain.blogfa.com

موسسہ الصادقین فی الںجف الاشرف


غالیوں کے بارے میں اہل بیت علیھم السلام کا نظریہ:

آئمہ اہل بیت علیھم السلام نے غالیوں کے بارے شدید ترین موقف اختیار کیا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا کہ اہل بیت علیھم السلام نے جس طرح غلو کے مسئلہ میں غالیوں کی مذمت کی ہے ایسی کسی اور مسئلہ میں مذمت نہیں کی ۔پوری قوت وشدت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور اس خطرناک بیماری کا متعدد انواع و مختلف طریقوں کے ساتھ علاج کیا ہے ۔

اور اس اہتمام کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی حکمرانوں نے غالیوں کو شیعہ کی صفوں میں داخل کیا تاکہ پوری امت کو یہ بیان کریں کہ شیعہ اپنے آئمہؑ کو خدا مانتے ہیں لہذا ان کا خون جائز ہے ،ان کا مال ،جان،عزت وآبرو مباح ہے اور تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔

اسی وجہ سے اہل بیت علیھم السلام نے اپنی احادیث اور مختلف انداز کے ذریعہ غالیوں اور ان کے عقائد کی بھر پور مذمت کرکے پورے عالم اسلام کو بتادیا کہ اس قسم کے عقائد رکھنے والوں کا مذھب جعفری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ لوگ ہماری صفوں میں داخل کر دئے گئے ہیں تاکہ شیعہ مذہب کو بدنام کریں اور انکے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا موجب بنیں ۔

اور آج کے اس جدید دور میں شیعہ کے خلاف جو فتوی بازی کا بازار گرم ہے یہ ہماری بات کی بہترین دلیل ہے ۔

یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے آئمہ علیھم السلام کو مجبور کیا کہ وہ غالیوں سے علی الاعلان برائت کا اظہار کریں اور ان پرکھلم کھلا لعن وطعن کریں اور ان کے کفر کا واضح حکم لگائیں اور آئمہؑ نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ کسی حالت میں ان کے ساتھ نہ بیٹھیں ،ان کی باتوں کی طرف کان نہ دھریں اور اس قسم کے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیں۔

ہم یہاں روایات کی چنداصناف کو بیان کررہے ہیں کہ آئمہ ؑ نے مختلف تعبیروں اورمختلف انداز سے غالیوں کا کس طرح مقابلہ کیا ہے۔

۱۔عن فضیل بن یسار ’’قال الصادق علیہ السلام ’’احذرو علی شبابکم الغلاۃ لایفسدونھم فان الغلاۃ شر خلق اللہ یصغرون اللہ ویدعون الربوبیۃ لعباداللہ واللہ ان الغلاۃ شر من الیھود والنصاری والمجوس والذین اشرکوا ثم قال علیہ السلام الینا یرجع الغالی فلا نقبلہ وبنا یلحق المقصر فنقبلہ فقیل لہ کیف ذلک یا رسول اللہ ؟

قال لان الغالی قد اعتاد ترک الصلاۃ والزکاۃ والصیام والحج فلا یقدر علی ترک عادتہ وعلی الرجوع الی طاعۃ اللہ عزوجل ابداوان المقصر اذا عرف عمل و اطاع۔(ترتیب الامالی:ج۔۳ص:۵۷،امالی الطوسی المجلس ۳۳)

امام صادق ؑ نے فرمایا ’’اپنے جوانوں کو غالیوں سے بچاؤ کہ وہ انہیں فاسد العقیدہ نہ بنا دیں کیونکہ غالی خدا کی بد ترین مخلوق ہے جو خدا کو چھوٹا سمجھتی ہے اور خداکے بندوں کو رب کہتے ہیں ۔خدا کی قسم غالی ،یہودیوں ،نصاری ،مجوس ومشرکوں سے بد تر ہیں ۔پھر امام ؑ نے فرمایا ،غالی ہماری طرف پلٹے گا مگر ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور مقصر بھی ہم سے ملحق ہو گا پس ہم اسے قبول کر لیں گے۔

