alsadeqain.blogfa.com

موسسہ الصادقین فی الںجف الاشرف


اہل بیت ؑ کے حق میں غالیوں کے کلمات

اہل بیت ؑ کے حق میں غالیوں کے کلمات:
آئمہ اہل بیت ؑ کے حق میں غالیوں کے مختلف نظریات ہیں کبھی ان کے رب ہونے،نبی ہونے اور تفویض کا دعوی کرتے ہیں کبھی حلول وتناسخ ارواح اہل بیت ؑ کا دعوی کرتے ہیں۔ہم قارئین محترم کی خدمت میں ان کے چند نظریات کو بیان کررہے ہیں تاکہ ان کا جواب ذکر کیا جائے۔پہلا نظریہ:نبی ؐیا امامؑ کے لیے الوہیت و رب ہونے کا دعویٰ:غالیوں کے مشہور نظریات میں سے یہ ہے کہ وہ خاص طور پر علی بن ابیطالب ؑ کے رب ہونے اور عمومی طور پر تمام آئمہ ؑ کے رب ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ابوالحسن کہتا ہے :’’من اصناف الغالیۃ یزعمون ان علیا ھو اللہ۔‘‘(مقالات الاسلامین واختلاف المصلین ص۱۴)غالیوں کی اقسام میں سے ایک یہ ہے کہ وہ علی بن ابی طالب ؑ کے رب ہونے کا گمان کرتے ہیں۔انہی میں سے ایک ابو خطاب ہے جو یہ گمان کرتاتھا:’’ان الائمۃ کانوا انبیاء ثم زعم انھم الھۃ وان اولاد الحسن والحسین کانوا ابناء اللہ واحباء ہ۔‘‘(بحوث فی الملل والنحل،الشیخ جعفر سبحانی ج۷ص۱۶)آئمہ ؑ انبیاء تھے پھر اس نے گمان کیا کہ آئمہ ؑ خدا ہیں اور امام حسن ؑ و حسین ؑ کی اولاد اللہ کے بیٹے اور ان کے پسندیدہ ہیں۔شیخ مفیدؒ نے اسی نظریہ کو یوں بیان کیا ہے ’’غالیوں میں سے کچھ ظاہری اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں جنھوں نے امیر المومنین ؑ اور انکی ذریت طاہرہ کی طرف الوہیت کی نسبت دی ہے انھوں نے دین ودنیامیں ان کے لیے ایسے فضائل بیان کیے کہ حد سے بڑھ گئے میانہ روی سے نکل گئے۔‘‘(تصحیح اعتقادات الامامیۃ ص۱۳۱)احمد بن حنبل نے امام علی ؑ سے روایت کی ہے :’’قال لی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیک مثل من عیسیٰ ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبّتہ النصاری حتی انزلوہ بالمنزلۃ اللتی لیس بہ ثم قال یھلک فیّ رجلان محب مطری یقرطنی بما لیس فیّ ومبغض مفتر یحملہ شنانی علی ان یبھتنی۔‘‘(مسند احمد بن حنبل ج۱ص۱۶۰)امام ؑ نے فرمایا:’’رسول خدا ؐنے مجھے کہا تم میں عیسیٰ ؑ کے ساتھ شباہت ہے۔یہودیوں نے جناب عیسیٰ ؑ سے اتنا بغض کیاکہ انکی مادر کو چونکا دیا۔نصاری نے اتنی محبت کی کہ جو جناب عیسیٰ کا مقام تھا اس سے گرادیا۔‘‘پھر مولا علی ؑ نے فرمایا:’’دو قسم کے افراد میرے بارے میں ہلاک ہوں گے ایسا حد سے زیادہ محب جو ایسی چیز کے ساتھ میری تعریف کرتاہے جو میرے اندر نہیں ہے اور دوسرا ایسا بغض ونفرت کرنے والا جسکی نفرت اسے میرے خلاف اتنا اکساتی ہے کہ مجھے چونکا دیتی ہے۔