alsadeqain.blogfa.com

موسسہ الصادقین فی الںجف الاشرف


علماء شیعہ کاغالیوں کے بارے میں نظریہ

علماء شیعہ کاغالیوں کے بارے میں نظریہ:

علماء امامیہ کا عقیدہ اور ان کے فتاوی بھی اسی روش پر موجود ہیں جس کی بنیاد اہل بیت علیہ السلام نے رکھی ہے ہم ذیل میں چند علماء کی آراء کو آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔

نبی اکرم ؐ اور آئمہ اطھار علیھم السلام میں غلو یہ ہے کہ ان کو رب کہا جائے یامعبودیت میں پیدا کرنے اور رزق دینے میں انہیں خدا کا شریک ٹھرایا جائے،یایہ کہا جائے کہ اللہ ان میں حلول کر گیا ہے یا اللہ اور یہ ہستیاں ایک ہی چیز ہیں یا یہ ہستیاں خداکی طرف سے الہام ووحی کے بغیر علم غیب جانتے ہیں ۔یا آئمہ علیھم السلام کو انبیاء کہنا یا تناسخ ارواح کاقائل ہونا (اس کا معنی سابقہ گفتگو میں گزر چکا ہے )یا یہ کہناکہ ان کی معرفت کے ساتھ اطاعت خدا کی ضرورت نہیں ہے۔اور انکی معرفت

کے ہوتے ہوئے معصیت کو چھوڑنے والی تکلیف نہیں ہے۔(یعنی معصیت انجام دے سکتے ہیں )یہ تمام عقائد اور نظریات کفروالحاد اور دین سے بغاوت ہیں جس پر عقلی دلیلوں وآیات وروایت نے دلالت کی ہے اوریہ بات آپ کو معلوم ہے کہ آئمہ علیھم السلام نے ان لوگوں سے برائت کااظہار کیا ہے،ان کے کفر کا حکم دیاہے اور انکے قتل کا فیصلہ سنایا ہے ۔اگر تمہارے کانوں تک ایسے وہم ڈالنے والی روایات پہنچیں تو ان کی تاویل کی جائے گی یاوہ غالیوں کی من گھڑت روایات ہیں۔‘‘(بحارالانوار:ج۔۲۵۔ص:۳۴۶)

ظاہری طور پر جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے یہ وہ غالی ہیں جو امیرالمؤمنینؑ اور ان کی ذریت اطہارؑ کی طرف ربوبیت اور نبوت کی نسبت دیتے ہیں اور دین و دنیا میں ان کے وہ فضائل بیان کئے ہیں کہ حد سے بڑھ گئے ہیں اور میانہ روی سے نکل گئے ہیں وہ گمراہ کافر ہیں ۔امیرالمؤمنین ؑ انہیں قتل کرنے اور آگ میں جلانے کا حکم دیا ہے اور باقی آئمہ اطہارؑ نے بھی ان کے کافر ہونے اور خروج عن الاسلام کا فیصلہ کیا ہے۔(تصحیح اعتقادات الامامیہ:ص۔۳۱)

’’غالیوں اور مفوضہ کے بارے ہماراعقیدہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے منکر ہیں غالی لوگ یہودیوں ،نصاری ،مجوس ،قدریہ ،حروریہ اور تمام اہل بدعت اور گمراہ کن خواہشات کی پیروی کرنے والے لوگوں سے بد تر ہیں جس طرح انہوں نے خداکی

عظمت کو کم تر کیا ایسے کسی نے نہیں کیا ۔‘‘(الاعتقادات فی دین الامامیہ:ص۔۹۷)

غالیوں کے چند گروہ ہیں ۔

کچھ امیرالمؤمنین ؑ یا آئمہؑ اطہار کی ربوبیت کے معتقد ہیں وہ عقید ہ رکھتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ہی رب جلیل ہیں ۔اور وہی معبود ہیں ،جو جسم کی صورت میں زمین پر نازل ہوئے ہیں اگر یہ عقیدہ کسی گروہ کے بارے میں ثابت ہوجائے تو ان افراد کے نجس اور کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔کیونکہ یہ عقیدہ خدائے واحد کی الوہیت کا انکار ہے ۔(التنقیح فی شرح العروۃالوثقی:ج،۳۔ص۔۷۳)

ان کے علاوہ دیگر علماء امامیہ نے بھی انکے کفر نجاست اور خروج عن الاسلام کے فتاوی دئیے ہیں مگر اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے فقط انہی بزرگان کے اقوال کو ذکر کیا ہے ۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر ایک انتہائی مہم ترین نکتہ کو محترم قارئین کے سامنے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ غلو کا دائرہ کا ریہ ہے کہ بشریت کی حدود سے بڑھ جانااور خدا کی صفات کو مخلوق طرف نسبت دینایہ غلو ہے ۔اور جو اختیارات خداوند عالم نے اہل بیت ؑ کو عطاء کئے ہیں اور اپنے خاص فیض سے انہیں بلند بالا فضائل وکمالات کی منزل تک پہنچایا ہے یہ غلو کی حد سے خارج ہے ۔یہ ہرگز غلو نہیں ہے ۔ان کی

عصمت ،ان کی ولایت تکوینی وتشریعی ،ان کا غیب کی خبریں دینا ،وغیرہ یہ مقامات اہل بیت ؑ اور اختیارات اہل بیت ؑ ہیں جن میں ہرگز غلو نہیں ہے اور جو مقامات اہل بیت ؑ کو اپنا عقیدہ سمجھتاہے اور اس عقیدے پر مناسب دلیل بھی رکھتا ہے تو اس عقیدے کو غلو کہنا بالکل غلط ہے۔کیونکہ اس قسم کے عقیدے میں بشریت کی حدود سے تجاوز نہیں ہے ۔ہم ان تمام اختیارات و مقامات کے باوجود بھی اہل بیت علیھم السلام کو خدا کی مخلوق سمجھتے ہیں ۔مگر عام مخلوق سے جدا ہیں خدا نے انہیں اپنی قدرت سے کچھ اختیارات سپرد کیے ہیں اور ان اختیارات کو اہل بیت علیھم السلام بوقت ضرورت اپنے رب کے اذن کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور وہ ان اختیارات کے استعمال کرنے میں ہرآن ،ہر گھڑی اپنے رب کی طرف محتاج ہیں ۔

لہذا ہرگز تعجب نہ کیجیے گا کچھ لوگ اگر اہل بیت ؑ کے ان اختیارات میں شک کرتے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ تمام مخلوق اس کی معرفت اور کنہ حقیقت کو جاننے سے قاصر ہے۔خود معصومین ؑ نے بارہافرمایا کہ لوگ اپنی عقول کے بل بوتے پر ہم تک نہیں پہنچ

سکتے اور اپنی آراء کے ذریعہ امامت کو درک نہیں کرسکتے ۔

پس ہمیں رب نہ کہو ،مخلوق کہو پھر جو مرضی ہے ہمارے بارے میں کہو پھر بھی تم ہمارے فضائل کی حدوں کو چھو نہیں سکتے ہو ،اور یہیں سے ہمیں درس توحید دیا کہ ہماری حدود معین ہونے کے باوجود تم ان معین حدود تک نہیں پہنچ سکتے تو وہ جو لامکان اورلامعین ہے ۔جسکی حدود نہیں ہیں اس تک کیسے پہنچ سکتے ہو۔

لہذا مومن کو چاہیے کہ ان کے فضائل کو سن کر جلدی نہ کرے کہ یہ تو غلو ہے ،کفر

ہے۔ہاں اگر وہ فضائل دین کے برعکس ہوں اور عقل کے خلاف ہوں تو ان کو رد کردو۔

اس مختصر سی گفتگو میں ہم نے غلو اور اسباب غلو اور غالیوں کے مختلف گروہوں پر اجمالی طور پر روشنی ڈالی ہے اور یہ بھی اجمالی طور پر بیان کیا ہے کہ اہل بیت کے اختیارات غلو وتفویض نہیں ہوتے ہیں

آ خر میں ہم دعا گو ہیں کہ اے رب ذوالجلال ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ ایزدی میں قبول فرما اور اس تحریر کے طفیل ہمارے معاشرے سے غلو اور تقصیر جیسے مہلک جراثیم کا خاتمہ فرما کرہماری قوم کو توحید کے راستے پر گامزن فرما ۔آمین

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

+

 نوشته شده در  چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ساعت 16:27  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


غالیوں کے بارے میں اہل بیت علیھم السلام کا نظریہ:

غالیوں کے بارے میں اہل بیت علیھم السلام کا نظریہ:

آئمہ اہل بیت علیھم السلام نے غالیوں کے بارے شدید ترین موقف اختیار کیا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا کہ اہل بیت علیھم السلام نے جس طرح غلو کے مسئلہ میں غالیوں کی مذمت کی ہے ایسی کسی اور مسئلہ میں مذمت نہیں کی ۔پوری قوت وشدت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور اس خطرناک بیماری کا متعدد انواع و مختلف طریقوں کے ساتھ علاج کیا ہے ۔

اور اس اہتمام کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی حکمرانوں نے غالیوں کو شیعہ کی صفوں میں داخل کیا تاکہ پوری امت کو یہ بیان کریں کہ شیعہ اپنے آئمہؑ کو خدا مانتے ہیں لہذا ان کا خون جائز ہے ،ان کا مال ،جان،عزت وآبرو مباح ہے اور تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔

اسی وجہ سے اہل بیت علیھم السلام نے اپنی احادیث اور مختلف انداز کے ذریعہ غالیوں اور ان کے عقائد کی بھر پور مذمت کرکے پورے عالم اسلام کو بتادیا کہ اس قسم کے عقائد رکھنے والوں کا مذھب جعفری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ لوگ ہماری صفوں میں داخل کر دئے گئے ہیں تاکہ شیعہ مذہب کو بدنام کریں اور انکے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا موجب بنیں ۔

اور آج کے اس جدید دور میں شیعہ کے خلاف جو فتوی بازی کا بازار گرم ہے یہ ہماری بات کی بہترین دلیل ہے ۔

یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے آئمہ علیھم السلام کو مجبور کیا کہ وہ غالیوں سے علی الاعلان برائت کا اظہار کریں اور ان پرکھلم کھلا لعن وطعن کریں اور ان کے کفر کا واضح حکم لگائیں اور آئمہؑ نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ کسی حالت میں ان کے ساتھ نہ بیٹھیں ،ان کی باتوں کی طرف کان نہ دھریں اور اس قسم کے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیں۔

ہم یہاں روایات کی چنداصناف کو بیان کررہے ہیں کہ آئمہ ؑ نے مختلف تعبیروں اورمختلف انداز سے غالیوں کا کس طرح مقابلہ کیا ہے۔

۱۔عن فضیل بن یسار ’’قال الصادق علیہ السلام ’’احذرو علی شبابکم الغلاۃ لایفسدونھم فان الغلاۃ شر خلق اللہ یصغرون اللہ ویدعون الربوبیۃ لعباداللہ واللہ ان الغلاۃ شر من الیھود والنصاری والمجوس والذین اشرکوا ثم قال علیہ السلام الینا یرجع الغالی فلا نقبلہ وبنا یلحق المقصر فنقبلہ فقیل لہ کیف ذلک یا رسول اللہ ؟

قال لان الغالی قد اعتاد ترک الصلاۃ والزکاۃ والصیام والحج فلا یقدر علی ترک عادتہ وعلی الرجوع الی طاعۃ اللہ عزوجل ابداوان المقصر اذا عرف عمل و اطاع۔(ترتیب الامالی:ج۔۳ص:۵۷،امالی الطوسی المجلس ۳۳)

امام صادق ؑ نے فرمایا ’’اپنے جوانوں کو غالیوں سے بچاؤ کہ وہ انہیں فاسد العقیدہ نہ بنا دیں کیونکہ غالی خدا کی بد ترین مخلوق ہے جو خدا کو چھوٹا سمجھتی ہے اور خداکے بندوں کو رب کہتے ہیں ۔خدا کی قسم غالی ،یہودیوں ،نصاری ،مجوس ومشرکوں سے بد تر ہیں ۔پھر امام ؑ نے فرمایا ،غالی ہماری طرف پلٹے گا مگر ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور مقصر بھی ہم سے ملحق ہو گا پس ہم اسے قبول کر لیں گے۔

کسی نے امام ؑ سے کہا ۔اے فرزند رسول ؐیہ کیسے ہوگا؟

امام علیہ السلام نے فرمایا کیونکہ نماز نہ پڑھنا ،زکات ادانہ کرنا،روزہ وحج کو چھوڑدینایہ غالی کی عادت بن چکی ہے اور اب وہ اپنی عادت کو چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا اور کبھی بھی اطاعت خدا کے راستے کی طرف پلٹنے کی طاقت نہیں رکھتا اور مقصر کو اپنی تقصیر کا علم ہوجائے تو اس پر عمل بھی کرے گااور اطاعت خدا بھی کریگا۔‘‘

۲۔عن الاصبغ بن نباتۃقال امیرالمؤمنین علیہ السلام ’’اللھم انی بریء من الغلاۃ کبراءۃ عیسی بن مریم من النصاری اللھم اخذلھم ابداولاتنصرمنھم احدا‘‘(ترتیب الامالی:ج۔۳۔ص:۵۸،امالی الطوسی المجلس۳۳)

اصبغ بن نباتہ نے امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ’’میں غالیوں سے ایسے بیزار ہوں جیسے عیسی بن مریم نصاری سے بیزار تھے۔اے اللہ تو ہمیشہ انہیں ذلیل ورسوا کر اور ان میں کسی کی مدد نہ کر ۔‘‘

۳۔عن مسعدۃ بن صدقۃ قال حدثنی جعفر بن محمد عن ابیہ علیھما السلام قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ ’’صنفان لاتنالھما شفاعتی سلطان غشوم عسوف غال فی الدین مارق منہ غیر تائب‘‘۔(قرب الاسناد:ص ۔۶۴)

امام جعفر صادق ؑ نے اپنے والد گرامی سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا کہ’’دو قسم کے گروہ ایسے ہیں جنکو میری شفاعت نہیں پہنچ سکتی ۔ایک ایسا بادشاہ جو دوسروں کو بے وقوف بنا کر جو ہاتھ لگے لے لے ،متشدد وظالم ۔دوسرا دین میں غلو کرنے والا ،دین سے الگ ہو جانے والا ،توبہ نہ کرنے والا۔‘‘

اس ضمن میں ہم چند ایک روایات کو پیش کرتے ہیں ۔

۱۔عن ابی عبداللہ الصادق یقول’’لعن اللہ المغیرۃ بن سعید انہ کان یکذب علی ابی فاذاقہ اللہ حرالحدید لعن اللہ من قال فینا مالا نقولہ فی انفسنا ولعن اللہ من ازالنا عن العبودیۃ للہ الذی خلقنا والیہ مآبناومعادنا‘‘(اختیار معرفۃ الرجال المعروف رجال کشی:ج۔۲،ص:۵۹۰)

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں ’’اللہ مغیرہ بن سعید پر لعنت کرے اس نے میرے والد گرامی پر جھوٹی تہمت لگائی۔خدا نے اس کو لوہے کی گرمی کامزہ چکھایا،خدا ہر اس پرلعنت کرے جس نے ہمارے بارے وہ کچھ کہا جو ہم اپنے بارے نہیں کہتے اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے ہمیں مقام عبودیت سے دور کردیا اسی اللہ نے ہمیں خلق کیا ہے ۔ اسی کی طرف ہماری بازگشت ہے اور اسی کے پاس ہمارا ٹھکانا ہے۔

۲۔قال ابو الحسن الرضاعلیہ السلام کان بنان یکذب علی علی بن الحسین علیھما السلام فاذاقہ اللہ حراالحدید وکان المغیرۃبن سعید یکذب علی ابی جعفر علیہ السلام فاذاقہ اللہ حراالحدید وکان محمد بن بشیر یکذب علی ابی الحسن موسی علیہ السلام فاذاقہ اللہ حراالحدید والذی یکذب علی محمد بن فرات‘‘۔(اختیار معرفۃ الرجال:ج۔۲،ص:۵۹۱)

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں ’’بنان امام زین العابدین ؑ پرجھوٹ بولتا تھا پس خدا نے اسے لوہے کی گرمی کا مزہ چکھایا ہے ۔مغیرہ بن سعید میرے والد امام محمد باقر ؑ پر جھوٹ بولتا تھا پس خدا نے اسے لوہے کی گرمی کا مزہ چکھایا ،محمد بن بشیر میرے والد امام موسی کاظم ؑ پر جھوٹ بولتا تھا پس خدا نے اسے گرمی کا مزہ چکھایااور جو مجھ پر جھوٹ بولتا ہے وہ محمد بن فرات ہے۔‘‘

۳۔عن یونس قال لی ابوالحسن الرضا علیہ السلام’’ یا یونس اما تری الی محمد بن الفرات مایکذب علی؟فقلت ابعدہ اللہ واسحقہ واشقاہ فقال قد فعل اللہ ذلک بہ اذاقہ اللہ حرالحدید کما اذاق من کان قبلہ ممن کذب علینا یا یونس انما قلت ذلک لتحذر عنہ اصحابی وتامرھم بالعنہ وابراءۃ منہ فان اللہ بریء منہ ‘‘(اختیار الرجال:ج۔۲،ص:۸۲۹)

یونس کہتا ہے مجھے امام رضا علیہ السلام نے فرمایا اے یونس کیا تو محمد بن فرات اور اس کے مجھ پر بولے گئے جھوٹ کو نہیں دیکھتا ؟میں نے کہاخدا اس کو دور کرے اور اس کو ہلاک کرے اور تنگی اور پریشانی میں مبتلا کرے ۔پس امام ؑ نے فرمایا خدا نے یہ سب کچھ اس کے ساتھ کیا ہے خدا اس کو لوہے کی گرمی کا مزہ چکھائے جیسے اس سے پہلے ہم پر جھوٹ بولنے والوں کے ساتھ کیا ہے ۔‘‘

۴۔حنان بن سدیر کہتا ہے ۱۳۸ہجری کی بات ہے کہ میں امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں تھا میسر بھی امام ؑ کے پاس تھا میسربیاع الزطی نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں تعجب ہے مجھے ایک قوم پر جو ہمارے ساتھ اس مقام پر آتے تھے ان کے آثار مٹ گئے ،ان کی عمریں فنا ہو گئیں ۔امام ؑ نے کہا کون لوگ تھے؟میں نے کہا ابولخطاب اور اس کے اصحاب امام ؑ ٹیک لگاکر تشریف فرماتھے اپنی انگشت مبارک کو آسمان کیا طرف بلند کیا اور فرمایا :

’’علی ابی الخطاب لعنۃاللہ والملائکۃ والناس اجمعین فاشھد باللہ انہ کافر فاسق مشرک وانہ یحشر مع فرعون فی اشد العذاب غدواوعشیا‘‘(اختیار معرفۃ الرجال:ج۔۲،ص:۵۸۴)

امام علیہ السلام نے فرمایا’’ ابو خطاب کے اوپر اللہ ،اس کے ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو میں خدا کو گواہ ٹھہراکر کہتا ہوں وہ کافر فاسق،مشرک تھا وہ صبح شا م سخت ترین عذاب کی حالت میں فرعون کے ساتھ محشور ہوگا۔‘‘