کسی نے امام ؑ سے کہا ۔اے فرزند رسول ؐیہ کیسے ہوگا؟

امام علیہ السلام نے فرمایا کیونکہ نماز نہ پڑھنا ،زکات ادانہ کرنا،روزہ وحج کو چھوڑدینایہ غالی کی عادت بن چکی ہے اور اب وہ اپنی عادت کو چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا اور کبھی بھی اطاعت خدا کے راستے کی طرف پلٹنے کی طاقت نہیں رکھتا اور مقصر کو اپنی تقصیر کا علم ہوجائے تو اس پر عمل بھی کرے گااور اطاعت خدا بھی کریگا۔‘‘

۲۔عن الاصبغ بن نباتۃقال امیرالمؤمنین علیہ السلام ’’اللھم انی بریء من الغلاۃ کبراءۃ عیسی بن مریم من النصاری اللھم اخذلھم ابداولاتنصرمنھم احدا‘‘(ترتیب الامالی:ج۔۳۔ص:۵۸،امالی الطوسی المجلس۳۳)

اصبغ بن نباتہ نے امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ’’میں غالیوں سے ایسے بیزار ہوں جیسے عیسی بن مریم نصاری سے بیزار تھے۔اے اللہ تو ہمیشہ انہیں ذلیل ورسوا کر اور ان میں کسی کی مدد نہ کر ۔‘‘

۳۔عن مسعدۃ بن صدقۃ قال حدثنی جعفر بن محمد عن ابیہ علیھما السلام قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ ’’صنفان لاتنالھما شفاعتی سلطان غشوم عسوف غال فی الدین مارق منہ غیر تائب‘‘۔(قرب الاسناد:ص ۔۶۴)

امام جعفر صادق ؑ نے اپنے والد گرامی سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا کہ’’دو قسم کے گروہ ایسے ہیں جنکو میری شفاعت نہیں پہنچ سکتی ۔ایک ایسا بادشاہ جو دوسروں کو بے وقوف بنا کر جو ہاتھ لگے لے لے ،متشدد وظالم ۔دوسرا دین میں غلو کرنے والا ،دین سے الگ ہو جانے والا ،توبہ نہ کرنے والا۔‘‘

اس ضمن میں ہم چند ایک روایات کو پیش کرتے ہیں ۔

۱۔عن ابی عبداللہ الصادق یقول’’لعن اللہ المغیرۃ بن سعید انہ کان یکذب علی ابی فاذاقہ اللہ حرالحدید لعن اللہ من قال فینا مالا نقولہ فی انفسنا ولعن اللہ من ازالنا عن العبودیۃ للہ الذی خلقنا والیہ مآبناومعادنا‘‘(اختیار معرفۃ الرجال المعروف رجال کشی:ج۔۲،ص:۵۹۰)

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں ’’اللہ مغیرہ بن سعید پر لعنت کرے اس نے میرے والد گرامی پر جھوٹی تہمت لگائی۔خدا نے اس کو لوہے کی گرمی کامزہ چکھایا،خدا ہر اس پرلعنت کرے جس نے ہمارے بارے وہ کچھ کہا جو ہم اپنے بارے نہیں کہتے اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے ہمیں مقام عبودیت سے دور کردیا اسی اللہ نے ہمیں خلق کیا ہے ۔ اسی کی طرف ہماری بازگشت ہے اور اسی کے پاس ہمارا ٹھکانا ہے۔

۲۔قال ابو الحسن الرضاعلیہ السلام کان بنان یکذب علی علی بن الحسین علیھما السلام فاذاقہ اللہ حراالحدید وکان المغیرۃبن سعید یکذب علی ابی جعفر علیہ السلام فاذاقہ اللہ حراالحدید وکان محمد بن بشیر یکذب علی ابی الحسن موسی علیہ السلام فاذاقہ اللہ حراالحدید والذی یکذب علی محمد بن فرات‘‘۔(اختیار معرفۃ الرجال:ج۔۲،ص:۵۹۱)