‘‘الحاکم نے المستدرک میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔وعن الصادق علیہ السلام عن آباۂ علیہم السلام قال قال رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم یاعلی مثلک فی امتی مثل عیسیٰ بن مریم افترق قومہ ثلاث فرق فرقۃ مؤمنون وھم الحواریون وفرقۃ عادوہ وھم الیھود وفرقۃ غلوا فیہ فخرجوا عن الایمان وان امتی ستفترق فیک ثلاث فرق ففرقۃ شیعتک وھم المؤمنون وفرقۃ عدوک وھم الشاکون وفرقۃ تغلوفیک وھم الجاحدون۔(بحارالانوارج۲۵ص۲۶۴)امام صادقؑ نے اپنے آباو اجداد سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا ؐنے فرمایا:’’اے علی ؑ میری امت میں تجھے جناب عیسیٰ ؑ سے شباہت ہے۔عیسیٰ ؑ کی قوم تین گروہوں میں تقسیم ہوگئی ایک گروہ جو مؤمن تھا وہی عیسیٰ ؑ کے حواری تھے ۔ایک گروہ عیسیٰ ؑ کا دشمن تھا وہ یہودی تھے۔ایک گروہ انکے حق میں غالی تھا پس وہ دائرہ ایما ن سے نکل گئے اور میری امت بھی تجھ میں تین فرقوں میں تقسیم ہوگئی ایک گروہ وہ ہے جو تیرے شیعہ ہوں گے وہی مؤمنین ہیں ایک گروہ تیرا دشمن ہوگا وہی تیرے فضائل میں شک کریں گے اور ایک گروہ تجھ میں غلو کرے گا اور وہی منکر ہوں گے۔‘‘اس نظریہ کو شدت سے باطل کرنے کے لیے اہل بیت ؑ نے خاص طور پر اہتمام کیااور مختلف احادیث میں اپنے عبد ہونے کوذکر کیا ہے۔ذیل میں ہم چند احادیث کو اس ضمن میں بیان کررہے ہیں۔(۱)قال امیر المؤمنین علیہ السلام ایّاکم والغلو فینا قولوا انا عبید مربوبون و قولوافی فضلنا ما شئتم۔(بحارالانوارج۲۵ص۲۷۰)امیر المؤمنین ؑ نے فرمایا:’’خبردار ہم میں غلو نہ کرنا ہمارے بارے میںیہ عقید ہ رکھوکہ ہم اس کے بندے ہیں وہ ہمارا پالنے والا ہے پھر ہماری فضیلت میں جو چاہو تم کہو۔‘‘(۲)قال الامام الصادق علیہ السلام ان لنارباً یکلأنا بالیل والنھار نعبدہ یا مالک ویاخالد قولوا فینا ماشئتم و اجعلونا مخلوقین۔(بحارالانوار ج۲۵ص۲۸۹)امام صادقؑ نے فرمایا:’’ہمارا ایک رب ہے جو رات اور دن ہماری حفاظت کرتا ہے ہم اس کی ہی عبادت کرتے ہیں اے مالک وخالدہمیں مخلوق کے درجے پر رکھ کرجو کچھ مرضی کہو۔‘‘(۳)عن حنان بن سدیر عن ابیہ قال قلت لابی عبداللہ الصادق علیہ السلام ان قوماًیزعمون انکم آلھۃ قال یاسدیر سمعی وبصری وشعری وبشری ولحمی ودمی من ھولاء براء وبری اللہ منھم ورسولہ ماھولاء علی دینی ودین آبائی واللہ لایجمعنی وایّاھم یوم القیامۃ الّا وھو علیھم ساخط۔قال قلت فما انتم جعلت فداک۔قال خزان علم اللہ وتراجمۃ وحی اللہ ونحن قوم معصومون امراللہ بطاعتنا ونھیٰ عن معصیتنا نحن الحجۃالبالغۃ علی من دون السماء وفوق الارض۔