عن ابی الحسن علی بن موسی الرضا علیہ السلا م قال’’من قال بالتشبیہ واالجبر فھو کافر ومشرک ونحن منہ براء فی الدنیا والاخرۃ یا ابن خالد انما وضع الاخبار عنا فی التشبیہ والجبر الغلاۃ الذین صغرواعظمۃ اللہ تعالی فمن احبھم فقد ابغضنا ومن ابغضھم فقد احبنا ومن والا ھم فقد عادانا ومن عاداھم فقد والانا ومن وصلھم فقد قطعنا ومن قطعھم فقد وصلنا ومن جفاھم فقد برّنا ومن برّھم فقد جفانا ومن اکرمھم فقد اھاننا ومن اھانھم فقداکرمنا ومن قبلھم فقد ردنا ومن ردھم فقد قبلنا ومن احسن الیھم فقد اساء الینا ومن اساء الیھم فقد احسن الینا ومن صدقھم کذبنا ومن کذبھم فقد صدقنا ومن اعطاھم فقد حرمنا ومن حرمھم فقد اعطانا ۔یابن خالد من کان من شیعتنا فلا یتخذن منھم ولیا ولانصیرا‘‘(عیون اخبارالرضا:ج،۸،ص:۱۳۰)

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں ’’جس نے خدا کو کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی اور جبر کے عقیدے کو اختیا ر کیا وہ کافر ومشرک ہے ہم دنیا و آخرت میں اس سے بری ہیں۔

اے ابن خالد !غالی جنھوں نے اللہ کی عظمت کو چھوٹا کیا انہوں نے تشبیہ اور جبر کے عقیدے کے بارے میں ہماری طرف جھوٹی احادیث کو منسوب کیا پس جس نے غالیوں سے محبت کی اس نے ہم سے بغض رکھا جس نے غالیوں سے بغض رکھا اس نے ہم سے محبت کی۔جس نے غالیوں سے دوستی کی اس نے ہم سے دشمنی کی اورجس نے غالیوں سے دشمنی کی اس نے ہم سے دوستی کی ۔جس نے ان سے صلہ رحمی کی اس نے ہم سے قطع رحمی کی ،جس نے ان سے قطع تعلقی کی اس نے ہم سے صلہ رحمی کی۔جس نے ان سے بے رحمی کی اس نے ہم سے نیکی کی اور جس نے ان سے نیک سلوک کیا اس نے ہم سے بے رحمی کی ،جس نے غالیوں کی عزت وتکریم کی اس نے ہماری توہین کی اورجس نے ان کی توہین کی اس نے ہماری عزت وتکریم کی ،جس نے انہیں قبول کیا اس نے ہمیں ٹھکرادیا اور جس نے انہیں ٹھکرا دیا اس نے ہمیں قبول کر لیا۔جس نے ان کے ساتھ بھلائی کی اس نے ہمارے ساتھ برائی کی اور جس نے ان کے ساتھ برائی کی اس نے ہمارے ساتھ بھلائی کی۔جس نے ان کو سچا کہا اس نے ہمیں جھوٹا کہا اورجس ان کو جھوٹاکہا اس نے ہمیں سچا کہا ۔جس نے غالیوں کو عطا کیا اس نے ہمیں محروم رکھا اور جس ان کو محروم رکھا اس نے ہمیں عطا کیا ۔اے ابن خالد جو ہمارا شیعہ ہے وہ غالیوں کو اپنا دوست ومدد گار نہ بنائے۔

۲۔عن ابی ھاشم الجعفری قال سالت ابالحسن الرضا علیہ السلام عن الغلاۃ والمفوضۃ فقال الغلاۃ کفاروالمفوضۃمشرکون من جالسھم او خالطھم او آکلھم اوشاربھم او واصلھم او زوجھم او تزوج منھم او ائتمنھم علی امانۃ او صدق حدیثھم اواعانھم بشطرکلمۃ خرج ولایۃ اللہ عزوجل وولایۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ ولایتنا اہل بیت‘‘(عیون اخبار الرضا:ج۔۲،ص:۲۱۹)

ابوہاشم جعفری کہتاہے کہ میں نے امام رضا ؑ سے غالیوں اور مفوضہ کے بارے سوال کیا تو امام ؑ نے فرمایا غالی کفار ہیں اور مفوضہ مشرک ہیں ۔جو ان کے ساتھ بیٹھا اور ان کے ساتھ محبت کی ،ان کے ساتھ مل کر کھایا یا پیا ،ان کے ساتھ تعلقات رکھے یا انہیں اپنی عورتیں نکاح میں دیں ،ان سے شادی کی ،ان کا امین بنا ،ان کو امانت پر امین بنایا یا ان کی بات کی تصدیق کی یا آدھے کلمے کے ساتھ ان کی مدد کی تو وہ خداورسولؐ اور ہم اہل بیت ؑ کی ولایت سے باہر ہوگیا ۔

۳۔قال ابو عبداللہ جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام ’’ادنی مایخرج بہ الرجل من الایمان ان یجلس الی غال فیستمع الی حدیثہ ویصدقہ علی قولہ ان ابی حدثنی عن ابیہ عن جدہ علیھم السلام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ قال صنفان من امتی لا نصیب لھما فی الاسلام الغلاۃ والقدریۃ ‘‘(الخصال للصدوق:ج۔۱،ص:۷۲)

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کم سے کم تر چیز جس کے ذریعہ کوئی مرد ایمان کے دائرے سے نکل جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی غالی کی مجلس میں بیٹھے اور اس کی بات کو غور سے سنے اور پھر اس کی گفتگو کی تصدیق کرے۔میرے والد نے اپنے والد گرامی سے انہوں نے اپنے جد امجد سے روایت بیا ن کی ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا میری امت میں سے دو قسم کے لوگوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔(یعنی مسلمان نہیں ہیں ) غالی اور قدریہ۔

۴۔عن ابی عمیر المفضل بن مزیدقال’’قال ابوعبداللہ الصادق علیہ السلام وذکر اصحاب ابی الخطاب،الغلاۃ فقال لی یا مفضل لاتقاعدوھم ولاتواکلوھم تشاربوھم ولاتصافحوھم ولاتؤاثروھم ‘‘(اختیار معرفۃ الرجال المعروف برجال کشی:ج۔۲،ص:۵۸۶)

ابن عمیرمفضل بن مزید نے امام صادق ؑ سے روایت کی ہے کہ امام صادق ؑ نے اصحاب ابی خطاب و غالیوں کا ذکر کیا تو مجھ سے فرمایا اے مفضل غالیوں کو اپنے پاس مت بٹھاؤ،ان کو اپنے ساتھ مت کھلاؤ پلاؤ ،ان کے ساتھ مصافحہ نہ کرو اور ان کو اپنے اوپر ترجیح مت دو۔

عبداللہ بن شریک نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ عنزہ قبیلے کی ایک عورت (ام عمرو )کے پاس امام علی ؑ تھے کہ قنبر امیرالمؤمنین ؑ کے پاس آیا اور کہا مولا دس افراد آپ کے دروازے پرکھڑے ہیں جو آپ کو رب کہتے ہیں۔امام ؑ نے فرمایا ان کو اندر لے آؤؤ ۔قنبر کہتاہے وہ دس افراد اندر آئے ۔

امام ؑ نے ان کو کہا تم کیا کہتے ہو؟تو انہوں نے کہا آپ ہمارے رب ہیں۔آپ ہی نے ہمیں خلق کیا ہے اور ہمیں رزق دیتے ہیں۔

تو امام علیہ السلام نے فرمایا تمہاری بربادی ہو ایسا نہ کرو میں تمہاری طرح خدا کی ایک مخلوق ہوں تو انہوں نے اپنے اندر سے اس عقیدے کو اکھاڑنے سے انکار کردیا۔امام علیہ السلام نے فرمایا :تمہاری بربادی ہو میرا اورتمہارا رب اللہ ہے۔تمہاری بربادی ہو توبہ کرو اور واپس صحیح عقیدے پہ آجاؤ ۔انہوں نے کہا ہم اپنے نظریے کو نہیں چھوڑتے ۔

آپ ہی ہمارے رب ہیں ۔ہمیں رزق دیتے ہیں اور آپ ہی نے ہمیں خلق کیا ہے ۔امام ؑ نے فرمایا اے قنبر کچھ مزدور لے آؤ ۔قنبر گیا اور دس افراد کو لے کر آیا ۔امام ؑ نے انہیں حکم دیا کے گڑھا کھو دو جب انہوں نے ایک معین حد تک گڑھا کھو د لیا تو امامؑ نے انہیں حکم دیا کہ لکڑیاں ڈالو اور آگ روشن کرو ۔جب آگ روشن ہو گئی اور آگ کے شعلے بھڑکنے لگے تو امام ؑ نے فرمایا تمہاری بربادی ہو توبہ کر لو اور واپس آجاؤ اپنے صحیح عقیدے پر۔مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا ہم اپنے نظریے سے نہیں ہٹتے ۔امام ؑ نے پہلے چند کو آگ میں پھینکا اور پھر باقیوں کو آگ میں ڈال دیا ۔(اختیار معرفۃ الرجال:ج۔۲،ص:۵۹۶)

+

 نوشته شده در  چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ساعت 16:25  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