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں ’’بنان امام زین العابدین ؑ پرجھوٹ بولتا تھا پس خدا نے اسے لوہے کی گرمی کا مزہ چکھایا ہے ۔مغیرہ بن سعید میرے والد امام محمد باقر ؑ پر جھوٹ بولتا تھا پس خدا نے اسے لوہے کی گرمی کا مزہ چکھایا ،محمد بن بشیر میرے والد امام موسی کاظم ؑ پر جھوٹ بولتا تھا پس خدا نے اسے گرمی کا مزہ چکھایااور جو مجھ پر جھوٹ بولتا ہے وہ محمد بن فرات ہے۔‘‘

۳۔عن یونس قال لی ابوالحسن الرضا علیہ السلام’’ یا یونس اما تری الی محمد بن الفرات مایکذب علی؟فقلت ابعدہ اللہ واسحقہ واشقاہ فقال قد فعل اللہ ذلک بہ اذاقہ اللہ حرالحدید کما اذاق من کان قبلہ ممن کذب علینا یا یونس انما قلت ذلک لتحذر عنہ اصحابی وتامرھم بالعنہ وابراءۃ منہ فان اللہ بریء منہ ‘‘(اختیار الرجال:ج۔۲،ص:۸۲۹)

یونس کہتا ہے مجھے امام رضا علیہ السلام نے فرمایا اے یونس کیا تو محمد بن فرات اور اس کے مجھ پر بولے گئے جھوٹ کو نہیں دیکھتا ؟میں نے کہاخدا اس کو دور کرے اور اس کو ہلاک کرے اور تنگی اور پریشانی میں مبتلا کرے ۔پس امام ؑ نے فرمایا خدا نے یہ سب کچھ اس کے ساتھ کیا ہے خدا اس کو لوہے کی گرمی کا مزہ چکھائے جیسے اس سے پہلے ہم پر جھوٹ بولنے والوں کے ساتھ کیا ہے ۔‘‘

۴۔حنان بن سدیر کہتا ہے ۱۳۸ہجری کی بات ہے کہ میں امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں تھا میسر بھی امام ؑ کے پاس تھا میسربیاع الزطی نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں تعجب ہے مجھے ایک قوم پر جو ہمارے ساتھ اس مقام پر آتے تھے ان کے آثار مٹ گئے ،ان کی عمریں فنا ہو گئیں ۔امام ؑ نے کہا کون لوگ تھے؟میں نے کہا ابولخطاب اور اس کے اصحاب امام ؑ ٹیک لگاکر تشریف فرماتھے اپنی انگشت مبارک کو آسمان کیا طرف بلند کیا اور فرمایا :

’’علی ابی الخطاب لعنۃاللہ والملائکۃ والناس اجمعین فاشھد باللہ انہ کافر فاسق مشرک وانہ یحشر مع فرعون فی اشد العذاب غدواوعشیا‘‘(اختیار معرفۃ الرجال:ج۔۲،ص:۵۸۴)

امام علیہ السلام نے فرمایا’’ ابو خطاب کے اوپر اللہ ،اس کے ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو میں خدا کو گواہ ٹھہراکر کہتا ہوں وہ کافر فاسق،مشرک تھا وہ صبح شا م سخت ترین عذاب کی حالت میں فرعون کے ساتھ محشور ہوگا۔‘‘

عن ابی الحسن علی بن موسی الرضا علیہ السلا م قال’’من قال بالتشبیہ واالجبر فھو کافر ومشرک ونحن منہ براء فی الدنیا والاخرۃ یا ابن خالد انما وضع الاخبار عنا فی التشبیہ والجبر الغلاۃ الذین صغرواعظمۃ اللہ تعالی فمن احبھم فقد ابغضنا ومن ابغضھم فقد احبنا ومن والا ھم فقد عادانا ومن عاداھم فقد والانا ومن وصلھم فقد قطعنا ومن قطعھم فقد وصلنا ومن جفاھم فقد برّنا ومن برّھم فقد جفانا ومن اکرمھم فقد اھاننا ومن اھانھم فقداکرمنا ومن قبلھم فقد ردنا ومن ردھم فقد قبلنا ومن احسن الیھم فقد اساء الینا ومن اساء الیھم فقد احسن الینا ومن صدقھم کذبنا ومن کذبھم فقد صدقنا ومن اعطاھم فقد حرمنا ومن حرمھم فقد اعطانا ۔یابن خالد من کان من شیعتنا فلا یتخذن منھم ولیا ولانصیرا‘‘(عیون اخبارالرضا:ج،۸،ص:۱۳۰)