(بحارالانوار ج۲۵ص۲۹۸)حنان بن سدیر نے اپنے والدسے نقل کیا ہے کہ میں نے امام صادقؑ کو کہا کچھ لوگ آپ کو معبود کہتے ہیں تو امام ؑ نے فرمایا:’’اے سدیر میرے کان،میری آنکھیں،میری جلد،میرا گوشت،میرا خون سب کچھ ان لوگوں سے بری ہے اور اللہ اور اس کے رسولؐ ان سے بری ہیں یہ لوگ میرے اور میرے آباواجداد کے دین پر نہیں ہیں اللہ مجھے اور انہیں قیامت کے دن اکٹھا نہیں کرے گا مگر خدا ان پر غضبناک ہوگا۔‘‘سدیر کہتا ہے میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں آپ کون ہیں؟فرمایا:’’ہم اللہ کے علم کے خزانے ،وحی خدا کے ترجمان ہیں ہم معصوم قوم ہیں ہماری اطاعت کا اللہ نے حکم دیاہے ،ہماری معصیت سے روکا ہے۔آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہم ہر چیز پر اللہ کی حجت بالغہ ہیں۔‘‘(۴)عن ابن مسکا ن من اصحابنا عن ابی عبد اللہ الصادق علیہ السلام قال سمعتہ یقول لعن اللہ المغیرۃ بن سعید انہ کان یکذب علی ابی فأذاقہ اللہ حر الحدید لعن اللہ من قال فینا مالانقول فی انفسنا ولعن اللہ من ازال عنا العبودیۃ للہ الذی خلقنا الیہ مآبناومعادناوبیدہ نواصینا۔(اختیارمعرفۃ الرجال ج۲ص۴۸۹)ابن مسکان کہتا ہے میں نے امام صادقؑ کو کہتے سنا :’’خدا مغیرہ بن سعیدہ پر لعنت کرے جو میرے والد پر غلط الزام لگاتا تھا۔خدا اسے لوہے کی تپش کامزہ چکھائے خدا لعنت کرے اس پر جو ہمارے بارے میں ایسی باتیں کرے جو ہم اپنے بارے میں نہیں کہتے۔خدا لعنت کرے اس پر جس نے ہمیں بندگی کے مرتبے سے ہٹا دیا۔خدا ہی نے ہمیں خلق کیا اسی کی طرف ہمارا ٹھکانا اور بازگشت ہے ہماری پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔‘‘ایک شخص نے امام رضا ؑ سے کہا :’’اے فرزند رسول ؐ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ہمارے ساتھ ایک شخص ہے جو آپ کی محبت کادم بھرتا ہے لیکن گمان کرتاہے کہ علی ؑ ہی کائنات کے رب و اللہ ہیں۔‘‘جب امام رضا ؑ نے یہ بات سنی تو ان کے شانے کا گوشت گھبرا کر پھڑکنے لگا۔اما م ؑ کا پسینہ ٹپکنے لگا اور فرمایا:’’سبحان اللہ سبحان اللہ عما یقول الظالمون علواًکبیراً او لیس کان علی علیہ السلام آکلاً فی آکلین وشاربا فی الشاربین وناکحا فی الناکحین ومحدثا فی المحدثین وکان مع ذلک مصلیا خاضعا بین یدی اللہ ذلیلا والیہ اوّاھا منیبا أفمن کان ھذا صفتہ یکون الھا فان کان ھذا الھا فلیس منکم احدا الاوھوالہ لمشارکتہ لہ فی الصفات الدالات علی حدث کل موصوف بھا۔‘‘پاکیزہ ہے وہ ذات،پاکیزہ ہے وہ ذات ظالموں کی ان بڑی باتوں سے جو وہ کہتے ہیں۔کیا علی ؑ عام لوگوں کی طرح کھانا نہیں کھاتے تھے۔عام لوگوں کی طرح پانی نہیں پیتے تھے،عام لوگوں کی طرح نکاح نہیں کرتے تھے،عام لوگوں کی طرح کلام نہیں کرتے تھے اور خبر نہ دیتے تھے اور اس کے باوجود وہ اپنے رب کے سامنے خضوع وانکساری کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اسی سے زیادہ دعائیں کرنے والے خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے جو ان صفات کا مالک ہو کیا وہ خدا ہوتاہے؟