اہل بیت ؑ کے حق میں غالیوں کے کلمات

اہل بیت ؑ کے حق میں غالیوں کے کلمات:
آئمہ اہل بیت ؑ کے حق میں غالیوں کے مختلف نظریات ہیں کبھی ان کے رب ہونے،نبی ہونے اور تفویض کا دعوی کرتے ہیں کبھی حلول وتناسخ ارواح اہل بیت ؑ کا دعوی کرتے ہیں۔ہم قارئین محترم کی خدمت میں ان کے چند نظریات کو بیان کررہے ہیں تاکہ ان کا جواب ذکر کیا جائے۔پہلا نظریہ:نبی ؐیا امامؑ کے لیے الوہیت و رب ہونے کا دعویٰ:غالیوں کے مشہور نظریات میں سے یہ ہے کہ وہ خاص طور پر علی بن ابیطالب ؑ کے رب ہونے اور عمومی طور پر تمام آئمہ ؑ کے رب ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ابوالحسن کہتا ہے :’’من اصناف الغالیۃ یزعمون ان علیا ھو اللہ۔‘‘(مقالات الاسلامین واختلاف المصلین ص۱۴)غالیوں کی اقسام میں سے ایک یہ ہے کہ وہ علی بن ابی طالب ؑ کے رب ہونے کا گمان کرتے ہیں۔انہی میں سے ایک ابو خطاب ہے جو یہ گمان کرتاتھا:’’ان الائمۃ کانوا انبیاء ثم زعم انھم الھۃ وان اولاد الحسن والحسین کانوا ابناء اللہ واحباء ہ۔‘‘(بحوث فی الملل والنحل،الشیخ جعفر سبحانی ج۷ص۱۶)آئمہ ؑ انبیاء تھے پھر اس نے گمان کیا کہ آئمہ ؑ خدا ہیں اور امام حسن ؑ و حسین ؑ کی اولاد اللہ کے بیٹے اور ان کے پسندیدہ ہیں۔شیخ مفیدؒ نے اسی نظریہ کو یوں بیان کیا ہے ’’غالیوں میں سے کچھ ظاہری اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں جنھوں نے امیر المومنین ؑ اور انکی ذریت طاہرہ کی طرف الوہیت کی نسبت دی ہے انھوں نے دین ودنیامیں ان کے لیے ایسے فضائل بیان کیے کہ حد سے بڑھ گئے میانہ روی سے نکل گئے۔‘‘(تصحیح اعتقادات الامامیۃ ص۱۳۱)احمد بن حنبل نے امام علی ؑ سے روایت کی ہے :’’قال لی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیک مثل من عیسیٰ ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبّتہ النصاری حتی انزلوہ بالمنزلۃ اللتی لیس بہ ثم قال یھلک فیّ رجلان محب مطری یقرطنی بما لیس فیّ ومبغض مفتر یحملہ شنانی علی ان یبھتنی۔‘‘(مسند احمد بن حنبل ج۱ص۱۶۰)امام ؑ نے فرمایا:’’رسول خدا ؐنے مجھے کہا تم میں عیسیٰ ؑ کے ساتھ شباہت ہے۔یہودیوں نے جناب عیسیٰ ؑ سے اتنا بغض کیاکہ انکی مادر کو چونکا دیا۔نصاری نے اتنی محبت کی کہ جو جناب عیسیٰ کا مقام تھا اس سے گرادیا۔‘‘پھر مولا علی ؑ نے فرمایا:’’دو قسم کے افراد میرے بارے میں ہلاک ہوں گے ایسا حد سے زیادہ محب جو ایسی چیز کے ساتھ میری تعریف کرتاہے جو میرے اندر نہیں ہے اور دوسرا ایسا بغض ونفرت کرنے والا جسکی نفرت اسے میرے خلاف اتنا اکساتی ہے کہ مجھے چونکا دیتی ہے۔‘‘الحاکم نے المستدرک میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔وعن الصادق علیہ السلام عن آباۂ علیہم السلام قال قال رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم یاعلی مثلک فی امتی مثل عیسیٰ بن مریم افترق قومہ ثلاث فرق فرقۃ مؤمنون وھم الحواریون وفرقۃ عادوہ وھم الیھود وفرقۃ غلوا فیہ فخرجوا عن الایمان وان امتی ستفترق فیک ثلاث فرق ففرقۃ شیعتک وھم المؤمنون وفرقۃ عدوک وھم الشاکون وفرقۃ تغلوفیک وھم الجاحدون۔(بحارالانوارج۲۵ص۲۶۴)امام صادقؑ نے اپنے آباو اجداد سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا ؐنے فرمایا:’’اے علی ؑ میری امت میں تجھے جناب عیسیٰ ؑ سے شباہت ہے۔عیسیٰ ؑ کی قوم تین گروہوں میں تقسیم ہوگئی ایک گروہ جو مؤمن تھا وہی عیسیٰ ؑ کے حواری تھے ۔ایک گروہ عیسیٰ ؑ کا دشمن تھا وہ یہودی تھے۔ایک گروہ انکے حق میں غالی تھا پس وہ دائرہ ایما ن سے نکل گئے اور میری امت بھی تجھ میں تین فرقوں میں تقسیم ہوگئی ایک گروہ وہ ہے جو تیرے شیعہ ہوں گے وہی مؤمنین ہیں ایک گروہ تیرا دشمن ہوگا وہی تیرے فضائل میں شک کریں گے اور ایک گروہ تجھ میں غلو کرے گا اور وہی منکر ہوں گے۔‘‘اس نظریہ کو شدت سے باطل کرنے کے لیے اہل بیت ؑ نے خاص طور پر اہتمام کیااور مختلف احادیث میں اپنے عبد ہونے کوذکر کیا ہے۔ذیل میں ہم چند احادیث کو اس ضمن میں بیان کررہے ہیں۔(۱)قال امیر المؤمنین علیہ السلام ایّاکم والغلو فینا قولوا انا عبید مربوبون و قولوافی فضلنا ما شئتم۔(بحارالانوارج۲۵ص۲۷۰)امیر المؤمنین ؑ نے فرمایا:’’خبردار ہم میں غلو نہ کرنا ہمارے بارے میںیہ عقید ہ رکھوکہ ہم اس کے بندے ہیں وہ ہمارا پالنے والا ہے پھر ہماری فضیلت میں جو چاہو تم کہو۔‘‘(۲)قال الامام الصادق علیہ السلام ان لنارباً یکلأنا بالیل والنھار نعبدہ یا مالک ویاخالد قولوا فینا ماشئتم و اجعلونا مخلوقین۔(بحارالانوار ج۲۵ص۲۸۹)امام صادقؑ نے فرمایا:’’ہمارا ایک رب ہے جو رات اور دن ہماری حفاظت کرتا ہے ہم اس کی ہی عبادت کرتے ہیں اے مالک وخالدہمیں مخلوق کے درجے پر رکھ کرجو کچھ مرضی کہو۔‘‘(۳)عن حنان بن سدیر عن ابیہ قال قلت لابی عبداللہ الصادق علیہ السلام ان قوماًیزعمون انکم آلھۃ قال یاسدیر سمعی وبصری وشعری وبشری ولحمی ودمی من ھولاء براء وبری اللہ منھم ورسولہ ماھولاء علی دینی ودین آبائی واللہ لایجمعنی وایّاھم یوم القیامۃ الّا وھو علیھم ساخط۔قال قلت فما انتم جعلت فداک۔قال خزان علم اللہ وتراجمۃ وحی اللہ ونحن قوم معصومون امراللہ بطاعتنا ونھیٰ عن معصیتنا نحن الحجۃالبالغۃ علی من دون السماء وفوق الارض۔(بحارالانوار ج۲۵ص۲۹۸)حنان بن سدیر نے اپنے والدسے نقل کیا ہے کہ میں نے امام صادقؑ کو کہا کچھ لوگ آپ کو معبود کہتے ہیں تو امام ؑ نے فرمایا:’’اے سدیر میرے کان،میری آنکھیں،میری جلد،میرا گوشت،میرا خون سب کچھ ان لوگوں سے بری ہے اور اللہ اور اس کے رسولؐ ان سے بری ہیں یہ لوگ میرے اور میرے آباواجداد کے دین پر نہیں ہیں اللہ مجھے اور انہیں قیامت کے دن اکٹھا نہیں کرے گا مگر خدا ان پر غضبناک ہوگا۔‘‘سدیر کہتا ہے میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں آپ کون ہیں؟فرمایا:’’ہم اللہ کے علم کے خزانے ،وحی خدا کے ترجمان ہیں ہم معصوم قوم ہیں ہماری اطاعت کا اللہ نے حکم دیاہے ،ہماری معصیت سے روکا ہے۔آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہم ہر چیز پر اللہ کی حجت بالغہ ہیں۔‘‘(۴)عن ابن مسکا ن من اصحابنا عن ابی عبد اللہ الصادق علیہ السلام قال سمعتہ یقول لعن اللہ المغیرۃ بن سعید انہ کان یکذب علی ابی فأذاقہ اللہ حر الحدید لعن اللہ من قال فینا مالانقول فی انفسنا ولعن اللہ من ازال عنا العبودیۃ للہ الذی خلقنا الیہ مآبناومعادناوبیدہ نواصینا۔(اختیارمعرفۃ الرجال ج۲ص۴۸۹)ابن مسکان کہتا ہے میں نے امام صادقؑ کو کہتے سنا :’’خدا مغیرہ بن سعیدہ پر لعنت کرے جو میرے والد پر غلط الزام لگاتا تھا۔خدا اسے لوہے کی تپش کامزہ چکھائے خدا لعنت کرے اس پر جو ہمارے بارے میں ایسی باتیں کرے جو ہم اپنے بارے میں نہیں کہتے۔خدا لعنت کرے اس پر جس نے ہمیں بندگی کے مرتبے سے ہٹا دیا۔خدا ہی نے ہمیں خلق کیا اسی کی طرف ہمارا ٹھکانا اور بازگشت ہے ہماری پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔‘‘ایک شخص نے امام رضا ؑ سے کہا :’’اے فرزند رسول ؐ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ہمارے ساتھ ایک شخص ہے جو آپ کی محبت کادم بھرتا ہے لیکن گمان کرتاہے کہ علی ؑ ہی کائنات کے رب و اللہ ہیں۔‘‘جب امام رضا ؑ نے یہ بات سنی تو ان کے شانے کا گوشت گھبرا کر پھڑکنے لگا۔اما م ؑ کا پسینہ ٹپکنے لگا اور فرمایا:’’سبحان اللہ سبحان اللہ عما یقول الظالمون علواًکبیراً او لیس کان علی علیہ السلام آکلاً فی آکلین وشاربا فی الشاربین وناکحا فی الناکحین ومحدثا فی المحدثین وکان مع ذلک مصلیا خاضعا بین یدی اللہ ذلیلا والیہ اوّاھا منیبا أفمن کان ھذا صفتہ یکون الھا فان کان ھذا الھا فلیس منکم احدا الاوھوالہ لمشارکتہ لہ فی الصفات الدالات علی حدث کل موصوف بھا۔‘‘پاکیزہ ہے وہ ذات،پاکیزہ ہے وہ ذات ظالموں کی ان بڑی باتوں سے جو وہ کہتے ہیں۔کیا علی ؑ عام لوگوں کی طرح کھانا نہیں کھاتے تھے۔عام لوگوں کی طرح پانی نہیں پیتے تھے،عام لوگوں کی طرح نکاح نہیں کرتے تھے،عام لوگوں کی طرح کلام نہیں کرتے تھے اور خبر نہ دیتے تھے اور اس کے باوجود وہ اپنے رب کے سامنے خضوع وانکساری کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اسی سے زیادہ دعائیں کرنے والے خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے جو ان صفات کا مالک ہو کیا وہ خدا ہوتاہے؟اگر خدا اس قسم کا ہوتا ہے تو تم میں سے ہر ایک خدا ہے کیونکہ ہر ایک علی ؑ کے ساتھ ان صفات میں شریک ہے۔‘‘قال امیر المؤمنین علیہ السلام لاتتجاوزوا بنا العبودیۃ ثم قولواماشئتم ولن تبلغوا۔(الاحتجاج،ج۲ص۲۳۳)امیر المؤمنین ؑ نے فرمایا:’’ہمیں عبودیت و بندگی کی حدود سے مت بڑھاؤ پھر جو مرضی ہے کہو تب بھی تم ہمارے فضائل کی حدود تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘نوٹ:متعدد آیات میں آئمہ ؑ نے یہ کلمہ ارشاد فرمایا:’’ہمارے بارے میں جو مرضی ہے کہو ‘‘اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو عقلی قواعد وقطعی نصوص کے مطابق نہ ہو وہ بھی آئمہ ؑ کے حق میں کہی جائے۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے کمالات وفضائل اعدادوشمار سے بلند ہیں بلکہ بعض تو ایسے ہیں جن کو تمہاری عقلیں درک نہیں کرسکتیں اسی وجہ سے اس گذشتہ حدیث کے ذیل میں فرمایا(ولن تبلغوا)تم ہمیں مخلوق کے درجے پر رکھ کرجو مرضی کہو تب بھی ہمارے فضائل کی حدود تک پر نہیں مار سکتے۔ایک مقام پر امیر المؤمنین علی ؑ نے ابوذرغفاری کو اپنا تعارف کروایا۔’’یااباذراناعبداللہ عزوجل وخلیفتہ علی عبادہ لا تجعلونا ارباباًوقولوا فی فضلنا ما شئتم فانکم لاتبلغون کنہ مافینا ولانھایتہ فان اللہ عزوجل قد اعطانا اکبرواعظم مما یصفہ واصفکم اویخطرعلی قلب احدکمفاذاعرفتمونا ھکذا فانتم المؤمنون۔‘‘(بحارالانوار ج۲۶ص۲)’’اے ابو ذر میں خدا کا بندہ اور اس کی مخلوق پر اس کا خلیفہ ہوں،ہمیں رب مت بناؤ ہماری فضیلت میں جو کچھ کہنا ہے کہو ہمارے اندر موجود فضائل وخصائص کی کنہ حقیقت کو درک نہیں کرسکتے اور نہ انکی انتہاء تک پہنچ سکتے ہو۔تعریف کرنے والوں کی تعریفوں سے کہیں بزرگ وعظیم تراللہ نے جو ہمیں عطا کیاہے اور تمھارے دل کے خیالوں میں بھی وہ نہیں ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے اگر تم نے اس طرح ہماری معرفت حاصل کرلی تو تم مؤمن ہو۔‘‘عن کامل التمارقال کنت عند ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام ذات یوم فقال لی یاکامل اجعلوالنا ربا نؤوب الیہ وقولوافینا ماشئتم۔کامل تمار کہتا ہے:’’ میں ایک دن امام صادقؑ کے پاس تھا امام ؑ نے مجھے کہا اے کامل !ہمارے لیے ایک ایسا رب مانوجس کی ہم اطاعت وفرمانبرداری کریں پھرہم میں جو کچھ مرضی ہے کہو۔کامل کہتاہے ہم آپ کے لیے ایک رب مانیں جسکی آپ اطاعت وفرمانبرداری کریں اور آپ کے بارے جو کچھ مرضی ہے کہیں؟امام ؑ سیدھے ہو کر بیٹھے اور فرمایا:’’ماخرج الیکم من علمنا الاالفا غیرمعطوفۃ‘‘’’ہمارے علم سے تمھاری طرف آدھا حرف بھی نہیں پہنچا ہے۔(یعنی بہت کم پہنچا ہے)‘‘آخری روایت کو ذکر کرکرکے ہم اس پہلے نظریہ اور اسکے جواب پر اکتفاکرتے ہیں۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعلی علیہ السلام:’’لولا انی أخاف ان یقال فیک ماقالت النصاری فی المسیح لقلت الیوم فیک مقالۃ لاتمر بملاء المسلمین الا اخذوا تراب نعلیک وفضل وضوئک لیستشغون بہ ولکن حسبک ان تکون منی وانا منک ترثنی وارثک۔‘‘(بحارالانوار ج۲۵ص۲۸۴)’’رسول خدا ؐنے امام علی ؑ کو فرمایا:’’اے علی ؑ اگر مجھے تیرے بارے یہ ڈرنہ ہوتا جونصاری نے مسیح کے بارے میں کہا تو آج میں تیرے بارے وہ عقیدہ بیان کرتا کہ آپ مسلمانوں کی جس جماعت سے گزرتے وہ لوگ آپ کی نعلین مبارک کی مٹی اٹھا لیتے، آپکے وضو کے باقی ماندہ پانی سے شفا حاصل کرتے مگر آپ(فضائل)کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ مجھ سے ہیں اور میںآپ سے ہوں آپ میرے وارث ہیں اور میں آپ کا وارث ہوں۔‘‘دوسرا نظریہ:اہل بیت ؑ کے لیے نبوت کا دعویٰ:غالیوں کے ایک دوسرے گروہ نے آئمہ ؑ کے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جیسے سدیر سے منقول ایک روایت میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے۔قال:’’قلت لابی عبداللہ الصادق علیہ السلام عندنا قوم یزعمون انکم رسل یقرؤون علینا بذلک قرآناًیاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحاًانی بما تعملون علیم(المؤمنون۵۱)(الاصول الکافی ج۱ص۲۶۹)‘‘سدیر کہتا ہے:’’ میں نے امام صادقؑ سے کہا کچھ لوگ آپ کو رسول کہتے ہیں،ہمارے اوپر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں’’اے پیغمبر پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل صالح بجالاؤ جو عمل تم کرتے ہو میں اسے خوب جاننے والا ہوں۔‘‘اہل بیت ؑ نے بڑے زور وشور کے ساتھ اس نظریہ کی مذمت کی ہے اور اس قسم کے افراد پر لعن وطعن کی ہے۔اسی گذشتہ حدیث کے ذیل میں امام ؑ نے ان کی مذمت کی ہے اور ان سے برأت کا اعلان کیا ہے۔عن الامام الرضا علیہ السلام حیث قال’’ من ادعی للانبیاء ربوبیۃ وادعی للائمۃ ربوبیۃ اونبوۃ اولغیر الائمۃ امامۃ فنحن براء منہ فی الدنیاوالاخرۃ۔‘‘(عیون اخبار الرضا ج۲ص۲۱۷)امام رضاؑ نے فرمایا:’’جس نے انبیاءؑ کے لیے ربوبیت کا دعوی کیا،آئمہ علیہم السلام یا انبیاء ؑ کے لیے ربوبیت کا دعوی کیا یا غیر آئمہ کے لیے امامت کا دعوی کیا ہم دنیا وآخرت میں ان سے بری ہیں۔‘‘عن ابی عباس البقباق قال:’’تذاکر ابن ابی یعفور ومعلی بن خنیس فقال ابن ابی یعفور الاوصیاء علماء ابرار اتقیاء و قال ابن خنیس الاوصیاء انبیاء قال فدخلا علی ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام فقال یا عبداللہ ابراء ممن قال ان انبیاء۔‘‘(اختیارمعرفۃالبشر المعروف بالرجال الکشی ج۲ص۵۵)’’ابو عباس البقباق نے کہا ہے ’’کہ ابو یعفور کا بیٹا اور معلی بن خنیس باہم گفتگو کر رہے تھے ابو یعفور کے بیٹے نے کہا اوصیاء ،علماء ،نیک اور متقی ہیں معلی بن خنیس نے کہا اوصیاء انبیاء ہیں پھر یہ دونوں امام صادقؑ کے پاس آئے جب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو امام صادقؑ نے فرمایا :’’اے بندہ خدا جس نے کہاہم انبیاء ہیں میں اس سے بری ہوں ۔ ‘‘عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال:’’ من قال انا انبیاء علیہ لعنۃاللہ ومن شک فی ذلک فعلیہ لعنۃاللہ۔‘‘(اختیار معرفۃالبشر المعروف برجال الکشی ج۲ص۵۹۰)امام صادقؑ نے فرمایا:’’جس نے کہا ہم انبیاء ہیں اس پر خدا کی لعنت ہے اور جس نے اس لعنت پر شک کیا اس پر بھی لعنت ہے۔‘‘عن ابی بصیر قال قال لی’’ ابو عبداللہ الصادق علیہ السلام یا ابا محمد ابراء ممن یزعم انا ارباب قلت بریء اللہ منہ۔قال ابرء ممن یزعم انا انبیاء قلت بریء اللہ منہ۔‘‘(اختیار معرفۃ البشر المعروف برجال الکشی ج۲ص۵۸۷)ابو بصیر کہتا ہے امام صادقؑ نے مجھے کہا :’’اے ابو محمد جس نے ہمیں رب کہا میں اس سے بری ہوں میں نے کہا خدا اس سے بری ہے امام علیہ السلام نے فرمایا جس نے کہا ہم انبیاء ہیں میں اس بری ہوں میں نے کہا اللہ بھی اس سے بری ہے۔‘‘عن برید بن معاویہ عن ابی جعفر الباقر وابی عبداللہ الصادق علیہما السلام ’’قال قلت لہ مامنزلتکم ومن تشبھون ممن مضیٰ؟قال صاحب موسیٰ وذوالقرنین کاناعالمین ولم یکونا نبیّن۔‘‘(اصول الکافی ج۱ص۲۶۹)’’برید بن معاویہ نے امام باقرؑ وجعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ میں نے کہا آپکی قدر ومنزلت کیا ہے اور گذشتہ لوگوں میں سے کس کے ساتھ شباہت رکھتے ہیں۔فرمایا:’’صاحب موسیٰ(ہارون)اور ذوالقرنین جو دونوں عالم تھے نبی نہ تھے۔‘‘تیسرا نظریہ:الہام یا تعلیم الہی کے بغیر اہل بیت ؑ کے لیے علم غیب کا دعویٰ:غالیوں کے نظریات میں تیسرا نظریہ یہ ہے کہ اہل بیت ؑ مستقل طور پر علم غیب رکھتے ہیں۔الہام یا تعلیم الھی کے بغیر غیب کی خبریں دیتے ہیں۔اس نظریہ کا بطلان اظہر من الشمس ہے مستقل طور پر غیب کا علم فقط اس کی ذات کے ساتھ مختص ہے۔علم غیب اسے کہتے ہیں جو کسی سے مستفاد نہ ہو یعنی جس کا علم ذاتی ہواسے عالم الغیب کہتے ہیں اور جو بھی مخلوق خداسے قرب کی جتنی منزلت پر فائز ہوجائے وہ مستقل اور ذاتی طور پر غیب کا علم نہیں رکھ سکتا۔لہذا انبیاء وآئمہ ؑ کے پاس جو کچھ علم ہے وہ خدا سے حاصل کردہ اور اس کے اذن کے ساتھ ہے۔خدا سے الہام ووحی کے بغیر ذاتی طور پر غیب کی خبریں دینا محال ہے۔اس نظریہ کو آئمہ اہل بیت ؑ نے صراحتاً رد کیا ہے ذیل میں ہم چند احادیث اہل بیت ؑ سے ذکر کرتے ہیں۔(۱)امام زمان ؑ نے محمد بن علی بن ہلال الکرخی کو ایک توقیع میں غالیوں کے اس نظریہ کا رد لکھا ہے۔’’یا محمد بن علی تعالی اللہ عزوجل مما یصفون سبحانہ وبحمدہ لیس نحن شرکاء ہ فی علمہ ولا فی قدرتہ بل لا یعلم الغیب غیرہ کما قال فی محکم کتابہ تبارک وتعالی’’قل لایعلم من فی السمٰوٰت والارض الغیب الااللہ‘‘(النملل۶۵)وانا وجمیع آبائی من الاوّلین آدم ونوح وابراھیم وموسیٰ وغیرھم من النبین من الآخرین محمد رسول اللہ وعلی بن ابیطالب والحسن والحسین وغیرھم ممن مضی من الائمۃ صلوات اللہ علیھم اجمعین الی مبلغ ایّامی ومنتھی عصری عبید اللہ عزوجل۔واشھد اللہ الذی لا الہ الا ھو وکفی بہ شھیداً ومحمداًرسولہ وملائکتہ انبیاء ہ واولیاء ہ واشھدک واشھد کل من سمع کتابی ھذا انی بریء الی اللہ والی رسولہ فمن یقول انا نعلم الغیب او نشارک اللہ فی ملکہ او یحلنا محلا سوی المحل الذی نصبہ اللہ لنا وخلقنا لہ او یتعدی بنا عما قد قسرتہ لک وبینتہ فی صدر کتابی واشھد کم ان کل من نتبرّأ منہ فان اللہ یبراء منہ وملائکتہ واولیاؤہ۔وجعلت ھذا التوقیع الذی فی ھذاالکتاب امانۃ فی عنقک وعنق من سمعہ ان لایکتمہ من احد من موالیّ وشیعتی حتی یظھر علی ھذا التوقیع الکل من المولیٰ لعل اللہ عزوجل یتلافاھم فیرجعوا الی دین الحق وینتھوا عما لایعلمون منتھی امرہ ولایبلغ منتھاہ فکل من فھم کتابی ولم یرجع الی ما قد امرتہ ونھیتہ فلقد حلت علیہ اللعنۃ من اللہ وفمن ذکرت من عبادہ الصالحین۔‘‘(الاحتجاج توقیعات الناحیۃ المقدسۃ ج۲ص۲۸۸)امام زمان ؑ فرماتے ہیں:’’اے محمد بن علی خداوندعالم بزرگ وبرتر ہے ان باتوں سے جو لوگ اس کی ذات کے بارے میں کرتے ہیں۔ہم خدا کے علم وقدرت میں اس کے شریک نہیں ہیں بلکہ خدا کے علاوہ کوئی علم غیب نہیں جانتا جیسے خداوندعالم نے اپنی محکم ولاریب کتاب میں ارشاد فرمایا ہے:’’اے میرے حبیبؐ کہہ دیجیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سوائے اللہ کے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔‘‘میں اور میرے تمام اولین آباء آدم،نوح وابراہیم وموسیٰ اور باقی انبیاء علیھم السلام اور آخرین آباء جیسے محمد اللہ کے رسول وعلی ابن ابی طالب وحسن وحسین علیھم السلام اور ان کے علاوہ باقی آئمہؑ میرے باقی ماندہ دنوں تک میرے زمانے کے آخر تک یہ سارے کہ سارے اللہ کے بندے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور اس پر گواہی کے لیے خود(یعنی اللہ)اس کے رسول محمد ؐ،اس کے فرشتے،اس کے انبیاء ؑ واولیاءؑ ہی کافی ہیں۔اور میں تجھے (محمد بن علی)اور ہر اس کو جو میرے خط کو سنے گواہ قرار دیتا ہوں کہ جو یہ کہے کہ ہم غیب کا علم جانتے ہیں یا اللہ کی ملکیت میں ہمیں اس کا شریک قرار دے اور جو مقام اللہ نے ہمارے لیے معین کیا ہے اور ہمیں اس مقام کے لیے خلق کیا اس مقام کے علاوہ ہمیں کسی اور مقام پر بٹھائے اور جس چیز کو میں نے ابتداء خط میں تجھے بیان کیا ہے اس سے ہمیں بڑھا دے ان تمام سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔اور میں تجھے گواہ قرار دیتا ہوں کہ جس سے ہم بے زاری کا اعلان کریں اللہ اور اس کے فرشتے،اس کے رسول اور اس کے اولیاء بھی اس سے بیزار ہوتے ہیں۔میں اس خط کو تیری اور ہر اس شخص کی گردن پرامانت قرار دیتا ہوں جو اس خط کو سنے کہ وہ میرے محبوں اور شیعوں میں سے کسی پر اس خط کو نہ چھپائے یہاں تک کہ یہ خط میرے تمام محبوں پرعیاں ہوجائے شائد خداوندعالم ان کی تلافی کرے اور وہ دین حق کی طرف پلٹ آئیں اور جس امر کے انجام وعاقبت کو وہ نہیں جانتے اس سے باز آجائیں پس جس نے بھی میرے خط کو سمجھا اورمیرے اوامر ونواہی کی طرف نہ لوٹا اللہ اور اس کے ان نیک بندوں کی لعنت اس پر نازل ہوگی جن کا میں نے تذکرہ کیاہے۔‘‘عن ابن ابی عمیر عن ابن المغیرۃ’’ قال کنت انا ویحییٰ بن عبداللہ بن الحسن عند ابی الحسن علیہ السلام فقال لہ یحییٰ جعلت فداک انھم یزعمون انک تعلم الغیب؟وقال سبحان اللہ ضع یدک علی راسی فواللہ ما بقیت شعرہ فیہ وفی جسدی الا قامت ثم قال لاواللہ ماھی الاوراثۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔‘‘(الامالی للمفید ص۲۳المجلس الثالث)ابن مغیرہ کہتا ہے میں اور یحییٰ بن عبد اللہ ابن الحسن امام کاظم ؑ کے پاس تھے۔یحییٰ نے امام ؑ سے کہا میں آپ پر قربان ہو جاؤں وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ آپ علم غیب رکھتے ہیں؟آپ ؑ فرماتے ہیں:’’پاکیزہ ہے وہ ذات اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھو میرے سر میں اورجسم میں کوئی بال ایسا نہیں جو یہ سن کر کھڑا نہ ہوا ہو۔پھر فرمایا نہیں خدا کی قسم یہ سارا علم رسول خدا ؐکی طرف سے ہمیں ورثہ میں ملا ہے۔‘‘اسی وجہ سے شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں:’’اطلاق القول علی الآئمۃ بانھم یعلمون الغیب فھومنکر الفساد لان الوصف بذلک انما یستحقہ من علم الاشیاء بنفسہ لابعلم مستفاد وھذا لا یکون الا عزوجل۔‘‘(اوائل المقالات ص۷۷)’’آئمہ ؑ کے بارے میںیہ کہنا کہ وہ علم غیب رکھتے ہیں یہ قول فاسد ہے کیونکہ وصف علم غیب کا وہ مستحق ہے جس کے پاس اشیاء کا علم ذاتی ہو نہ کہ کسی سے حاصل کردہ ہو اور ایسا علم خداوندعالم کے سواء کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘سورۃ نمل کی آیت نمبر۶۵جس کا تذکراہ ہو چکا ہے اس کے ذیل میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں:’’الحق ان یقال ان علم الغیب المنفی عن غیرہ عزوجل وعلا ھو ماکان للشخص لذاتہ ای بلا واسطۃ فی ثبوتہ لہ وھذا مما لا یعقل لاحد من اھل السماوات الارض وما وقع للخواص لیس من ھذا العلم المنفی فی شیء فلایقال انھم علموا الغیب بذلک المعنی ومن قالہ کفر قطعاً وانما یقال انھم اظھروا او اطلعوا علی الغیب ویؤید ما ذکرانہ لم یجیء فی القرآن الکریم نسبۃ علم الغیب الی غیرہ تعالیٰ اصلاً۔