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں ’’جس نے خدا کو کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی اور جبر کے عقیدے کو اختیا ر کیا وہ کافر ومشرک ہے ہم دنیا و آخرت میں اس سے بری ہیں۔

اے ابن خالد !غالی جنھوں نے اللہ کی عظمت کو چھوٹا کیا انہوں نے تشبیہ اور جبر کے عقیدے کے بارے میں ہماری طرف جھوٹی احادیث کو منسوب کیا پس جس نے غالیوں سے محبت کی اس نے ہم سے بغض رکھا جس نے غالیوں سے بغض رکھا اس نے ہم سے محبت کی۔جس نے غالیوں سے دوستی کی اس نے ہم سے دشمنی کی اورجس نے غالیوں سے دشمنی کی اس نے ہم سے دوستی کی ۔جس نے ان سے صلہ رحمی کی اس نے ہم سے قطع رحمی کی ،جس نے ان سے قطع تعلقی کی اس نے ہم سے صلہ رحمی کی۔جس نے ان سے بے رحمی کی اس نے ہم سے نیکی کی اور جس نے ان سے نیک سلوک کیا اس نے ہم سے بے رحمی کی ،جس نے غالیوں کی عزت وتکریم کی اس نے ہماری توہین کی اورجس نے ان کی توہین کی اس نے ہماری عزت وتکریم کی ،جس نے انہیں قبول کیا اس نے ہمیں ٹھکرادیا اور جس نے انہیں ٹھکرا دیا اس نے ہمیں قبول کر لیا۔جس نے ان کے ساتھ بھلائی کی اس نے ہمارے ساتھ برائی کی اور جس نے ان کے ساتھ برائی کی اس نے ہمارے ساتھ بھلائی کی۔جس نے ان کو سچا کہا اس نے ہمیں جھوٹا کہا اورجس ان کو جھوٹاکہا اس نے ہمیں سچا کہا ۔جس نے غالیوں کو عطا کیا اس نے ہمیں محروم رکھا اور جس ان کو محروم رکھا اس نے ہمیں عطا کیا ۔اے ابن خالد جو ہمارا شیعہ ہے وہ غالیوں کو اپنا دوست ومدد گار نہ بنائے۔

۲۔عن ابی ھاشم الجعفری قال سالت ابالحسن الرضا علیہ السلام عن الغلاۃ والمفوضۃ فقال الغلاۃ کفاروالمفوضۃمشرکون من جالسھم او خالطھم او آکلھم اوشاربھم او واصلھم او زوجھم او تزوج منھم او ائتمنھم علی امانۃ او صدق حدیثھم اواعانھم بشطرکلمۃ خرج ولایۃ اللہ عزوجل وولایۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ ولایتنا اہل بیت‘‘(عیون اخبار الرضا:ج۔۲،ص:۲۱۹)

ابوہاشم جعفری کہتاہے کہ میں نے امام رضا ؑ سے غالیوں اور مفوضہ کے بارے سوال کیا تو امام ؑ نے فرمایا غالی کفار ہیں اور مفوضہ مشرک ہیں ۔جو ان کے ساتھ بیٹھا اور ان کے ساتھ محبت کی ،ان کے ساتھ مل کر کھایا یا پیا ،ان کے ساتھ تعلقات رکھے یا انہیں اپنی عورتیں نکاح میں دیں ،ان سے شادی کی ،ان کا امین بنا ،ان کو امانت پر امین بنایا یا ان کی بات کی تصدیق کی یا آدھے کلمے کے ساتھ ان کی مدد کی تو وہ خداورسولؐ اور ہم اہل بیت ؑ کی ولایت سے باہر ہوگیا ۔