اگر خدا اس قسم کا ہوتا ہے تو تم میں سے ہر ایک خدا ہے کیونکہ ہر ایک علی ؑ کے ساتھ ان صفات میں شریک ہے۔‘‘قال امیر المؤمنین علیہ السلام لاتتجاوزوا بنا العبودیۃ ثم قولواماشئتم ولن تبلغوا۔(الاحتجاج،ج۲ص۲۳۳)امیر المؤمنین ؑ نے فرمایا:’’ہمیں عبودیت و بندگی کی حدود سے مت بڑھاؤ پھر جو مرضی ہے کہو تب بھی تم ہمارے فضائل کی حدود تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘نوٹ:متعدد آیات میں آئمہ ؑ نے یہ کلمہ ارشاد فرمایا:’’ہمارے بارے میں جو مرضی ہے کہو ‘‘اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو عقلی قواعد وقطعی نصوص کے مطابق نہ ہو وہ بھی آئمہ ؑ کے حق میں کہی جائے۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے کمالات وفضائل اعدادوشمار سے بلند ہیں بلکہ بعض تو ایسے ہیں جن کو تمہاری عقلیں درک نہیں کرسکتیں اسی وجہ سے اس گذشتہ حدیث کے ذیل میں فرمایا(ولن تبلغوا)تم ہمیں مخلوق کے درجے پر رکھ کرجو مرضی کہو تب بھی ہمارے فضائل کی حدود تک پر نہیں مار سکتے۔ایک مقام پر امیر المؤمنین علی ؑ نے ابوذرغفاری کو اپنا تعارف کروایا۔’’یااباذراناعبداللہ عزوجل وخلیفتہ علی عبادہ لا تجعلونا ارباباًوقولوا فی فضلنا ما شئتم فانکم لاتبلغون کنہ مافینا ولانھایتہ فان اللہ عزوجل قد اعطانا اکبرواعظم مما یصفہ واصفکم اویخطرعلی قلب احدکمفاذاعرفتمونا ھکذا فانتم المؤمنون۔‘‘(بحارالانوار ج۲۶ص۲)’’اے ابو ذر میں خدا کا بندہ اور اس کی مخلوق پر اس کا خلیفہ ہوں،ہمیں رب مت بناؤ ہماری فضیلت میں جو کچھ کہنا ہے کہو ہمارے اندر موجود فضائل وخصائص کی کنہ حقیقت کو درک نہیں کرسکتے اور نہ انکی انتہاء تک پہنچ سکتے ہو۔تعریف کرنے والوں کی تعریفوں سے کہیں بزرگ وعظیم تراللہ نے جو ہمیں عطا کیاہے اور تمھارے دل کے خیالوں میں بھی وہ نہیں ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے اگر تم نے اس طرح ہماری معرفت حاصل کرلی تو تم مؤمن ہو۔‘‘عن کامل التمارقال کنت عند ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام ذات یوم فقال لی یاکامل اجعلوالنا ربا نؤوب الیہ وقولوافینا ماشئتم۔کامل تمار کہتا ہے:’’ میں ایک دن امام صادقؑ کے پاس تھا امام ؑ نے مجھے کہا اے کامل !ہمارے لیے ایک ایسا رب مانوجس کی ہم اطاعت وفرمانبرداری کریں پھرہم میں جو کچھ مرضی ہے کہو۔کامل کہتاہے ہم آپ کے لیے ایک رب مانیں جسکی آپ اطاعت وفرمانبرداری کریں اور آپ کے بارے جو کچھ مرضی ہے کہیں؟امام ؑ سیدھے ہو کر بیٹھے اور فرمایا:’’ماخرج الیکم من علمنا الاالفا غیرمعطوفۃ‘‘’’ہمارے علم سے تمھاری طرف آدھا حرف بھی نہیں پہنچا ہے۔