‘‘(روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ج۲۰ص۱۱)’’حق بات یہ ہے کہ وہ علم غیب جس کی غیر خدا سے نفی کی گی ہے یہ وہ علم ہے جو بلاواسطہ کسی کے لیے ثابت ہو یعنی ذاتی طور پر کسی کے لیے ثابت ہو اور یہ علم زمین وآسمان میں خدا کے علاوہ کسی کے لیے معقول وممکن نہیں ہے اور جو علم خدا کے بعض برگزیدہ بندوں کے لیے ہے وہ علم نہیں ہے اور نہ ہی اس قسم کا علم علم غیب ہوتا ہے اور جس نے ایسا کہاکہ خدا کے علاوہ بھی کوئی ذاتی طور پر علم غیب رکھتا ہے تو یہ کھلاکفر ہے بلکہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا علم غیب ان کے لیے عیاں کیا گیا ہے اور اس بات کی تائید یہ ہے کہ قرآن کریم میں علم غیب کی نسبت غیرخدا کی طرف اصلا نہیں ہے۔‘‘چوتھا نظریہ:تناسخ ارواح آئمہ ؑ :’’روحوں کا بعض اجسام سے نکل کر دوسرے اجسام میں منتقل ہو نا۔‘‘نفس ناطقہ کا اس دنیا میں موت کے بعد ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف منتقل ہونے کو تناسخ کہتے ہیں جیسا کہ معاد جسمانی کے منکرین کا عقیدہ ہے۔(موسوعۃ کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم ،ج۱ص۵۱۲)یہ غالیوں کا ایک گروہ ہے جو یہ کہتے ہیں آئمہ ؑ کی ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہیں یہ نظریہ عقلی ونقلی ہر دو اعتبار سے باطل ہے۔یہ نظریہ عقلی طور پر اس لیے باطل ہے کہ اگر اس نظریہ کر مان لیا جائے تو نفس انسانی یعنی روح کا ازلی ہونا لازم آتا ہے او ر روح کا ازلی ہونا باطل ہے دوسری بات یہ ہے کہ وہ اجسام جن میں روح منتقل ہوتی ہے لازم ہے کہ وہ غیر متناہی ہوں اور یہ باطل ہے۔اس کے علاوہ علماء امامیہ نے تناسخ کے بطلان کی مختلف دلیلیں پیش کی ہیں جیسا کہ علامہ مجلسی ؒ نے بحار الانوار کی جلد۴،صفحہ۳۲ میں کتاب التوحید کے ذیل میں ابطال تناسخ پر گفتگو کی ہے۔نقلی طور پر اس لیے باطل ہے کہ اہل بیت ؑ نے اس نظریہ کو مد وشد کے ساتھ باطل کیاہے۔(۱)قال المامون للرضاعلیہ السلام یا ابا الحسن ماتقول فی القائین بالتناسخ؟فقال الرضا علیہ السلام :’’من قال بالتناسخ فھو کافر باللہ العظیم مکذب بالجنۃ والنار۔‘‘(عیون اخبار الرضا ج۲ص۲۱۸)مامون نے امام رضا ؑ سے کہا اے ابوالحسن آپ تناسخ کے قائلین کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو امام ؑ نے فرمایا:’’جس نے تناسخ کے نظریہ کو اختیار کیا وہ خدائے عظیم کا منکر ہے جنت وجہنم کو جھٹلاتا ہے۔‘‘(۲)قال ابوالحسن الرضا علیہ السلام من قال بالتناسخ فھوکافر۔(عیون اخبار الرضا ج۲ص۲۱۸)امام رضا ؑ نے فرمایا:’’جس نے تناسخ کے عقیدے کو اختیار کیا وہ کافر ہے۔‘‘پانچواں نظریہ:تفویض استقلالی:تفویض استقلالی کامعنی یہ ہے کہ ٖخداوندعالم نے کائنات کے تکوینی امور(جیسے خلق کرنا،زندہ کرنا،موت دینا،رزق دینا وغیرہ)اور تشریعی امور(مثلا احکام)نبی اکرم ؐ اور اہل بیت ؑ کے سپرد کر دیئے ہیں وہی مستقل طور پر خدا سے بے نیاز ہو کر کائنات کے تکوینی وتشریعی کاموں کی تدبیر کرتے ہیں اس کا معنی ہے تفویض استقلالی۔سید خوئی ؒ فرماتے ہیں:’’ومن الغلاۃ من ینسب الیہ الاعتراف بألوھیتہ سبحانہ الا انہ یعتقدان الامور الراجعۃ الی التشریع والتکوین کلھا بید امیر المؤمنین علیہ السلام او احد الائمۃ علیہم السلام فیری انہ المحی والممیت وانہ الخالق والرازق وھذہ عقیدۃ التفویض لان معناھا ان اللہ سبحانہ کبعض السلاطین الملوک قدعزل نفسہ عما یرجع الی تدبیر مملکتہ وفوض الامور الراجعۃ الیھا الی احد وزراۂ۔‘‘(التنقیح فی شروح العروۃ الوثقیٰ ج۳ص۷۴)’’غالیوں میں سے کچھ ایسے افراد ہیں جو خدا کی اولوہیت کا اعتراف کرتے ہیں مگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمام تکوینی وتشریعی امور کی باگ ڈور امیر المؤمنین ؑ یا باقی آئمہ ؑ میں کسی ایک کے ہاتھ میں ہے پس وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امیر المؤمنین ؑ ہی زندہ کرتے ہیں،موت دیتے ہیں،وہی خالق ورازق ہیں۔یہ تفویض کا عقیدہ ہے جس کا معنی یہ ہے کہ خدا عام بادشاہوں کی طرح ہے جو اپنی مملکت کی تدبیر میں خود کواپنے منصب سے ہٹا لے اور سلطنت کے تمام امور اپنے کسی ایک وزیر کے سپرد کردے‘‘۔اس نظریہ کی وضاحت کے لیے ایک مقدمہ کی ضرورت ہے تاکہ کچھ شکوک وشبھات دورہو جائیں۔تفویض بعض اوقات عالم تکوینی میں ہوتی ہے اور بعض اوقات عالم تشریعی میں۔وہ تفویض جو عالم تکوینی میں متصور ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔(۱)تفویض استقلالی:جس کے بارے میں بیان گذر چکا ہے کہ خداوندعالم نے اس کائنات کے تکوینی وتشریعی امور مستقل طور پر نبی واہل بیت ؑ کے سپرد کردیے ہیں اب وہ جو چاہیں کریں خداوندعالم کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔اس قسم کی تفویض غالیوں کا نظریہ ہے۔(۲)اذن الہیٰ کے ساتھ تفویض:اس کا معنی یہ ہے کہ خداوندعالم نے نبی اکرم ؐ اور ان کی اہل بیت ؑ کو کائنات کے امور پر تصرف کی قدرت وولایت عطا کی ہے لیکن یہ قدیہ حضرات کائنات میں اللہ کے اذن سے تصرف کرتے ہیں۔یہ برگزیدہ ہستیاں کوئی کام نہیں کرتیں مگر جس کام پر اللہ انہیں قدرت دیتا ہے وہی کام کرتے ہیں۔پس وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے خلق کرتے ہیں، زندہ کرتے ہیں،مردہ کرتے ہیں مگر مستقل طور پر نہیں کہ ان کی قدرت خدا کی قدرت کے مقابلے میں ہو۔اس مقدمہ کی وضاحت کے بعد ہم کہتے ہیں کہ تفویض استقلالی جزمی طور پر باطل ہے کیونکہ عقلی ونقلی ادلہ اس تفویض کو باطل کرتی ہیں کیونکہ خدا کی قدرت سے بے نیاز ہو کر کائنات کے تکوینی امور پر مستقل طور پر تصرف کرنا اس کی قدرت وسلطنت سے خروج ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ خداوندعالم کا ان کاموں میں شریک مانا جارہا ہے اور یہ باطل ہے۔کیونکہ نصوص قرآنی وروائی اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ ہر ممکن ہر آن وہر لحظہ اپنے ہونے اور باقی رہنے میں خدا کا محتاج ہے اور خدا واحد کی قدرت سے خروج ممکن نہیں ہے ۔دوسری قسم کہ خدا اپنے برگزیدہ بندوں کو تکوینی امور میں تصرف کرنے کی قدرت عطا کرتاہے اور اسی قدرت عطا کرنے کو اذن الہی کہتے ہیں۔اور اس بات پر متعدد قرآنی شواہد ہیں آیات قرآنی یہ کہہ رہی ہیں کہ خدا نے اپنے بعض بندوں کو کائنات کے تکوینی امور میں تصرف کرنے کی قدرت عطا کی ہے۔ذیل میں ہم چند آیات کو اپنے محترم قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں۔(۱)قولہ تعالیٰ:’’انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیءۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراباذن اللہ وابریء الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ وأنبئکم بما تأکلون وماتدّخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لآیۃلکم ان کنتم مؤمنین۔‘‘(آل عمرآن۴۹)’’میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لیکر تمھارے پاس آیا ہوں(وہ یہ ہے کہ)میں تمھارے سامنے مٹی سے پرندے کی شکل کا مجسمہ بناتاہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو تندرست اور مردے کو زندہ کرتاہوں اور میں تم لوگوں کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا جمع کرکے رکھتے ہو اگر تم صاحبان ایمان ہو تو اس میں تمھارے لیے نشانی ہے۔‘‘یہ آیت کائنات میں تکوینی تصرف کی طرف اشارہ کررہی ہے جیسے خلق کرنا،موت دینا،زندہ کرنا،مریضوں کو شفا دینا وغیرہ لیکن ساتھ ساتھ ہم اس بات کی طرف بڑی واضح تاکید بھی دیکھتے ہیں کہ جناب عیسیٰؑ بار بار کہہ رہے ہیں کہ میں یہ کام اللہ کے اذن سے کرتا ہوں اس کی عطا کردہ قدرت سے کرتا ہوں مستقل طور پر نہیں کرتا اور باربار اذن الہی کا تکرار اس لیے کیا تاکہ کوئی جناب عیسیٰؑ کو اولوہیت کا معتقد نہ ہوجائے۔لیکن بعض افراد یہ گمان کرتے ہیں کہ جب یہ برگزیدہ ہستیاں اپنے افعال میں مستقل نہیں ہیں یعنی اللہ کی قدرت سے انجام دیتے ہیں تو پھر یہ فعل ان کا تو نہیں ہے بلکہ اللہ کا ہے۔لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس بات میں کوئی مانع نہیں ہے کہ فعل انجام دینے کی قدرت خدا کی طرف سے ہو مگر فعل حقیقی طور پر ان کا ہو اور ظاہر آیت اس بات پر واضح دلیل ہے کہ یہ افعال جناب عیسیٰؑ کے اپنے افعال تھے مگر ان کاموں کی طاقت خدا نے دی ہے اور اسی بات کی طرف آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ نے اس آیت کے ذیل میں اشارہ فرمایا ہے ’’فاستعمال افعال مثل وابری واحیی الموتی وبضمیر المتکلم تدل علی ان ھذہ الافعال من عمل الانبیاء انفسھم وان القول بان ھذہ الافعال کانت تقع بسبب دعاءھم فقط ھوقول لا یقوم علیہ دلیل بل ان ظاھر آیات یدل علی انھم کانوایتصرفون بعالم التکوین ویقومون بتلک الافعال۔‘‘(الامثل فی تفسیر کتاب اللہ المنزل ج۲ص۵۰۶،۵۰۷)’’ابریء ‘‘اور ’’احیی الموتی ‘‘کے افعال کا ضمیر متکلم کے ساتھ استعمال کرنا یہ دلالت کرتا ہے کہ یہ افعال انبیاء کے اپنے افعال ہیں اور یہ کہنا کہ یہ تکوینی افعال فقط ان کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں تو اس قول پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ ظاہر آیات دلالت کرتی ہیں کہ انبیاء کائنات کے تکوینی امور میں تصرف کرتے تھے اور ان امور کو خود انجام دیتے تھے۔‘‘پھر آقائی مکارم الشیرازی فرماتے ہیں:’’ولکن لکی لا یتصور احد ان الانبیاء والاولیاء کان لھم الاستقلال فی العمل وانھم اقامو جھازاًللخلق فی مقابل جھاز خلق اللہ و کذلک لکی لا یکون ھناک ای احتمال الشرک تکرر قول(باذن اللہ)‘‘(الامثل فی تفسیر کتاب اللہ المنزل ج۲ص۵۰۷)یہ اس لیے ہے کہ تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ انبیاء ؑ واولیاء ؑ یہ افعال مستقل طورپر کرتے تھے یعنی (اس کی قدرت سے بے نیاز ہو کر کرتے تھے)اور انھوں نے خدا کے نظام خلقت کے مقابلے میں ایک نظام ایجاد کیا اور تاکہ شرک کا احتمال پیدا نہ ہو اذن اللہ کے لفظ کا تکرار کیا ہے۔(۲)قولہ تعالیٰ فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاءً حیث اصاب والشیاطین کل بنّاء وغوّاص وآخرین مقرنین فی الاصفادھذا عطاؤنا فامنن او امسک بغیر حساب۔(ص۳۶۔۳۹)پھر ہم نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا جدھر وہ جانا چاہتے ان کے حکم سے نرمی کے ساتھ اسی طرف چل پڑتی تھی اور ہر قسم کے معمار اور غوطہ خور شیاطین کو بھی(مسخر کیا)اور دوسروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور یہ ہماری عنایت ہے جس پر چاہو عنایت کرو اور جس کو چاہو روک لو اس کاکوئی حساب نہیں ہوگا۔اس آیت کے ذیل میں مرحوم فیض کاشانی ملا محسن اپنی کتاب تفسیر الصافی میں لکھتے ہیں:’’فاعط من شئت وامنع من شئت(بغیر حساب)غیر محاسب علی منہ وامسالہ لتفویض التصرف فیہ الیک۔‘‘(تفسیر الصافی ج۴ص۳۰۰)’’(یہ بادشاہت و سلطنت جو ہم نے آپ کو دی ہے)تم جس کو چاہو دے دو اور جس سے چاہو روک لو اور اس دینے اور نہ دینے پر تمھارا کوئی محاسبہ نہ ہوگا کیونکہ اس بادشاہت وسلطنت میں تصرف کرنا تجھے سپرد کر دیا گیا ہے۔‘‘بعض حضرات نے الکافی میں موجود ایک روایت کے ذریعہ یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس ولایت تکوینی تھی مگر نبی اکرم ؐ اور ان کی عترت کے پاس اس سے افضل چیز تھی اور وہ ولایت تشریعی ہے ۔ملاحظہ ہو روایت اور اس کے بعد اس کا جواب۔روایت اگرچہ طویل ہے مگر ہم اس کے آخری حصہ کو ذکر کرتے ہیں۔موسیٰ بن اشیم کو امام صادقؑ نے فرمایا:’’یا ابن اشیم ان اللہ فوض الی سلیمان بن داود فقال ھذا عطاؤنا فامنن اوامسک بغیر حساب وفوض الی نبیہ وقال ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا فما فوض الی رسول اللہ فقد فوضہ الینا۔‘‘(الکافی الجز الاول کتاب الحجۃ ص۵۲)امام صادقؑ نے موسیٰ بن اشیم کو فرمایا:’’خداوندعالم نے سلیمان بن داؤود ؑ کی طرف کچھ امور تفویض کیے تھے اور سلیمان ؑ کے حق میں کہا یہ سب میری عطا ہے اب چاہوتولوگوں کو دے دو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور نبی اکرم ؐ کی طرف بھی کچھ چیزیں تفویض کیں اورکہا جو کچھ بھی رسول تمھیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤپس جو چیز رسول خدا ؐ کی طرف تفویض کی ہے وہی ہماری طرف بھی تفویض کی ہے۔‘‘جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ بعض حضرات نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ سلیمان بن داؤود ؑ کے پاس تکوینی امور میں تصرف کرنے کا حق تھا اور نبی اکرمؐ اور ان کی اہل بیت ؑ کو تشریعی امور میں تصرف کرنے کا حق تو ہے مگر تکوینی امور میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔اس وہم کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ جس روایت کا سہارا لے کر نبی اکرم ؐ اور انکی اہل بیت ؑ سے ولایت تکوینی کی نفی کر جارہی ہے اس روایت کی سند میں تین راوی ایسے ہیں جن کے بارے میں علماء شیعہ کے کلمات ہم آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں۔وہ تین راوی مندرجہ ذیل ہیں۔(۱)یحییٰ بن ابی عمران۔(۲)بکاربن ابی بکر۔(۳)موسیٰ بن اشیم۔سید خوئی ؒ یحییٰ بن ابی عمران وبکار بن ابی بکر کے بارے میں کہتے ہیں۔یہ گذشتہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ یحییٰ بن ابی عمران وبکار بن ابی بکر دونوں مھمل ہیں۔’’قال ایضاً بکاربن ابی بکر مجھول‘‘’’بکاربن ابی بکر مجہول الحال ہے۔‘‘موسیٰ بن اشیم:الکشی نے حفص بن میمون کے احوال کو بیا ن کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ابن اشیم خطابیہ میں سے تھا اما م صادقؑ نے اس کی مذمت کی ہے کیونکہ وہ جب امام صادقؑ کے پاس آتا تو حق بات بتاتا جب ابی خطاب کے پاس آتا تو اس کے برعکس بیان کرتا جس کے نتیجے میں لوگ ابی خطاب کی بات کو قبول کر لیتے اور امام صادقؑ کی بات کو چھوڑ دیتے۔‘‘سید خوئی ؒ فرماتے ہیں:’’موسیٰ بن اشیم کی وثاقت کسی صورت میں ثابت نہیں ہے وہ مجھول الحال ہے۔‘‘(معجم رجال الحدیث ج۱۹ص۱۸)تو ایسی روایت جو تین ایسے راویوں پر مشتمل ہو جن کی وثاقت کے بارے کچھ علم نہیں ہے نبی اکرمؐ اور ان کی اہل بیت ؑ سے ولایت تکوینی کی نفی کی جاسکتی ہے۔دوسری بات یہ ہے سند روایت سے قطع نظر ہو کر خود مدلول روایت سے بھی ولایت تکوینی کی نفی نہیں سمجھی جاتی۔کیونکہ امام صادقؑ نے فرمایاہے’’ حضرت سلیمان ؑ کے پاس ولایت تکوینی تھی اور ہمارے پاس ولایت تشریعی ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے پاس ولایت تکوینی نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس ایسی روایات موجود ہیں جن میں تصریح کی گئی ہے کہ جو کچھ حضرت سلیمانؑ کے پاس ہے وہ سب کچھ نبی اکرمؐ اور اہل بیت ؑ کے پاس موجود ہے اور جو کچھ نبی اکرم ؐاور اہل بیت ؑ کے پاس ہے وہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس نہیں ہے۔‘‘امام موسیٰ کاظم ؑ نے ایک طویل روایت میں علی بن یقطین سے فرمایا:قال علیہ السلام’’ قد واللہ اوتینا مااوتی سلیمان ومالم یؤت سلیمان ومالم یؤت احد من الانبیاء من العالمین قال اللہ عزوجل فی قصۃ سلیمان’’ھذاعطاؤنا فامنن او امسک بغیرحساب‘‘قال عزوجل فی قصۃ محمدصل اللہ علیہ وآلہ وسلم’’ماآتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔‘‘فرمایا’’ خدا کی قسم ہمیں وہ سب کچھ عطا کیاگیا ہے جو سلیمان کو دیا گیا تھا اور جو کچھ سلیمان اور کسی نبی کے پاس نہ تھا وہ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔خداوندعالم نے حضرت سلیمان ؑ کے قصے میں فرمایا:’’یہ سب میری عطاء ہے اب چاہے لوگوں کو دیدیا اپنے پاس رکھ لو تم سے حسا ب نہ ہو گا‘‘اور حضرت محمدؐکے واقعہ میں فرمایا:’’جو کچھ بھی رسول تمھیں دے دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔‘‘علامہ مجلسی ؒ فرماتے ہیں:’’فلا یمنع ھذا الکلام ان یعطی اللہ من بعدہ من الانبیاء والاوصیاء اضعاف ما اعطاہ‘‘(بحارالانوار ج۱۴)’’(حضرت سلیمان ؑ کو اتنی بڑی بادشاہت و سلطنت کا دینا)یہ مانع نہیں ہے کہ خدا حضرت سلیمان ؑ کے بعد انبیاء و اوصیاء کو ان سے دگنا عطا کردے۔‘‘اس گفتگو کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داود ؑ کو خداوندعالم نے کائنات کے بعض امور تکوینی میں تصرف کا حق دیا تھا ۔اور ہمارے آئمہ ؑ کو تکوینی وتشریعی امور میں تصرف کا حق عطا ء کیا ہے۔(۳)قولہ تعالیٰ ’’وکذلک اوحینا الیک روحاًمن امرنا۔‘‘(الشوری۵۲)’’اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی ہے۔‘‘خدا نے اپنے امر سے اپنے رسول ؐکو روح عطا کی ہے جس کی وجہ سے وہ کائنات کے تکوینی امور میں تصرف کر سکتے ہیں۔فعن جابر الجعفی عن الاما م الباقر علیہ السلام:قلت یاابن رسول اللہ ومن المقصر؟قال الذین قصروا فی معرفۃ الأئمۃ وعن معرفۃ ما فرض اللہ علیھم من امرہ وروحہ۔قلت یا سیدی وما معرفۃ روحہ؟قال ان یعرف کل من خصہ اللہ تعالیٰ بالروح فقد فوض الیہ امرہ یخلق باذنہ ویحیی باذنہ ویعلم الغیر ما فی الضمائر ویعلم ماکان وما یکون الی یوم القیامۃ وذلک ان ھذا الروح من امر اللہ تعالیٰ فمن خصہ اللہ بھذا الروح فھذا کامل غیر ناقص یفعل ما یشاء باذن اللہ یسیر من المشرق الی المغرب فی لحظۃ واحدۃ یعرج بہ الی السماء وینزل بہ الی الارض ویفعل مایشاء واراد قلت یا سیدی اوجدنی بیان ھذا الروح من کتاب اللہ قال نعم اقراء ھذہ الآیۃ ’’وکذلک اوحینا الیک روحاًمن امرنا‘‘۔جابر کہتاہے میں نے امام محمد باقرؑ سے کہا :اے فرزند رسول ؐمقصر کون ہیں؟فرمایا:’’ وہ لوگ جنھوں نے آئمہؑ کی معرفت میں کوتاہی کی اور اس روح کی معرفت میں تقصیر کی جسے اللہ نے آئمہ ؑ پر لازم قرار دیا ہے۔‘‘میں نے کہا اے میرے سردار روح کی معرفت کیا ہے ؟فرمایا:’’ہر وہ جسے اللہ تعالیٰ نے روح کے ساتھ مخصوص کیا ہے اسے ایسے پہچاناجائے کہ اللہ نے اپنا امر اسکی طرف سپرد کردیا ہے وہ اس کے اذن سے خلق کرتا ہے اورا س کے اذن سے زندہ کرتاہے،لوگوں کے دلوں میں پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔گذشتہ اور قیامت تک آنے والے واقعات سے باخبر ہے اس وجہ سے کہ یہ روح اللہ کا امر ہے اللہ جسے یہ روح عطا کرتاہے وہ کامل انسان ہے۔اللہ کے اذن سے جو چاہے وہ کرتاہے ایک لحظہ میں مشرق سے مغرب پہنچ جاتا ہے۔اسی روح کے ذریعہ آسمان کی طرف چڑھتا ہے اور زمین کی طرف اترتا ہے جو چاہتا ہے وہی کرتاہے۔‘‘میں نے کہا اے میرے سردار اس روح کے بارے میں قرآن سے کوئی بیان فرمائیں تو فرمایا:کیوں نہیں اس آیت کی تلاوت کرو’’ اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنی روح کی وحی کی ہے۔‘‘(الزام الناصب ج۱ ص۴۲،الھدایۃالکبریٰ۴۳۱،بحارالانوارج۲۶ص۱۴۔۱۵)(۴)قولہ تعالی’’ٰ وجعلنا ھم آئمۃ یھدون بامرنا۔‘‘(الانبیاء۷۳)’’اور ہم نے ان سب کو پیشوا قراردیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے۔‘‘سید محمد حسین الطباطبائیؒ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:’’ولاتنفک النبوۃ عن الھدایۃ بمعنی اراء ۃ الطریق فلایبقی للامامۃ الا الھدایۃ بمعنی الایصال الی المطلوب وھی نوع تصرف تکوینی فی النفوس بتسییرھا فی سیر الکمال ونقلھا من موقف معنوی الی موقف آخر واذ کانت تصرفاً تکوینیاً وعملا باطنیا فالمراد بالامر الذی تکون بہ الھدایۃ لیس ھو الامر التشریعی الاعتباری بل مایفسرہ فی قولہ وانما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون۔‘‘(یسین۸۳)(نبی لوگوں کی ہدایت ایسے کرتا ہے کہ فقط انہیں صحیح راستہ دکھاتا ہے)نبوت اس ہدایت سے ہرگز جدا نہیں ہوسکتی تو اس صورت میں امام ؑ کے لیے ہدایت کا فقط ایک ہی معنی باقی رہ جا تا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کو منزل مقصود تک لے جانا اور اس قسم کی ہدایت دلوں میں ایک تکوینی تصرف ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو کمال کے راستے پر چلاتے ہیں اور ایک معنوی حالت سے دوسری حالت تک پہنچا دیتے ہیں۔جب یہ ہدایت ایک تکوینی تصرف اور باطنی عمل ہے تو جس امر کے ذریعہ اما مؑ ہدایت کرتا ہے اس امر سے مراد بھی امر تشریعی نہیں ہے بلکہ امر سے مراد وہ ہے جس کو آیت نے بیان کیا ہے’’اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شیء کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرے کہ ہو جا اور وہ شیء ہوجاتی ہے۔‘‘(المیزان فی تفسیر القرآن ج۱۴ص۳۰۴)ان آیات مذکورہ کے علاوہ قرآن مجید میں متعدد ایسی آیات ہیں جنھوں نے اذن الہی کے ساتھ تفویض کو بیان کیا ہے اس مختصر سی تحریر میں گنجائش نہیں ہے کہ ان تمام آیات کی طرف اشارہ کیا جائے۔لیکن نتیجے کے اعتبار سے تمام آیات کا معنی ایک ہی ہے کہ خداوندعالم نے اپنے اذن سے اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو کائنات میں تکوینی تصرف کرنے کی قدرت عطا کی ہے اور اذن الہی کے ساتھ تفویض کا یہی معنی ہے۔اور اذن الہی کے ساتھ تفویض فقط انبیاء واوصیاء کو خدا نے عطا نہیں کی ہے بلکہ جن وانس دونوں کو اس تصرف تکوینی پر قدرت عطا کی ہے۔اور نہ فقط آیات قرآنی نے اس تفویض کو ثابت کیا بلکہ روایات نے بھی ایک بہت بڑی تعداد میں اس قسم کو ثابت کیا ہے اور یہ قسم ہرگز تفویض باطل میں داخل نہیں ہے اور نہ ہی اس سے غلو لازم آتاہے۔ذیل میں ہم چند ایک روایات کو بیان کررہے ہیں جو تفویض کی اس قسم کو بیان کررہی ہیں۔(۱)عن ابی حمزۃ الثمالی عن علی ابن الحسین علیہ السلام قال قلت لہ الائمۃ یحیون الموتی ویبرؤن الاکمۃ والابرص یمشون علی الماء؟