۳۔قال ابو عبداللہ جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام ’’ادنی مایخرج بہ الرجل من الایمان ان یجلس الی غال فیستمع الی حدیثہ ویصدقہ علی قولہ ان ابی حدثنی عن ابیہ عن جدہ علیھم السلام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ قال صنفان من امتی لا نصیب لھما فی الاسلام الغلاۃ والقدریۃ ‘‘(الخصال للصدوق:ج۔۱،ص:۷۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کم سے کم تر چیز جس کے ذریعہ کوئی مرد ایمان کے دائرے سے نکل جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی غالی کی مجلس میں بیٹھے اور اس کی بات کو غور سے سنے اور پھر اس کی گفتگو کی تصدیق کرے۔میرے والد نے اپنے والد گرامی سے انہوں نے اپنے جد امجد سے روایت بیا ن کی ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا میری امت میں سے دو قسم کے لوگوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔(یعنی مسلمان نہیں ہیں ) غالی اور قدریہ۔

۴۔عن ابی عمیر المفضل بن مزیدقال’’قال ابوعبداللہ الصادق علیہ السلام وذکر اصحاب ابی الخطاب،الغلاۃ فقال لی یا مفضل لاتقاعدوھم ولاتواکلوھم تشاربوھم ولاتصافحوھم ولاتؤاثروھم ‘‘(اختیار معرفۃ الرجال المعروف برجال کشی:ج۔۲،ص:۵۸۶)

ابن عمیرمفضل بن مزید نے امام صادق ؑ سے روایت کی ہے کہ امام صادق ؑ نے اصحاب ابی خطاب و غالیوں کا ذکر کیا تو مجھ سے فرمایا اے مفضل غالیوں کو اپنے پاس مت بٹھاؤ،ان کو اپنے ساتھ مت کھلاؤ پلاؤ ،ان کے ساتھ مصافحہ نہ کرو اور ان کو اپنے اوپر ترجیح مت دو۔

عبداللہ بن شریک نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ عنزہ قبیلے کی ایک عورت (ام عمرو )کے پاس امام علی ؑ تھے کہ قنبر امیرالمؤمنین ؑ کے پاس آیا اور کہا مولا دس افراد آپ کے دروازے پرکھڑے ہیں جو آپ کو رب کہتے ہیں۔امام ؑ نے فرمایا ان کو اندر لے آؤؤ ۔قنبر کہتاہے وہ دس افراد اندر آئے ۔

امام ؑ نے ان کو کہا تم کیا کہتے ہو؟تو انہوں نے کہا آپ ہمارے رب ہیں۔آپ ہی نے ہمیں خلق کیا ہے اور ہمیں رزق دیتے ہیں۔

تو امام علیہ السلام نے فرمایا تمہاری بربادی ہو ایسا نہ کرو میں تمہاری طرح خدا کی ایک مخلوق ہوں تو انہوں نے اپنے اندر سے اس عقیدے کو اکھاڑنے سے انکار کردیا۔امام علیہ السلام نے فرمایا :تمہاری بربادی ہو میرا اورتمہارا رب اللہ ہے۔تمہاری بربادی ہو توبہ کرو اور واپس صحیح عقیدے پہ آجاؤ ۔انہوں نے کہا ہم اپنے نظریے کو نہیں چھوڑتے ۔

آپ ہی ہمارے رب ہیں ۔ہمیں رزق دیتے ہیں اور آپ ہی نے ہمیں خلق کیا ہے ۔امام ؑ نے فرمایا اے قنبر کچھ مزدور لے آؤ ۔قنبر گیا اور دس افراد کو لے کر آیا ۔امام ؑ نے انہیں حکم دیا کے گڑھا کھو دو جب انہوں نے ایک معین حد تک گڑھا کھو د لیا تو امامؑ نے انہیں حکم دیا کہ لکڑیاں ڈالو اور آگ روشن کرو ۔جب آگ روشن ہو گئی اور آگ کے شعلے بھڑکنے لگے تو امام ؑ نے فرمایا تمہاری بربادی ہو توبہ کر لو اور واپس آجاؤ اپنے صحیح عقیدے پر۔مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا ہم اپنے نظریے سے نہیں ہٹتے ۔امام ؑ نے پہلے چند کو آگ میں پھینکا اور پھر باقیوں کو آگ میں ڈال دیا ۔(اختیار معرفۃ الرجال:ج۔۲،ص:۵۹۶)

Advertisements