(یعنی بہت کم پہنچا ہے)‘‘آخری روایت کو ذکر کرکرکے ہم اس پہلے نظریہ اور اسکے جواب پر اکتفاکرتے ہیں۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعلی علیہ السلام:’’لولا انی أخاف ان یقال فیک ماقالت النصاری فی المسیح لقلت الیوم فیک مقالۃ لاتمر بملاء المسلمین الا اخذوا تراب نعلیک وفضل وضوئک لیستشغون بہ ولکن حسبک ان تکون منی وانا منک ترثنی وارثک۔‘‘(بحارالانوار ج۲۵ص۲۸۴)’’رسول خدا ؐنے امام علی ؑ کو فرمایا:’’اے علی ؑ اگر مجھے تیرے بارے یہ ڈرنہ ہوتا جونصاری نے مسیح کے بارے میں کہا تو آج میں تیرے بارے وہ عقیدہ بیان کرتا کہ آپ مسلمانوں کی جس جماعت سے گزرتے وہ لوگ آپ کی نعلین مبارک کی مٹی اٹھا لیتے، آپکے وضو کے باقی ماندہ پانی سے شفا حاصل کرتے مگر آپ(فضائل)کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ مجھ سے ہیں اور میںآپ سے ہوں آپ میرے وارث ہیں اور میں آپ کا وارث ہوں۔‘‘دوسرا نظریہ:اہل بیت ؑ کے لیے نبوت کا دعویٰ:غالیوں کے ایک دوسرے گروہ نے آئمہ ؑ کے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جیسے سدیر سے منقول ایک روایت میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے۔قال:’’قلت لابی عبداللہ الصادق علیہ السلام عندنا قوم یزعمون انکم رسل یقرؤون علینا بذلک قرآناًیاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحاًانی بما تعملون علیم(المؤمنون۵۱)(الاصول الکافی ج۱ص۲۶۹)‘‘سدیر کہتا ہے:’’ میں نے امام صادقؑ سے کہا کچھ لوگ آپ کو رسول کہتے ہیں،ہمارے اوپر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں’’اے پیغمبر پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل صالح بجالاؤ جو عمل تم کرتے ہو میں اسے خوب جاننے والا ہوں۔‘‘اہل بیت ؑ نے بڑے زور وشور کے ساتھ اس نظریہ کی مذمت کی ہے اور اس قسم کے افراد پر لعن وطعن کی ہے۔اسی گذشتہ حدیث کے ذیل میں امام ؑ نے ان کی مذمت کی ہے اور ان سے برأت کا اعلان کیا ہے۔عن الامام الرضا علیہ السلام حیث قال’’ من ادعی للانبیاء ربوبیۃ وادعی للائمۃ ربوبیۃ اونبوۃ اولغیر الائمۃ امامۃ فنحن براء منہ فی الدنیاوالاخرۃ۔‘‘(عیون اخبار الرضا ج۲ص۲۱۷)امام رضاؑ نے فرمایا:’’جس نے انبیاءؑ کے لیے ربوبیت کا دعوی کیا،آئمہ علیہم السلام یا انبیاء ؑ کے لیے ربوبیت کا دعوی کیا یا غیر آئمہ کے لیے امامت کا دعوی کیا ہم دنیا وآخرت میں ان سے بری ہیں۔‘‘عن ابی عباس البقباق قال:’’تذاکر ابن ابی یعفور ومعلی بن خنیس فقال ابن ابی یعفور الاوصیاء علماء ابرار اتقیاء و قال ابن خنیس الاوصیاء انبیاء قال فدخلا علی ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام فقال یا عبداللہ ابراء ممن قال ان انبیاء۔