قال مااعطی اللہ نبیا قط الا وقد اعطاء اللہ محمدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم واعطاء ما لم یکن عندھم۔قلت وکل ماکان عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فقداعطاہ امیر المؤمنین علیہ السلام؟قال نعم ثم الحسن والحسین علیھما السلام بعد کل امام الی یوم القیامۃ۔ابو حمزہ ثمالی امام زین العابدین ؑ سے نقل کرتے ہیں:’’میں نے کہا :کیا آئمہ ؑ مردوں کوزندہ کرتے ہیں مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو شفا دیتے ہیں اور پا نی پر چلتے ہیں؟تو امام ؑ نے فرمایا اللہ نے کسی نبی کو کوئی ایسی چیز نہیں دی ہے جو محمد ؐکو عطا نہ کی ہو بلکہ جو کچھ رسول خدا ؐکو عطا کیا وہ باقی انبیاء ؑ کے پاس نہیں ہے۔میں نے کہا جو کچھ رسول اللہ ؐکے پاس ہے کیا وہ رسول خدا ؐنے امیر المؤمنین ؑ کو عطا کیا ہے؟فرمایا:ہاں پھر امیر المؤمنین ؑ کے بعد امام حسن ؑ و حسین ؑ کو عطا کیااور پھر ان کے بعد قیامت کے دن تک ہر امام کے پاس وہ سب کچھ ہے جو رسول خدا ؐ کے پاس تھا۔‘‘(بصائر الدرجات الکبریٰ ج۲ ص۱۵)تفویض کی دوسری قسم:عام تشریع میں تفویض:یہ بات مسلم ہے۔کہ اصل تشریع فقط خداوند عالم کی ذات میں منحصر ہے۔ارشاد ربانی ہے :’’ان الحکم الا للہ امران لاتعبدوا الاایاہ‘‘(یوسف:۴۰)’’حکم کرنے کا حق صرف خداہی کو ہے اور اسی نے حکم دیاہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے ۔‘‘لیکن بعض غالیوں کا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم نے تشریع کا حق نبی اکرمؐاوراہلبیت نبی علیہم السلام کے سپرد کیا ہے وہ مستقل طور پر اپنی مرضی سے احکام بناتے ہیں اور وحی والہام کے علاوہ اسکے ارادے ومشیئت سے بے نیاز ہو کر احکا م سازی کرتے ہیں ۔عالم تشریع میں اس قسم کی تفویض کے باطل ہونے پرعلماء کا اتفاق ہے کیونکہ جویہ عقیدہ رکھے کہ خداوندعالم کے علاوہ بھی کسی کو قانون بنانے کا حق ہے اورحلال وحرام کی باگ ڈور کسی اورکے پاس ہے تو گویااس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کو اپنا رب مان لیاہے اور جو فعل اللہ کے ساتھ خاص ہے اس فعل کو کسی اور کیلئے بھی جائزقراردیاہے گویا اس نے توحید کی حدوں کو توڑ دیاہے اور یہی شرک ہے۔مذھب شیعہ کا اس میں عقیدہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے اغلب احکام کو بیان کیا ہے اور نبی اکرمؐ اوراہل بیت ؑ نے ان احکام کی تبلیغ کی ہے لیکن بعض ایسے موضوعات وواقعات ہیں جن میں خدا نے اپنے حبیب ؐکو اذن دیاہے کہ وہ لوگوں کے لئے احکام وضع کریںیعنی نبی اکرم ؐ نے خداوندعالم کی اجازت اور اس کے اذن سے بعض احکام کو جعل کیا ہے اور اسی طرح اہل بیت ؑ نے بھی بعض ایسے احکام شرعی کو خدا کے اذن سے جعل کیاہے جن کی تشریع نہ خدانے کی اور نہ ہی رسول خداؐنے کی۔اسوجہ سے کہ اھل بیت ؑ کوئی کام ایسانہیں کرتے جو خدا کے ارادے کے مطابق نہ ہو۔لہذاانکاتشریع احکام کرنا گویاخدا و رسولؐ کی تشریع احکام کے برابر ہے۔اورعالم تشریع میں تفویض کا یہ معنی معقول ہے اوراس میں کوئی اشکال لازم نہیں آتا۔اگر اس معنی کے ثبوت پر ادلہ قائم ہوجائیں تو اس تفویض تشریعی کوقبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔علامہ مجلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں عالم تشریع میں تفویض کے معنی میں دو احتما ل پائے جاتے ہیں:۱۔خداوندعالم نے وحی و الہام کے بغیراحکام نبی اکرم ؐاورآئمہ ؑ کے سپرد کردئے وہ جسکو چاہیں حلال کردیں اورجسکو چاہیں حرام قرار دیں یا جو ان کی طرف وحی ہوا ہے اس کو اپنی آراء سے بدل دیں ۔تفویض کایہ معنی باطل ہے اور کوئی عاقل اسکو قبول نہیں کرتا۔جبکہ رسول خداؐ توکسی سائل کاجواب دینے کے لئے کئی دنوں تک وحی خدا کاانتظار کرتے اور اپنی طرف سے جواب نہ دیتے کیونکہ خدانے تواپنے حبیب کے بارے میں فرمایا:’’وماینطق عن الھوی ان ھوالاوحی یوحی‘‘(النجم:۳،۴)’’اوروہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتااس کی کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے۔‘‘۲۔جب خدا وندعالم نے اپنے رسول ؐکوکما ل کے ا س درجے پر فائزکیاکہ سوائے حق کے وہ کسی اورچیز کوپسندنہیں کرتے اوراپنے رب کی مشیئت کے خلاف تصور بھی نہیں کر تے تو دین میں بعض امورکی تعین ان کے سپرد کر دی ہے جیسے نماز میں اضافہ،نوافل کی تعین اور روزے کی تعیین وغیرہ۔یہ اختیاراس وجہ سے ان کے سپردکیاکہ ان کی شرافت و کرامت کااظہار ہو جائے۔ان امور کی اصل تعیین واختیار وحی والہام کے بغیر نہیں ہوتی ہے اور پھر جس چیزکو نبی اکرمؐ نے اختیار کیا وحی کے ذریعہ اسکی تائیدکی اور عقلی طور پر یہ عقیدہ فاسدنہیں ہے۔(بحارالانوار:ج:۲۵ص۳۴۸)اورتفویض تشریعی کے اس دوسرے معنی پر بہت زیادہ روایات موجود ہیں ۔عن الباقرعلیہ السلام قال ’’ان اللہ خلق محمدا صلی اللہ علیہ والہ عبدافادّبہ حتی اذا بلغ اربعین سنۃ اوحی الیہ وفوّض الیہ الاشیاء فقال ’’ومااتٰکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ فانتھوا‘‘(الحشر:۷) (بصائر الدرجات الکبری:ج:۲۔ص۲۲۸)امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اللہ نے اپنے نبی محمد ؐ کو عبد بنا کر خلق کیا پھر انہیں ادب و اخلاق کی تعلیم دی جب آپ کا سن مبارک ۴۰ سال کا ہواتو آپکی طرف وحی کی اور کچھ اشیاء آپکی طرف تفویض کیں اور کہا ’’اورجوکچھ بھی رسول خداؐ تمہیں دے دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ ۔‘‘روایات نے کچھ احکام ایسے ذکر کئے ہیں جن کونبی اکرم ؐنے بغیر وحی کے جعل کیا ہے اور پھر خداوند عالم نے ان احکام کاامضاء کیا ہے۔عن زرارہ عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال’’وضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ دیۃ العین ودیۃالنفس ودیۃالانف وحرم النبیذ وکل مسکر۔فقال لہ رجل فوضع ھذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ من غیر ان یکون جاء فیہ شیء؟قال علیہ السلام ’’نعم لیعلم من یطع الرسول ممن یعصیہ‘‘(بصائر الدرجات الکبری:ج:۲۔ص۲۳۴)امام باقر ؑ فرماتے ہیں ’’رسول خداؐ آنکھ ،جان اورناک کی دیت مقرر کی ہے،انگور سے بنائی ہوئی نشہ آورشراب اور ہر نشہ آورچیزکورسول خداؐ نے حرام کیا ہے۔ایک شخص نے امام باقر ؑ سے کہا کیا وحی کے بغیر رسول خدا ؐ نے ان چیزوں کومقرر کیاہے؟امام ؑ نے فرمایاجی ہاں تاکہ خدایہ جان سکے کہ کون رسول خداؐ کی اطاعت کرتاہے اورکون معصیت کرتاہے ‘‘عن ابن سنان عن اسحاق ابن عمارعن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال’’ان اللہ ادب نبیہ صلیاللہ علیہ والہ علی ادبہ فلماانتھی بہ الی مااراد قال لہ’’وانک لعلی خلق عظیم‘‘(القلم:۴)ففوض الیہ امردینہ فقال ’’ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا‘‘’’وان اللہ فرض فی القران ولم یقسم للجد شیئا۔وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ حرّم کل مسکر فاجاز اللہ لہ ذلک وذلک قول ’’ھذاعطاؤنافامنن او امسک بغیرحساب۔‘‘(ص:۲۹)(بصائرالدرجات الکبری:ج۔۲،ص۔۲۲۹)امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں’’اللہ نے اپنے رسول کو اپنے طریقے کے مطابق ادب و اخلاق کی تعلیم دی ہے جب رسول خداؐ اس منزل پر پہنچ گئے جس کا اللہ نے ان کے لئے ارادہ کیا تھا تو کہا بیشک(اے میرے رسولؐ)آپ بلنداخلاق پر فائزہیں پھر اپنے دین کا معاملہ ان کے سپرد کر دیا اور کہا جو کچھ رسول خداؐ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ ‘‘اللہ نے قرآن میں میراث کو بیان کیا ہے مگر دادا کی میراث کو بیان نہیں کیا۔رسول خداؐ نے ہر نشہ آورچیزکو حرام کیا اور خدا وند عالم نے اس کی تکمیل کی اور اس پر مہر ثبت کر دی اور یہ اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے کہا’’یہ ہماری عطاء ہے جسکو چاہودے دو جس سے چاہوروک لو اورتم سے اس کا حساب نہیں ہو گا۔عن اسحاق ابن عمار عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال’’ان اللہ ادب نبیہ حتی اذا اقامہ علی ما اراد قال لہ ’’خذالعفووامر بالمعروف واعرض عن الجاہلین‘‘(الاعراف۱۹۹)فلما فعل ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ زکّاہ فقال ’’وانک لعلی خلق عظیم ‘‘فلما زکّاہ فوّض الیہ دینہ فقال ومااتاکم الرسول ۔۔۔فانتھوا‘‘فحرّم اللہ الخمر وحرّم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ کل مسکر فاجاز اللہ ذلک وان اللہ انزل الصلاۃ وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وقّت اوقاتھافااجازاللہ ذلک لہ‘‘(بصائرالدرجات:۲،ص:۲۲۹)امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ’’کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ؐ کوادب اخلاق کی تعلیم دی یہاں تک کہ انہیں اس مقام تک پہنچا دیا جس مقام کا ان کیلئے ارادہ کیا تھا ارشادبانی ہے ’’آپ عفو کا راستہ اختیا ر کریں نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی کریں جب رسول خداؐ نے ان کاموں کو انجا م دیا توخداوندعالم نے انہیں تزکیہ نفس کی منزل تک پہنچا دیااورارشادفرمایا’’بے شک اے میرے حبیب ؐ آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں جب تزکیہ نفس کی منزل پر پہنچ گئے تو اپنے دین کے بعض امور ان کی طرف سپردکردئے پس کہاجو کچھ رسول ؐ تمہیں دے دیں اسے لے لو اور جس کام سے روکیں اس سے رک جاؤ۔پس اللہ نے شراب خوری کوحرام کیا تو رسول خداؐنے ہرنشہ آور چیزکوحرام کیاپس خداوندعالم نے اسی کو ہی نافذ کر دیا۔اللہ تعالی نے نمازکو نازل کیا اور رسول خدا ؐ نے ان نمازوں کے اوقات مقرر کئے توخداوندعالم نے اسی کو نافذ کر دیا۔‘‘عن عبداللہ ابن سنان عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال قلت لہ کیف کان یصنع امیرالمومنین بشارب الخمر قال کان یحدہ قلت فان عادقال کا ن یحدہ قلت فان عاد ۔قال کان یحدہ ثلاث مرات فان عادکان یقتلہ۔قلت فکیف یصنع بشارب المسکر۔قال یحدہ قلت فان عاد ۔قال کان یحدہ۔قلت فان عاد۔قال کان یحدہ۔قلت فان عاد۔قال کان یقتلہ۔قلت فمن شرب کمن شرب المسکر۔قال سواء فاستعظمت ذلک فقالؑ ’’لاتستعظم ذلک ان اللہ لماادّب نبیہ صلی اللہ علیہ والہ ائتدب ففوّض الیہ و ان اللہ حرّم مکۃوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ حرّم المدینۃ فاجاز اللہ لہ ذلک وان اللہ حرّم الخمر وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ حرّم کل مسکر فاجازاللہ ذلک وان اللہ فرض فرائض من الصلب وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ اطعم الجدفاجازاللہ ذلک لہ ثم قال علیہ السلام’’من یطع الرسول فقداطاع اللہ‘‘(بصائرالدرجات:ج۔۲،ص۔۲۳۳)عبداللہ ابن سنان نے امام صادق ؑ سے کہا کہ شراب خورکیساتھ امیرالمومنینؑ کیاکرتے تھے؟ امام ؑ نے فرمایا اس پر شرعی حد جاری کرتے تھے میں نے کہااگر وہ دوبارہ شراب خوری کرتا تو کیا کرتے تھے؟ فرمایا پھر بھی حد جاری کرتے تھے میں کہا اگر وہ تیسر ی بار شراب خوری کرتا تو کیا کرتے تھے ؟اما مؑ نے فرمایاتین بار اس پر شرعی حد جاری کرتے اگر چوتھی بار شراب خوری کرتا تو پھر اسے قتل کر دیتے تھے میں نے کہا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ امام ؑ نے کہا حد جاری کرتے تھے ۔میں نے کہا اگر دوبارہ نشہ آور چیز استعما ل کرتاتو کیا کرتے تھے؟امامؑ نے فرمایا کہ حد جاری کرتے تھے ،میں نے کہا اگر پھر ایسا کرتا تو کیا کرتے؟امامؑ نے فرمایا اسے قتل کر دیتے تھے ۔میں نے کہا شراب خور اور نشہ آور چیزاستعما ل کرنے والا ایک جیسے ہیں اما مؑ نے فرمایا:ہاں دونوں برابر ہیں ۔میں نے اس چیزکو بڑا اور بھاری محسوس کیا تو امام ؑ نے فرمایا۔اس چیزکو بھاری محسوس نہ کرو جب اللہ نے اپنے نبی ؐکو ادب اخلاق کی تعلیم دی تو وہ ادب اخلاق کے زیور آراستہ ہو گئے۔پس اس کے نتیجے میں خدانے کچھ امور رسول خداؐ کی طرف سپردکیے ۔خدانے مکہ کو باحرم قرار دیا تورسول خداؐنے مدینہ کوباحرمت قراردیا۔اوراللہ نے رسول خدا ؐ کے اس تصرف کونافذ العمل کر دیا۔اللہ نے شراب خور کو حرام قرار دیا تو رسول خدا ؐنے ہر نشہ آور چیزکو حرام قراردیااورخدا نے اسے نافذ العمل کر دیا ۔اللہ نے صلبی رشتہ داروں کیلئے میراث قرار دی ہے تو رسول خد اؐ نے دادا کیلئے میراث میں سے حصہ مقرر کیاہے اور خدانے اسی کو نافذالعمل قرار دیاہے ۔پھر امام ؑ نے فرمایا ’’جو رسول خداؐ کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘اسحاق بن عمار نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے سوال کیا کہ دو سجدوں سے ایک رکعت کیوں بنتی ہے اور دوسجدوں سے دو رکعت کیوں نہیں بنتیں؟امام ؑ نے فرمایا:جب تونے ایسی چیزکے بارے میں سوال کیا ہے توپھر اپنے دل سے تمام باتوں کو نکال کراچھی طرح میری با ت کو سمجھ۔پہلی نماز جس کورسول خدا ؐ نے پڑھا وہ آسمان میں عرش الہی کے سامنے بارگاہ الہی میں پڑھی وہ ا سطرح جب رسول خداؐ کو معراج کرائی گئی اور آپ عرش الہی کے پاس پہنچے تو نداء قدرت آئی اے محمدؐ آب حیات کے چشمے (جسکا نا م صاد ہے) کے قریب جاؤاپنے اعضاء سبع کو دھوؤ اورپاک کرو اور اپنے رب کیلئے نمازپڑھو ۔خداوندعالم کے حکم کے مطابق رسول خداؐاس چشمے کے قریب گئے۔وضو کیا ،پس ہر عضو کو اچھی طرح دھویااور اپنے رب کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے پھر خدا نے نماز شروع کرنے کا حکم دیاتو رسول خدا ؐ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ارشادہوا اے محمدؐ(بسم اللہ الرحمن الرحیم۔الحمد للہ رب العالمین)آخرتک پڑھو۔پاک پیغمبر ؐ نے ایسے ہی کیا ۔پھر حکم دیا ۔اپنے رب کے لئے پڑھ (بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قل ھواللہ احد۔اللہ الصمد۔)رسول خداؐ یہ پڑھ کر خاموش ہو گئے پھر ارشادہوا پڑھ (لم یلد ولم یولد ۔ولم یکن اللہ کفوااحد۔)پھر رسول خداؐ خاموش ہوئے اور کہا(کذلک اللہ ربی،کذلک اللہ ربی )جب ایسے کیاتوخدا کی ذات نے حکم دیااے محمدؐ اپنے رب کیلئے رکوع کرو ۔رسو ل خدا ؐنے رکوع کیا تو خدا نے کہا اے محمد ؐ کہو (سبحان ربی العظیم وبحمد ہ)رسول خداؐنے تین مرتبہ ایسے کہاپھرکہااے محمدؐ اپنے سر کو اٹھاؤرسول خداؐ نے ایسے ہی کیا اور اپنے رب کی بارگاہ میں سیدھے کھڑے ہو گئے ۔پھر خدانے کہا اے محمدؐ اپنے رب کو سجدہ کروتو رسول خداؐ نے اپنے سر کو سجدہ میں رکھ دیا اور خدا نے کہا اے محمد ؐپڑھو (سبحان ربی الاعلی وبحمدہ ) رسول خداؐ نے تین مرتبہ پڑھا پھر حکم ہوا اے محمدؐ سیدھے بیٹھ جاؤ۔رسول خداؐ نے ایساہی کیاجب سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تواپنے رب کی بزرگی کویادکیا۔تو اللہ تعالی کے حکم کے بغیراپنی طرف سے سر سجدے میں رکھ دیا ۔تین مرتبہ تسبیح خداکی پھرحکم خدا ہوا اے محمدؐسیدھے کھڑے ہوجاؤتو رسول خداؐنے ایسے ہی کیاپھر حکم ہوا اے محمدؐ جیسے پہلی رکعت میں پڑھا ہے ایساہی پڑھو تو رسول خداؐنے ایسے ہی کیاپھر جب سجدے میں گئے تو ایک سجدہ کیا اور سجدے سے سر اٹھایا تو اپنے رب کی بزرگی کو یاد کیا تو پھر خدا کے حکم کے بغیر اپنی طرف سے سر سجدے میں رکھ دیااور تین مرتبہ تسبیح پڑھی پھر حکم ہوا اے محمد ؐسر سجدے سے اٹھاؤ۔خدا تجھے ثابت قدم رکھے اور کہا پڑھو (اشھدان لاالہ الااللہ ان محمد رسول اللہ وان الساعۃ آتیۃ لاریب فیہ وان اللہ یبعث من فی القبور )میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،محمدؐ اللہ کے رسول ہیں قیامت کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور خدا مردوں کو انکی قبروں سے اٹھائے گا (اللھم صل علی محمد آل محمد کما صلیت وبارکت وترحمت علی ابراھیم وآل ابراھیم انک حمید مجید اللھم تقبل شفاعتہ فی امتہ وارفع درجتہ ففعل )اے خدا یا آپ محمدؐوآل محمدؐ پر ایسے درود سلام بھیجیں جیسے ابراہیم ؑ وآل ابراہیم ؑ پردرودبھیجا انہیں بابرکت بنایا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائی بے شک تو قابل ستائش اور بڑی شان والا ہے ۔اے اللہ محمد ؐ کی امت میں ان کی شفاعت کو قبول کر اور ان کے درجات کو بلند کر پس رسول خداؐنے ایسے ہی کیا۔پھر ارشاد ہوااے محمدؐ:رسول خداؐ اپنے رب کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے اور کہا اے میرے رب تجھ پر میرا سلام ہو تو خدا جبار نے جواب دیا ۔اے محمدؐ تم پر بھی میرا سلام ہو میں نے اپنی نعمت کے طفیل تجھے اپنی اطاعت پر قدرت دی ہے اور اپنی عصمت کے صدقے میں تجھے اپنا نبی حبیب بنایا ہے ۔پھر امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا (اے اسحاق بن عمار)جس نماز کا خدا نے رسول خداؐ کو حکم دیا تھا وہ دو رکعتیں اور دو سجدے تھے لیکن جب ہر رکعت کے پہلے سجدے کے بعد رسول خدا ؐنے اپنے رب کے جلال وبزرگی کو یاد کیا تو ہر رکعت میں دو سجدے کر دیئے (یعنی ایک سجدے کااضافہ رسول خدؐا کی طرف سے ہے )پس خداوندعالم نے رسول خداؐ کے اس اضافی سجدے کو واجب قرار دیا ہے۔(علل الشرائع:ج۔۲،ص:۲۳۵)یہ روایت اور اس سے ملتی جلتی متعدد روایات واضح طور پربیان کررہی ہیں کہ جس نماز کو ہم دن میں پانچ مرتبہ پڑھتے ہیں اس کے بعض اجزاء کو خود اللہ نے بیان کیا ہے اور بعض اجزاء کو رسول خداؐ نے بیان کیا ہے ۔یعنی اضافہ کیا ہے اور رسول خداؐ کے اس اضافے کو اللہ نے واجب قرار دیا ہے۔اسی وجہ سے ایسی روایات ہمارے پاس موجود ہیں جو خدا وند عالم کے فرض کرد ہ ا جزاء اور رسول خدا ؐکے اضافہ کردہ اجزاء کو ممتاز وجدا کرتی ہیں ۔۶۔عن زرارہ عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال عشررکعات رکعتان عن الظھرورکعتان من العصر و رکعتا الصبح ورکعتا المغرب و رکعتا العشا الاخر ۃ لایجوز الوھم فیھن وھی الصلوۃ اللتی فرضھا اللہ عزوجل علی المؤمنین فی القران وفوض الی محمد صلی اللہ علیہ والہ فزاد النبی صلی اللہ علیہ والہ فی الصلوۃ سبع رکعات وھی سنۃ لیس فیھا قراءۃ انما ھی تسبیح و تحلیل و تکبیر و دعاء فالوھم انما یکون فیھن فزاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ فی صلاۃ المقیم غیر المسافر رکعتین فی الظہر والعصر والعشاء الاخرۃ و رکعۃ فی المغرب للمقیم والمسافر۔(الفروع من الکافی :ج۳،ص۔۲۷۳)زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ نماز کی رکعات کی تعداد دس ہے ۔دو ظہر کی،دو عصر کی،دو صبح کی ،دو مغرب کی اور دو عشاء کی ان میں شک کرنا درست نہیں جس نے ان میں شک کیاوہ نئے سرے سے قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے یہ وہی نماز ہے جس کو اللہ نے مومنین پرقرآن میں واجب کیا ہےرسول خدا حضرت محمدؐ کوخدانے کچھ امور دینی سپرد کیے پس انھوں نے نمازمیں سات رکعتوں کا اضافہ کیایہ سنت ہیں ان میں قرائت نہیں ہے بلکہ یہ تسبیح و تہلیل،تکبیر و دعا ہیں ۔شک ان زائد رکعتوں میں ہوتا ہے رسول خدا ؐنے مقیم (جو مسافر نہیں ہے)کے لیے ظہر وعصر وآخری نمازعشاء میں دودو رکعتوں کااضافہ کیاہے اور مقیم مسافر دونوں کیلئے مغرب میں ایک رکعت کا اضافہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ متعدد روایات نے اس چیز کو بڑی وضاحت کے ساتھ ثابت کیا ہے۔رسول خداؐ کو اللہ تعالی نے اپنے اذن سے تشریع کا حق سپرد کیا تھا۔اور پھر مستفیض حد تک روایات یہ کہہ رہی ہیں جو کچھ اللہ نے اپنے حبیب ؐکی طرف تفویض کیا رسول خداؐ نے اسے اپنی اہل بیت ؑ کی طرف سپرد کیا ہے۔۱۔عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال سمعتہ یقول ’’ان اللہ ادّب رسولہ صلی اللہ علیہ والہ حتی قومّہ علی ما اراد ثم فوّض الیہ فقال ’’مااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا‘‘فمافوّض اللہ الی رسولہ فقد فوّض الینا‘‘(بصائرالدرجات:ج۔۲۔ص:۲۳۷)راوی کہتا ہے جس نے امام صادق ؑ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’اللہ نے اپنے رسول کو ادب واخلاق کی تعلیم دی یہاں تک کہ انہیں اس منزل تک پہنچادیا جس کا ان کے حق میں ارادہ کیا تھا پھر رسول خداؐکی طرف کچھ امور سپرد کیے اور کہا اور جو کچھ تمھیں رسول خداؐ دیدے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ‘‘پس اللہ نے جو کچھ اپنے رسولؐ کی طرف تفویض کیا وہ ہماری طرف تفویض کیا ہے۔‘‘۲۔عن عبداللہ بن سنان قال’’قال ابو عبداللہ الصادق علیہ السلام لاواللہ مافوّض اللہ الی احد من خلقہ الا الی رسول اللہ والائمۃعلیہ وعلیہم السلام فقال ’اناانزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراکاللہ‘‘(النساء۱۰۵)وھی جاریۃ فی الاوصیاء‘‘(بصائرالدرجات:ج۔۲۔ص:۲۴۲)عبداللہ بن سنان روایت کرتے ہیں کہ امام صادق ؑ نے فرمایا ’’نہیں خدا کی قسم اللہ نے رسول خدا ؐاور ٓائمہ علیہم السلام کے علاوہ کسی کی طرف کوئی چیز تفویض نہیں کی ہے ۔اور کہا اے رسولؐ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ جیسے اللہ نے آپ کو بتایا ہے اسی کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کریں‘‘یہ آیت اوصیاء کے حق میں بھی جاری ہے۔ ‘‘یہ ساری تشریعات جو محمد وآل محمدعلیھم السلام سے جاری ہوئی ہیں یہ اللہ کے اذن کے ساتھ جاری ہوتی ہیں مگر خدا کی تشریعات اور ان کی تشریعات میں فرق یہ ہے کہ جو کچھ خدا وند عالم نے تشریع کیا ہے بغیر کسی واسطے کے کیا ہے اس کی ا نجام دہی حتمی ہے مگر اضافہ کرنا یہ نبی ؐاور اس کی آل کی طرف سپرد ہیں اب ان کی مرضی کہ ا ضافہ کریں یا نہ کریں ۔لیکن اگر انھوں نے اضافہ کردیا تو پھر خدا ان کے اضافے کو واجب کر دیتا ہے اور خدا کے واجب کردہ کے سامنے سر جھکانا واجب ہے ۔آخر میں ہم ا س بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری گفتگو ان لوگوں سے مختلف ہے جو کہتے ہیں کہ آئمہؑ فقط نبی اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر انہیں تشریع احکام کی اجازت نہیں ہے اس نظریہ کی روشنی میں آئمہ علیھم السلام کیلئے ولایت تشریعی کا سوال ہی پید انہیں ہوتا ۔لیکن ہم نے اس گفتگو میں قرآن واحادیث کی روشنی میں رسول خدا ؐاور اھل بیت علیھم السلام کیلئے اللہ کے اذن سے ولایت تشریعی کو ثابت کیا ہے۔

+

 نوشته شده در  پنجشنبه ششم مهر ۱۳۹۱ساعت 16:5  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


غلو کے علل و اسباب:

غلو جیسے فاسد عقیدے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے علل واسباب پر ایک باریک نظر ڈالی جائے ہم یہاں ان علل واسباب میں سے چند کو اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

(۱)سیاسی مصلحتیں:

اگر ہم یہ کہیں تو شاید حق بجانب ہوں گے کہ غلو کے پروان چڑھنے میں بنیادی عامل سیاسی اہداف واغراض اور لوگوں کی گردنوں پر مسلط ہوناہے۔یہی عامل ہے کہ جس نے بادشاہان وقت کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ اہل بیت ؑ کو لوگوں کی نظروں سے گرادیں اور ان پر مختلف قسم کی تہمتیں لگائیں کہ وہ اپنے آپکو معبود اور معبود جیسی صفات کے ساتھ متصف کرتے ہیں جبکہ یہ بشر ہیں اور بشر میں خدا کی صفات نہیں پائی جاتیں اور یہ سب کچھ معاشرے میں ان کی شان وشوکت کو کم کرنے اور ان کے اردگرد موجود لوگوں کے حلقے ودائرے کو توڑنے کے لیے تھا۔

کیونکہ لوگ جب سچے دل سے اہل بیت ؑ کے دروازے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ظالم بادشاہوں کے تخت کے پائے لرزنے لگتے ہیں انہیں اپنی کرسی وحکومت کی بقاء کی فکر لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے یا تووہ معصوم کو قتل کروادیتے ہیں یا مختلف تہمتیں لگا کر ان کی شان وشوکت کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف جانے کی بجائے ہمارے درباروں کی زینت بنے رہیں۔

ان سیاسی اغراض و مقاصد میں سے ایک تیرغلوکا ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں بعض غالیوں کو بھیجا جائے جو مسلمانوں کی صفوں میں جاکر یہ دعوی کریں کہ ہم شیعہ اہل بیت ؑ کورب کہتے ہیں۔اس طریقہ سے لوگ اہل بیت ؑ اور ان کے مذہب حقہ سے دور ہو جائیں گے۔

اس بات کی طرف الشیخ اسد حیدر نے اشارہ کیا:’’سب سے عظیم ترین چیز جس کے ذریعہ شیعہ پر حملہ کیا گیا وہ غالیوں کے گروہ کا مذہب شیعہ میں اضافہ کرناہے۔‘‘

میں یہ بات بڑے اطمینا ن سے ثابت کرسکتاہوں کہ ان گمراہ فرقوں کو سیاست کے مضبوط ہاتھوں نے پختہ بنایا ان کے لیے راستے فراہم کیے تاکہ اپنی غایت تک پہنچ جائیں اوروہ غایت شیعہ مذہب کی مذمت کرنا ہے اور اہل بیت ؑ کی عزت و کرامت کو کم کرناہے۔

اور یہ بات واضح ہے کہ مذہب اہل بیت ؑ کے دائیں بائیں گمراہی نہیں آسکتی اور ان اہل بیت ؑ کی تعلیمات ہی وہ بنیادی نقطہ ہیں جس کے اردگرد پورے اسلام کانظام چکر لگا رہا ہے۔شیعہ مذہب کی صفوں میں غالیوں کاآجانایہ سیاسی عوامل کا نتیجہ ہے۔

(الامام الصادق علیہ السلام والمذاھب الاربعۃ ج۱ص۲۳۴)

اور اسی بنیادی عامل کی طرف آئمہ ؑ نے اپنی احادیث میں اشارہ کیاہے۔

(۱)قال الامام رضا علیہ السلام ان مخالفینا وضعوااخباراًفی فضائلنا وجعلوھا علی ثلاثۃ اقسام احدھا الغلووثانیھا التقصیرفی امرنا التصریح بمثالب اعدائنا فاذاسمع الناس الغلوفیناکفّرواشیعتنا ونسبوھم الی القول بربوبیتنا واذاسمعواالتقصیر اعتقدوہ فیناواذاسمعوا مثالب اعداءھم باسماءھم ثلبونا باسمائنا وقد قال اللہ عزوجل:’’ولاتسبّوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبّوااللہ بغیر علم کذلک زینا لکل امۃ عملھم ثم الی ربھم مرجعھم فینبّءھم بماکانوا یعلمون۔‘‘(الانعام۱۰۸)(عیون اخبار الرضا علیہ السلام ج۱ص۲۷۲)

ہمارے مخالفین نے ہمارے فضائل میں تین قسم کی احادیث کو اپنی طرف سے ایجاد کیا ہے ایک غلو ہے۔دوسرا ہمارے حق میں کوتاہی کرنا،تیسرا ہمارے دشمنوں کو کھلاکھلم سب و شتم کرنا،جب لوگ ہم میں غلو سنیں گے تو ہمارے شیعوں کو کافر کہیں گے اور ان کی طرف یہ نسبت دئیں گے کہ وہ ہمیں رب کہتے ہیں۔جب تقصیر کو سنیں گے تو اسے ہی ہمارے بارے میں اپنا عقیدہ بنالیں گے اور جب ہمارے دشمنوں پر انکے ناموں کے ساتھ سب وشتم سنیں گے تو وہ ہمارے نام لے کر ہم پر سب وشتم کریں گے اور خداوندعالم نے ارشاد فرمایا: ’’خبر دار تم لوگ انہیں برابھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کیلئے اس کے عمل کو آراستہ کر دیا ہے ا س کے بعد سب کی باز گشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو انکے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا ۔‘‘

(۲)قال الامام صادق علیہ السلام انا اہل بیت صدّیقون لانخلومن کذاب یکذب علینا فیسقط صدقنا بکذبہ عند الناس۔(بحارالانوارج۲۵ص۲۸۷)

امام صادقؑ نے فرمایا:’’ ہم اہل بیت ؑ ایسے سچے ہیں کہ ہم جھوٹوں کے جھوٹ سے خالی نہیں ہیں لوگوں میں ان کے جھوٹ سے ہمارا سچ چھپ جاتاہے۔‘‘

(۳)قال الامام الصادق علیہ السلام یوما لاصحابہ لعن اللہ المغیرۃبن سعید ولعن اللہ یھودیہ کان یختلف الیھا یتعلم منھا السحر والشعبذۃ والمخاریق ان المغیرۃ کذب علی ابی علیہ السلام فسلبہ اللہ الایمان وان قوماً کذبوا علیّ مالھم اذاقھم اللہ حرّالحدیدفواللہ ما نحن الاّعبید الذی خلقنا واصطفانا مانقدر علی ضرّولانفع وان رحمنا فبرحمتہ وان عذبنا فبذنوبنا واللہ مالنا علی اللہ من حجۃ ولا معنا من اللہ براء ۃ وانا لمیتون ومقبرون ومنشرون۔(بحارالانوارج۲۵ص۲۸۹)

امام صادقؑ نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا:’’اللہ مغیرہ بن سعید پر لعنت کرے مغیرہ یہودیو ں کے پاس جادو و شعبد ہ بازی اور زیادہ جھوٹی باتیں سیکھنے آتاجاتاتھا مغیرہ نے میرے والد پر الزام لگایا پس اللہ نے اس کے ایمان کو سلب کر لیا۔ایک قوم نے میرے والد پر غلط الزام لگایا خدا انہیں جہنم کی آگ کا مزہ چکھائے خداکی قسم ہم خدا کے بندے ہیں جنہیں خدا نے خلق کیا اور ہمیں اپنے تمام بندوں سے منتخب کرلیا ہم کسی نفع ونقصان پر قادر نہیں ہیں اگر وہ ہم پر مہربان ہے تو اپنی رحمت کے صدقے سے اگر وہ ہمیں عذاب دے گا تو ہمارے گناہوں کی وجہ سے(لیکن شیعہ امامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ اہل بیت ؑ گناہان صغیرہ وکبیرہ اور ترک اولیٰ سے پاک و پاکیزہ ہیں)خدا کی قسم ہم اللہ پر حجت نہیں ہیں نہ ہی ہمارے پاس اللہ کی طرف سے نجات وکامیابی کا پروانہ وسند ہے ہم بھی ضرور اس دارفانی سے کوچ کریں گے ہمارے مقبرے بھی بنیں گے ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

(۲)شخصی امیدیں:

اس عامل کے اہم ترین مصادیق میں سے محمد بن نصیر الفھری، حسن بن محمد القمی ہیں جن کے بدنما چہروں سے امام حسن عسکری ؑ نے نقاب اتارا اور فرمایا:

’’ابرا الی اللہ من الفھری والحسن بن محمد بابا القمی فابراء منھما وانّی محذّرک وجمیع موالیّ وانّی العنھما علیھما لعنۃ اللہ مستأکلین یأکلان بنا الناس فتّانین موذنین آذاھما وارکسھما فی الفتنۃ رکسا یزعم ابن بابا انّی بعثتہ نبیا وانہ علیہ لعنہ اللہ سخر منہ الشیطان فاغواہ فلعن اللہ من قبل منہ ذلک یا محمد ان قدرت ان تشدخ راسہ بالحجر فافعل فانہ قد آذانی آذاہ اللہ فی الدنیا والاخرۃ۔‘‘(اختیارمعرفۃ الرجال المعروف برجال الکشی ج۲ص۸۰۵)

امام عسکری ؑ نے ایک شخص(العبیدی)کی طرف لکھامیں فھری اور حسن بن محمد بن بابا القمی سے بری ہوں اور تم بھی ان دونوں سے بیزارر ہو میں تمہیں اور اپنے تمام دوستوں کو اس سے خبردار کرتاہوں میں ان دونوں پر اللہ کی لعنت کرتاہوں وہ دونوں ہمارے سب لوگوں سے ہمارامال کھاتے ہیں وہ دونوں شرانگیز،اذیت دینے والے ہیں خدا ان دونوں کو اذیت دے خدا ان دونوں کو فتنے کی دلدل میں پھنسا دے۔ابن بابا یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے اسے مبعوث بہ نبوت کیا ہے اور وہ مجھ تک آنے کا ایک راستہ ہے اس پر خدا کی لعنت ہو شیطان نے اس کا مذاق اڑایا پس اسے گمراہ کردیاخدا اس پر لعنت کرے جو اس کی باتوں کو قبول کرتاہے اے محمد اگر تم پتھر سے اس کے سر کو ریزہ ریزہ کرنے پرقادر ہو تو ایسا کرو اس نے مجھے اذیت دی خدا دنیا وآخرت میں اسے اذیت دے گا۔

یہ دونوں بہت بڑے غالی تھے محمد بن نصیر الفھری نے نبوت ورسالت کا دعوی کیا اور ابو الحسن موسیٰ بن جعفر ؑ میں غلو وتناسخ کا قائل تھا۔

(۳)فکری پستی:

شعور واحساس کا کھو دینا ،بندگی کی حقیقت کو سمجھنے پر قادر نہ ہونا اور انبیاء و آئمہ ؑ کی کرامات کو دیکھ کر حیران ہوجانا،صحیح احادیث کو من گھڑت احادیث سے تمیز نہ دینا یہ غلو کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

اسی عامل کی طرف امام رضا ؑ نے اشارہ کیا جب ایک شخص نے کہا اے فرزند رسول وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ علی ؑ نے جب اپنی طرف سے ایسے معجزات دکھائے جن پر غیر خدا قادر نہ تھا تو وہ علی ؑ کو معبود بنا بیٹھے تو آپ ؑ نے فرمایا:

’’ان ھولاء الضلال الکفرۃ مااتوا الا من قبل جھلھم بمقدار انفسھم حتی اشتداعجابھم وکثرۃ تعظیمھم لما یکون منھا فاستبدوا بآراءھم الفاسدۃ و اقتصروا علی عقولھم المسلوک بھا غیر سبیل الواجب حتی استصغروا قدر اللہ واحتقروا امرہ وتھاونوا بعظیم شانہ اذلم یعلموا انہ القادر بنفسہ الغنی بذاتہ الذی لیست قدرتہ مستعارۃ ولاغناہ مستفادا والذی من اشاء افقرہ ومن اشاء اغناہ ومن اشاء اعجزہ بعد القدرۃ وافقرہ بعد الغنی۔‘‘(بحاالانوارج۲۵ص۲۷۶)

’’یہ گمراہ کافر اپنے نفس سے جتنی مقدار جاہل تھے اتنی ہی بات لائے ہیں ۔یہاں تک کہ ان معجزات کو دیکھ کر ان کا تعجب شدید ہو گیا پس وہ اپنے فاسد عقیدے میں دوسرے لوگوں سے منفرد ہو گئے اور اپنی عقلوں پر اعتماد کر کے اپنے راستے کو چھوڑ کر ایسا رستہ چلے ہیں کہ خدا کی قدرومنزلت کو کم کر دیا اور اس کی شان کو گھٹادیا اور اس کی بلند وبالا شان و شوکت میں سستی برتی کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہی بذاتہ قادر غنی ہے جس کی قدرت وغنا کسی سے لیا ہو ااور کسب کردہ نہیں ہے جسکووہ چاہے فقیری کا لباس پہنادے اور جس کو چاہے تونگری عطاء کرنے کے بعد فقیری دے دے۔(وہ سب پر قادر ہے)‘‘

+

 نوشته شده در  پنجشنبه ششم مهر ۱۳۹۱ساعت 15:30  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


غلو علماءِ مسلمین کے نگاہوں میں:

متعدد علماء فریقین کے کلمات میں غلو کا معنی بیا ن ہو اہے۔

(۱)شیخ مفیدؒ :

’’الغلوھوالتجاوزعن الحد والخروج عن القصدوالافراط فی حق الانبیاء والائمۃ علیہم السلام‘‘۔

’’حد سے بڑھ جانا میانہ روی سے خارج ہونا انبیاء ؑ وآئمہ ؑ کے حق میں حد سے بڑھ جانے کا نام غلو ہے‘‘۔

لا تغلوا فی دینکم(اپنے دین میں غلو سے کام نہ لو)کی آیت کے ذیل میں فرمایا:

’’ان اللہ نھی عن تجاوزالحد فی المسیح وحذّر من الخروج عن القصد وجعل ما ادعتہ النصاری فیہ غلواًلتعدیہ الحدّ۔‘‘(تصحیح اعتقادات الامامیۃ ص۱۰۹)

’’خدا وندعالم نے جناب عیسیٰ ؑ کے حق میں حد سے تجاوز کرنے سے نہی کی ہے اور میانہ روی سے نکلنے سے ڈرایا ہے اور نصاریٰ کے دعوی کو غلو قرار دیا ہے کیونکہ وہ حد سے بڑھ گئے تھے۔‘‘

(۲)شہیدالصدرؒ :

بعض اوقات مرتبہ الوہیت کے لحاظ سے غلو ہوتاہے،بعض اوقات مرتبہ نبوت کے لحاظ سے غلو ہو تاہے اور بعض اوقات خدا کی صفات و افعال میں غلو ہوتاہے۔

مرتبہ الوہیت میں غلو کبھی ایسے ہوتاہے کہ انسان کسی کے حق میں خدا ہونے کا عقیدہ رکھے یا کبھی ایسے ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کو اللہ(واجب الوجود)تو نہیں سمجھتا مگر الوہیت اور استحقاق عبادت میں واجب الوجود کا شریک سمجھتا ہے اور یہ شریک ٹھہرانا بعض اوقات عرض میں ہوتا ہے بعض اوقات طول میں ہوتاہے۔یا کبھی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خداوندعالم فلان شخص میں حلول کرگیا ہے۔یہ سب کفر ہے پہلی صورت میں کیونکہ وہ خداوندعالم کا منکر ہے اسی لیے کافر ہے۔دوسری صورت میں اسکی توحید کا منکر ہے اسی لیے کافر ہے اور تیسری صورت میں حلول کی بازگشت غیر خدا کی طرف ہے اسی لیے کافر ہے۔

مرتبہ نبوت میں غلو ایسے متصور ہے کہ کوئی انسان کسی کے بارے میں نبی سے افضل ہونے کا عقیدہ رکھے اور یہ کہے کہ یہ انسان نبی اور خدا کے درمیان حلقہ وسط ہے یا ایسے متصور ہے کہ وہ نبی کا مساوی و ہم پلہ ہے اس طرح کہ نبی کی نبوت و رسالت اس کو شامل نہ ہو(یعنی یہ نبی ورسول اس کے لیے نہ ہو)یہ بھی کفر کا موجب ہے کیونکہ شھادت ثانیہ کا مفہوم متصور ہے یہ اس کا انکار ہے کیونکہ دوسری شہادت میں انسان یہ تسلیم کرتاہے کہ یہ نبی تما م مکلفین کے لیے رسول بن کر آیاہے اس سے کوئی مستثنی نہیں ہے۔

خدا کی صفات وافعال میں غلو ایسے متصور ہے کہ کسی صفت یا فعل کو ایسے شخص کی طرف منسوب کیا جائے جو اس صفت وفعل کی صلاحیت ومستوی کا نہ ہو۔(بحوث فی شرح العروۃ الوثقی ج۳ص۲۸۴)۔

(۳)شہرستانی:

وہ لوگ جو آئمہؑ کے حق میں غلو کرتے ہیں حتی کہ انہیں مخلوق کے درجہ سے نکال کر ان پر الہیٰ احکام لگاتے ہیں وہ غالی ہیں۔

بعض اوقات وہ لوگ کسی ایک امام کو معبود کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں بعض اوقات معبود کو مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں یہ غلو اور تقصیر کی حدوں پر کھڑے ہیں انکی یہ تشبیہات حلول،تناسخ،مذہب یہود و نصاری سے پھوٹی ہیں کیونکہ یہود نے خالق کو مخلوق سے تشبیہ د ی ہے اور نصاری نے مخلوق کو خالق کے ساتھ تشبیہ دی ہے اس قسم کے شبھات شیعہ میں موجود غالیوں کی طرف بھی سرایت کر آئے ہیں یہاں تک کہ بعض نے آئمہ ؑ کے حق میں احکام الہی کو جاری کیاہے۔(الملل و النحل ج۱ ص۱۷۳)

+

 نوشته شده در  پنجشنبه ششم مهر ۱۳۹۱ساعت 15:27  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


احادیث میں غلو کا معنی:

احادیث میں غلو کا معنی:

روایات کا ایک بہت بڑا مجموعہ اہل بیت ؑ سے نقل ہو اہے جس میں اہل بیت ؑ نے غالیوں کو منع کیا کہ وہ انہیں مقام الوہیت ومقام ربوبیت تک نہ لے جائیں چند روایات ہم اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

(۱)عن الفضیل بن عثمان قال سمعت ابا عبداللہ الصادق علیہ السلام یقول اتقوا اللہ وعظّموا اللہ وعظّموارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ولاتفضلوا علی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم احداً فان اللہ تبارک وتعالیٰ فضلہ واحبوا اھل بیت نبیکم حباًمقتصدا ولا تغلوا ولاتفرقوا ولاتقول مالانقول۔(قرب الاسناد ص۱۲۹ الحدیث۴۵۲)

فضیل بن عثمان کہتاہے میں نے امام صادقؑ سے سنا ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:’’تقویٰ کے دامن کو پکڑواللہ کو بڑا درجہ دورسول خدا ؐ کی تعظیم کرو،رسول خداؐپر کسی کو فضیلت نہ دو کیونکہ خدا نے اپنے حبیب ؐکو تمام پر فضیلت دی ہے اوراپنے نبیؐ کی آل ؑ سے محبت میں میانہ روی احتیار کرو غلو نہ کرو(نہ کوتاہی کرو)گروہ گروہ نہ بنوہم اپنے بارے میں جو نہیں کہتے وہ نہ کہو۔‘‘

(۲)الحسن بن الجھم کہتا ہے ایک دن میں مامون کے دربار میں حاضر ہوا امام رضا ؑ بھی وہا ں موجود تھے مختلف مذاہب کے فقھاء واہل کلام بیٹھے تھے مامون نے امام رضاؑ سے کہا:’’ اے ابوالحسن میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ آپ کے حق میں غلو کرتے ہیں اور آپ(کے فضائل)میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

امام رضا ؑ نے فرمایا:’’میں نے اپنے والدگرامی امام موسیٰ بن جعفر ؑ سے انھوں نے اپنے والد گرامی امام جعفر صادقؑ سے انھوں نے اپنے والدامام محمد باقرؑ سے انھوں نے اپنے والدامام زین العابدین ؑ سے انھوں نے امام حسین ؑ سے انھوں نے امام علی بن ابی طالب ؑ سے انھوں نے کہا کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا:

’’لا ترفعونی فوق حقی فان اللہ تبارک وتعالیٰ اتخذنی عبداقبل ان یتخذنی نبیا قال اللہ تبارک وتعالیٰ:’’ وماکان بشر ان یوتیہ اللہ الکتاب والحکم والنبوۃثم یقول للناس کونواعبادالی من دون اللہ ولکن کونوا ربانیّین بما کنتم تعلمون الکتاب وبماکنتم تدرسون ولایامرکم ان تتخذواالملائکۃ والنبیّین ارباباایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون۔‘‘(آل عمران۸۰،۷۹)

رسول خدا ؐ نے فرمایا:’’مجھے میرے حق سے زیادہ بلند نہ کرو اللہ نے مجھے نبی بنانے سے پہلے اپنا عبد بنایا ہے ۔ارشاد ربانی ہے:

’’کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تو اسے کتاب وحکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے کہے اللہ کے بجائے میرے بندے بن جاؤ بلکہ(وہ تو یہ کہے گا)جو تم(اللہ کی)کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور جو کچھ پڑھتے ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم سچے ربانی بن جاؤ اور وہ تمھیں فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بنانے کو حکم نہیں دے گا کیا (ایک نبی)تمھیں مسلمان ہو جانے کے بعد کفر اختیار کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔‘‘

(۳)قال علی علیہ السلام یھلک فیّ اثنان ولا ذنب لی محب مفرط ومبغض مفرط وانا ابرأ الی اللہ تبارک وتعالی فمن یغلو فینا ویرفعنا فوق حدنا کبراء ۃ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام من النصاری قال اللہ تعالیٰ’’واذقال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أأنت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ قال سبحانک ما یکون لی أن أقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا أعلم ما فی نفسک انک أنت علام الغیوب۔وما قلت لھم الا ما أمرتنی بہ أن اعبدوا اللہ ربی وربکم وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت أنت الرقیب علیھم وانت علی کل شی ء شھید۔(المائدہ۱۱۷،۱۱۶)ثم قال فمن ادعی للانبیاء ربوبیۃ وادعی للائمۃ ربوبیۃ او نبوۃ او لغیر الائمۃ امامۃ فنحن منہ براء فی الدنیا والاخرۃ۔‘‘(عیون اخبار الرضا علیہ السلام ج۲ص۲۱۷)

امیر المومنین علی ؑ نے فرمایا:’’دو قسم کے افراد میری وجہ سے ہلاک ہو نگے اور اس میں میرا کوئی قصورنہیں ہوگا حد سے بڑھا دینے والا محب اور حد سے زیادہ بغض کرنے والا۔جو ہم میں غلوکرتا ہے اور ہماری حد سے ہمیں بلند کرتا ہے میں اس سے ایسے ہی بری ہوں جیسے عیسیٰ بن مریم ؑ نصاری سے بری تھے۔خدا وندعالم نے فرمایا:’’اور (وہ وقت یادکرو)جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ بن مریم ؑ کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سواء مجھے اور میری والدہ کو خدا بناؤ۔عیسیٰ ؑ نے عرض کی تو پاک ہے میں ایسی بات کہہ سکتاہوں جس کا مجھے حق نہیں ہے اگر میں نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو تجھے اس کا علم ہوتا کیونکہ تو میرے دل کی بات جانتا ہے لیکن میں تیرے اسرار نہیں جانتا یقیناًتو ہی غیب کی باتیں خوب جاننے والا ہے میں نے تو ان سے صرف وہی کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا پروردگا ر ہے جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان پر گواہ رہا اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو خود ہی ان پر نگران ہے اور تو ہی ہر چیز پر گواہ ہے۔

پھرامام ؑ نے فرمایا جس نے انبیاء ؑ کو رب کہا،آئمہؑ کو رب یا بنی کہا،آئمہؑ کے علاوہ کسی اور کو امام مانا ہم دین و آخرت میں اس سے بری ہیں۔‘‘

(۴)عن اسماعیل بن عبد العریزقال:’’قال ابوعبداللہ الصادق علیہ السلام یا اسماعیل ضع لی فی المتوضأماء قال فقمت فوضعت لہ فدخل فقلت فی نفسی انا اقول فیہ کذا کذا ویدخل المتوضأ ویتوضّاقال فلم یلبث ان خرج فقال یا اسماعیل لا ترفع البناء فوق طاقتہ فینھدم اجعلونا مخلوقین وقولوا فینا ماشئتم فلن تبلغوا۔‘‘(بحارالانوارج۲۵ص۲۷۹حدیث۲۲)

اسماعیل کہتاہے کہ امام صادقؑ نے مجھے کہا:’’اے اسماعیل وضو خانے میں میرے لیے پانی رکھو اسماعیل کہتاہے میں اٹھا اور وضو خانے میں پانی رکھ دیا اور امامؑ وضو خانے میں چلے گئے میں نے دل میں کہا میں تو امام ؑ کے حق میں ایسا ایسا کہتا ہوں اور وہ وضو خانے میں وضو کرنے چلے گئے ہیں۔کہتا ہے تھوری دیر کے بعد امامؑ باہر آئے اور کہا:اے اسماعیل عمارت کی طاقت سے زیادہ اسے بلند نہ کرو وگرنہ عمارت زمین بوس ہو جائے گئی ہمیں مخلوق کے درجے پر رکھو اور پھر ہمارے حق میں جو مرضی ہے کہو تم ہرگز حد سے نہ بڑھو گے۔‘‘

(۵)قال صالح بن سھل کنت اقول فی الصادق علیہ السلام ما تقول الغلاۃ فنظر الیّ وقال ویحک یا صالح انا واللہ عبید مخلوقون لنا رب نعبدہ وان لم نعبدہ عذّبنا۔(مناقب آل ابی طالب ج۳ص۳۴۷)

صالح بن سہل کہتاہے:’’ میں امام صادقؑ کے حق میں وہی کہتا ،جو غالی امام ؑ کے بارے میں کہتے ہیں پس امام ؑ نے میری طرف دیکھا اور کہا:’’اے صالح تیری بربادی ہو خدا کی قسم ہم اللہ کے بندے، اسکی مخلوق ہیں ہمارا رب وہی ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں اگر ہم اس کی عبادت نہ کریں تو وہ ہمیں عذاب دے گا۔‘‘

ان روایات کی روشنی میں واضح ہو جاتاہے کہ غلو اہل بیت ؑ کے نزدیک کسی کومخلوق کی حد سے بڑھا کر اور بلند کرکے مقام الوہیت تک لے جانے کا نام ہے۔

+

 نوشته شده در  سه شنبه بیست و هشتم شهریور ۱۳۹۱ساعت 20:2  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


شرعی استعمال میں غلو کا معنی

شرعی استعمال میں غلو کا معنی جاننے کے لیے سب سے پہلے قرآن وروایات وعلماء کے کلمات میں جہاں جہاں غلو استعمال ہوا ہے ان موارد کو ذکر کرنا پڑے گا پھراس کے بعد اس کے شرعی استعمال کا معنی معلوم ہوگا۔

(۱)’’یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الاّ الحق انما المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ۔‘‘(النساء۱۷۱)

’’اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو سے کام نہ لواور اللہ کے بارے حق بات کے سواہ کچھ نہ کہو بے شک مسیح عیسی بن مریم ؑ تو اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں۔‘‘

(۲)’’قل یااھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیرالحق ولا تتبعواأھواء قوم قدضلّوامن قبل واضلّواکثیراًوضلّواعن سواء السبیل۔‘‘(المائدہ۷۷)

’’اے میرے حبیب کہہ دیجئے اے اہل کتاب اپنے دین میں نا حق غلو سے کام نہ لو اور اس قوم کی خواہشات کی اتباع نہ کرو جو پہلے سے گمراہ ہو چکی ہے اور سیدھے راستے سے بہک چکی ہے۔‘‘

جب نصاری نے جناب عیسیٰ ؑ کو نبوت کے درجہ سے بڑھا کر اپنا معبود بنالیا تواس وقت ان دو آیات کے ذریعہ خدا نے انہیں نہی کی کہ اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو جیساکہ پہلی آیت کے ذیل میں اس طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔

’’ولاتقولوا ثلاثۃ انتھواخیراًلکم۔‘‘(النساء۱۷۱)

’’خبردار تین کا نام بھی نہ لو اس سے باز آؤاس میں تمہاری بہتری ہے۔‘‘

اور اس سے بعد والی آیت بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کررہی ہے ارشاد فرمایا:

’’لن یستنکف المسیح ان یکون عبداًللہ ولاالملائکۃ المقربون ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعاً۔‘‘(ا لنساء۱۷۲)

’’مسیح نے کبھی بھی اللہ کی بندگی کو عار نہیں سمجھا ہے اور نہ مقرب فرشتے اسے عار سمجھتے ہیں جو اللہ کی بندگی کو عارسمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے اللہ ان سب کو(ایک دن)اپنے سامنے جمع کرے گا۔‘‘

اس قسم کا غلو فقط نصاری کی صفوں میں نہ تھا بلکہ یہودی بھی اس قسم کا غلو کرتے تھے۔جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے:

(۱)وقالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصاری المسیح ابن اللہ ذلک قولھم بأفواھھم یضاھؤن قول الذین کفروا من قبل قاتلھم اللہ أنی یؤفکون۔(التوبہ۳۰)

’’اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ انکے منہ کی باتیں ہیں ان لوگوں کی باتوں کے مشابہ ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کدھر بہکتے پھرتے ہیں۔‘‘

(۲)قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ألا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئاً ولایتخذ بعضنا بعضاً أرباباًمن دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بأنا مسلمون۔(آل عمران۶۴)

’’اے میرے حبیبؐ کہہ دیجئے اے اہل کتاب ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اس کا شریک نہ بنائیں آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کادرجہ نہ دیں اور اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں۔‘‘

(۳)اتخذواأحبارھم ورھبانھم أرباباًمن دون اللہ والمسیح ابن مریم وما أمروا الا لیعبدوا الھاً واحداً لا الہ الا ھو سبحانہ عما یشرکون۔(التوبہ۳۱)

’’انھوں نے اللہ کے علاوہ اپنے علماء اور راہبوں کو اپنا رب بنالیا ہے اور مسیح بن مریم ؑ کو بھی حالانکہ انہیںیہ حکم دیا گیا تھا کہ خدا واحدکے سواء کسی کی بندگی نہ کریں جس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ ذات انکے شرک سے پاک ہے۔‘‘

اس گفتگو کے بعد واضح ہو جاتاہے کہ مخلوق کے لیے اللہ نے ایک حد مقرر کی ہے اس سے تجاوز کرکے کسی کو الوہیت کے مقام تک لے جانایہ غلو ہے اور اسی معنی میں قرآن نے غلو کا استعمال کیا ہے۔

+

 نوشته شده در  شنبه بیست و پنجم شهریور ۱۳۹۱ساعت 16:50  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


مقدمہ

خداوند عالم کی ذات نے اپنے حبیب ؐپر ایسا دین نازل کیا جو پختہ عقائد اور آسان شریعت پر مشتمل ہے یعنی اس دین میں موجود عقائد میں نہ افراط ہے نہ تفریط ہے اور معصومین ؑ نے بھی اپنے شیعوں کو عقیدے کے اعتبار سے حد وسط میں رہنے کی وصیت کی ہے کہ حد سے بڑھ جانے والا بھی ہلاک ہے اور حد سے کم کر دینے والا بھی خسارے میں ہے ۔اس مقام پرہم یہ بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اہل بیت ؑ میں غلو اور تقصیر نے جنم کیوں لیااور خصوصاً برصغیرپاک وہندمیں ان بیماریوں نے جنم کیوں لیا ؟ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غلو حد سے بڑھ جانے کا نام ہے۔تقصیر حد سے کم کر دینے کا نام ہے ۔پہلے اہل بیت ؑ کے فضائل کی کوئی حد تو معین کرو ان کے فضائل کی کسوٹی تو بناؤ پھر جب اس معیارسے کوئی اوپر جائے تو وہ غالی ہے جو اس معیار سے نیچے آئے تووہ مقصر ہے۔

امیر المؤمنین علی ابن ابی طالبؑ نے سیدھا اور آسان سا فارمولا بتایا ۔فرمایا :’’لاتتجاوزوا بنا العبودیۃ ثم قولو اماشئتم ‘‘ (الاحتجاج،ج ۲ص۴۰۷)

’’ ہمیں بندگی کی حدود سے مت بڑھاؤپھر ہمارے بارے میں جو کچھ کہنا ہے کہو‘‘ یہ مخلوق بھی ہیں مگر مخلوق جیسے نہیں اور خالق بھی نہیں مگر خالق کی صفات کامظہر بھی ہیں ۔اور حقیقت کامتلاشی انسان اسی معیار اورکسوٹی کو روایت سے سمجھ سکتاہے اس سے ہمیں یہ بات سمجھ میںآتی ہے کہ یہ مخلوق ہوتے ہوئے بھی کچھ ایسے کمالات وفضائل کے مالک ہیں جن کو سمجھنے اور درک کرنے کی عام انسان صلاحیت نہیں رکھتا ۔بلکہ کچھ ایسے کمالات ہیں جن کو خواص بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انسان کی عقل و فکر کی ایک حد ہے جو چیز اس کی عقل میں سما جائے اسے وہ قبول کرلیتاہے مگر جو اس کی عقل کی حدود سے باہر ہو اس کاانکار کردیتاہے خود معصومینؑ نے حکم دیا جس کو تمہاری عقل نہیں مانتی اسے ہماری طرف پلٹا دو اور یہ نہ کہو کہ یہ فضائل وکمالات تو عقل کے خلاف ہیں ۔

اہل بیت ؑ کے فضائل کو سمجھنے اور انکے کمالات کا احاطہ کرنے کے لئے تمہاری عقلیں کب سے معیار اور میزان بن گئی؟ اور اسی حقیقت کی قرآن نے تصریح کی ہے کہ جس چیز کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا اس کو جھٹلانے میں جلدی کرتاہے ۔’’بل کذّبوا بمالم یحیطوابعلمہ ولما یأتھم تأویلھم کذلک کذب الذین من قبلھم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین‘‘(یونس ۳۸)

’’بلکہ جو چیز ان کے احاطہ علم میں نہیں آئی انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا اور ابھی اس کاانجام بھی اس کے سامنے نہیں کھلا اس طرح ان سے پہلوں نے بھی جھٹلایا تھا پھر دیکھ لو ظالموں کا انجام کیاہو ا‘‘اور گزشتہ قوموں کابھی تو یہ ہی موقف تھا کہ یہ مقامات بشر کی قدرت سے خارج ہیں اسی وجہ سے ان قوموں نے انبیاء ؑ کے تصرفات کو جادو ،شعبدہ بازی کا رنگ دیا کیونکہ ان کی عقلوں سے یہ چیز باہر تھی کہ کیسے ایک بشر ایسے کام کر سکتاہے اور یہی وجہ تھی جب کسی راوی نے معصومؑ کی کسی ایسی نا قابل فہم وناقابل ادراک فضیلت کو بیان کیا تو مد مقابل نے اس فضیلت کو پرکھنے کیلئے اپنی عقل کو کسوٹی اور معیار قرار دیا ۔اگر اس کی عقل میں وہ فضیلت سما گئی تو اس نے اسے قبول کرلیا اگر اس کی عقل میں وہ فضیلت نہ سمائی فورا حکم لگا دیا کہ یہ شخص غالی ہے لیکن کیا اس سے یہ لازم آتاہے کہ وہ فضیلت ان کی ہے ہی نہیں ؟اور اس حقیقت پر خود معصومین ؑ نے بارہا تاکید کی کہ انسان اپنی عقل کی رو کے مطابق فیصلہ کرتاہے مگر وہ معیا اور کسوٹی نہیں ہے ۔

’’روی فی الاحتجاج عن الصادق علیہ السلام عن ابیہ عن آباۂ قال خطب الناس سلمان الفارسی رحمہ اللہ بعد ان دفن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بثلاثۃ ایام فقال ألا ایھاالناس اسمعوا عنّی حدیثی ثم اعقلوہ عنّی ألا وانی أوتیت علما کثیرا فلو حدّثتکم بکل ما اعلم من فضائل امیر المومنین فقال طائفۃ منکم ہو مجنون وقال طائفۃ اخری اللھم اغفر لقاتل سلمان ‘‘(الاحتجاج ،ج،۱،ص ۱۵۱)

’’سلمان فارسی ؒ نے رسول اکرم ؐکی تدفین کے تین دن بعد لوگوں سے خطاب کیا پس کہا اے لوگو! آگاہ ہو جاؤ۔میری گفتگو غور سے سنو اسے اچھی طرح سمجھو آگاہ ہو جاؤ مجھے علم کثیر عطاء کیا گیا ہے اگر میں تمہیں امیر المومنین ؑ کے وہ سارے فضائل بتاؤں جن کو میں جانتاہوں تو ایک گروہ کہے گا سلمان ؒ مجنون ہے دوسرا گروہ کہے گا اے اللہ سلمان ؒ کے قاتل کی مغفرت فرما ۔‘‘

پہلی بات جو اس روایت سے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ سلمان ؒ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ’’ علی ابن ابی طالب ؑ کے جوفضائل میں جانتا ہوں‘‘اس کا مطلب ہے کچھ ایسے فضائل ہیں جن کو سلمان ؒ بھی نہیں جانتے۔

دوسری بات سلمان ؒ کا یہ کہنا کہ کوئی مجھے مجنون کہے گا اور کوئی میرے قاتل پر رحم کرے گا وہ اس وجہ سے ہے کہ سلمان ؒ کے دل میں حضرت علی ؑ کی جو معرفت تھی اگریہ معرفت سلمان ؒ لوگوں کو بتاتے تو لوگ اس کے متحمل نہ ہوتے پہلے تو سلمان ؒ کو جھوٹا کہتے پھرکو مرتد بنا کر اسے قتل کردیتے اور پھرسلمان ؒ کے قاتل کے لیے مغفرت کی دعا کرتے۔

سوال یہ ہے کہ سلمان ؒ نے جو دعوی کیا ہے کہ میں علی بن ابی طالب ؑ کے جو فضائل جانتا ہوں اگر انھیں عیاں کروں تو تم ان کا انکار کردو گے کیا وہ فضائل ایسے ہیں کہ جن سے انسان مقررہ حد سے خارج ہوجاتا ہے یا نہیں؟ایسا نہیں ہے بلکہ انکار کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی عقلیں متحمل نہیں ہیں نہ کہ وہ فضائل ایسے ہیں جن کو اختیار کرنے سے انسان حد سے بڑھ جاتا ہے اور غالی ہوجاتا ہے۔

اور علامہ مجلسی ؒ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے مراجعہ فرمائیں۔(بحارالانوار،ج۲۲،ص۳۴۳)

یہاں تک ہم اس نتیجے پر ہیں کہ غلو وتقصیر کا حکم لگانے سے پہلے یہ تعیین کرنا ضروری ہے کہ ان کے فضائل کی حد کیا ہے؟

اور شائد اگر یہ حدود صحیح طور پر بیان کی جائیں جن کی طرف اجمالاً ہم نے اشارہ کیاہے تو آج برصغیرپاک وہند میں خصوصی طور پر غلونہ ہوتا۔ ہم نے اہل بیت ؑ کے اختیارات کو چھپایامد مقابل نے اسے اتنا اٹھایاکہ حد سے تجاوز کرگئے۔

غلو وتقصیر کے جو معیار ہم نے بنا رکھے ہیں وہ قرآن واحادیث اور منطقِ عقل کے خلاف ہیں۔اگر کوئی انسان زیادہ فضائل علی بن ابی طالب ؑ پڑھے تو اسے غالی کہا جاتا ہے کوئی کہے کہ خدا نے انہیں اپنے علم غیب پر مطلع کیا ہے اور یہ اخباربالغیب دے سکتے ہیں تو یہ غالی ہے کوئی معصوم سے سہو کی نفی کردے تو وہ غالی ہے اور تمام امور کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ خدا کی صفات ہیں اور خالق کی صفات مخلوق کو کیسے دی جاسکتی ہیں لہذا جو بھی خالق کی صفات مخلوق کو دے گا وہ غالی ہے ؟

یہ کس نے کہا ہے کہ خالق کی صفات مخلوق کو دینے سے انسان غالی بن جاتا ہے؟خالق کی صفات مخلوق کو دینے سے انسان حد اسلام سے خارج ہوجاتا ہے یہ ہم سیدنا الاعظم السید الخوئی ؒ کی عبارت آپ کے سامنے نقل کررہے ہیں جن میں سیدالخوئی ؒ نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ خالق کی صفات مخلوق کو دینے سے انسان حد اسلام سے خارج نہیں ہوتا بشرطیکہ اسے مخلوق کے درجے پر ہی رکھا جائے۔

’’فان اثبات شیء من اوصاف الباری تعالیٰ لبعض مخلوقاتہ لایوجب الخروج من حد الاسلام بعد الاعتراف بکون الموصوف بتلک الصفۃ من مخلوقاتہ تعالیٰ۔‘‘(فقہ الشیعۃ،السید ابو القاسم الخوئی،ج۳،ص۱۳۵)

’’اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس کی بعض مخلوق کے لیے ثابت کرنا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا موجب نہیں بنتا جبکہ ایسا کرنے والے انسان کا عقیدہ یہ ہو کہ ان صفات کے ساتھ موصوف اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔‘‘

غلو کا معیاریہ ہے کہ خالق کی صفات مخلوق کو دیکر اسے رب واللہ کہا جائے تو یہ غالی ہے کیونکہ وہ حدسے بڑھ گیاہے اس لیے کہ اس کی حد مخلوق ہونا تھی لیکن اسے اس حد سے بڑھا کر خالق کہہ دیا گیا۔

لہذا ہم نے اس مقدمہ میں مناسب سمجھاکہ غلو پر بحث کرنے سے پہلے اس مہم ترین نکتے کو محترم قارئین کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ وہ کسی کو غالی بنانے میں اتنی جلدی نہ کریں۔ہاں اگر واقعاًوہ حد سے بڑھ گیا خدا کی کسی مخلوق کو خالق کہہ بیٹھا تو بلاشک وہ غالی ہے اور ایسے ہی شخص کے متعلق ہماری گفتگو ہو گی۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ

اہل قلم کی ایک جماعت

حوزہ علمیہ۔نجف اشرف

+

 نوشته شده در  پنجشنبه بیست و سوم شهریور ۱۳۹۱ساعت 20:23  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

نظر بدهید


Advertisements