‘‘(اختیارمعرفۃالبشر المعروف بالرجال الکشی ج۲ص۵۵)’’ابو عباس البقباق نے کہا ہے ’’کہ ابو یعفور کا بیٹا اور معلی بن خنیس باہم گفتگو کر رہے تھے ابو یعفور کے بیٹے نے کہا اوصیاء ،علماء ،نیک اور متقی ہیں معلی بن خنیس نے کہا اوصیاء انبیاء ہیں پھر یہ دونوں امام صادقؑ کے پاس آئے جب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو امام صادقؑ نے فرمایا :’’اے بندہ خدا جس نے کہاہم انبیاء ہیں میں اس سے بری ہوں ۔ ‘‘عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال:’’ من قال انا انبیاء علیہ لعنۃاللہ ومن شک فی ذلک فعلیہ لعنۃاللہ۔‘‘(اختیار معرفۃالبشر المعروف برجال الکشی ج۲ص۵۹۰)امام صادقؑ نے فرمایا:’’جس نے کہا ہم انبیاء ہیں اس پر خدا کی لعنت ہے اور جس نے اس لعنت پر شک کیا اس پر بھی لعنت ہے۔‘‘عن ابی بصیر قال قال لی’’ ابو عبداللہ الصادق علیہ السلام یا ابا محمد ابراء ممن یزعم انا ارباب قلت بریء اللہ منہ۔قال ابرء ممن یزعم انا انبیاء قلت بریء اللہ منہ۔‘‘(اختیار معرفۃ البشر المعروف برجال الکشی ج۲ص۵۸۷)ابو بصیر کہتا ہے امام صادقؑ نے مجھے کہا :’’اے ابو محمد جس نے ہمیں رب کہا میں اس سے بری ہوں میں نے کہا خدا اس سے بری ہے امام علیہ السلام نے فرمایا جس نے کہا ہم انبیاء ہیں میں اس بری ہوں میں نے کہا اللہ بھی اس سے بری ہے۔‘‘عن برید بن معاویہ عن ابی جعفر الباقر وابی عبداللہ الصادق علیہما السلام ’’قال قلت لہ مامنزلتکم ومن تشبھون ممن مضیٰ؟قال صاحب موسیٰ وذوالقرنین کاناعالمین ولم یکونا نبیّن۔‘‘(اصول الکافی ج۱ص۲۶۹)’’برید بن معاویہ نے امام باقرؑ وجعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ میں نے کہا آپکی قدر ومنزلت کیا ہے اور گذشتہ لوگوں میں سے کس کے ساتھ شباہت رکھتے ہیں۔فرمایا:’’صاحب موسیٰ(ہارون)اور ذوالقرنین جو دونوں عالم تھے نبی نہ تھے۔‘‘تیسرا نظریہ:الہام یا تعلیم الہی کے بغیر اہل بیت ؑ کے لیے علم غیب کا دعویٰ:غالیوں کے نظریات میں تیسرا نظریہ یہ ہے کہ اہل بیت ؑ مستقل طور پر علم غیب رکھتے ہیں۔الہام یا تعلیم الھی کے بغیر غیب کی خبریں دیتے ہیں۔اس نظریہ کا بطلان اظہر من الشمس ہے مستقل طور پر غیب کا علم فقط اس کی ذات کے ساتھ مختص ہے۔علم غیب اسے کہتے ہیں جو کسی سے مستفاد نہ ہو یعنی جس کا علم ذاتی ہواسے عالم الغیب کہتے ہیں اور جو بھی مخلوق خداسے قرب کی جتنی منزلت پر فائز ہوجائے وہ مستقل اور ذاتی طور پر غیب کا علم نہیں رکھ سکتا۔لہذا انبیاء وآئمہ ؑ کے پاس جو کچھ علم ہے وہ خدا سے حاصل کردہ اور اس کے اذن کے ساتھ ہے۔خدا سے الہام ووحی کے بغیر ذاتی طور پر غیب کی خبریں دینا محال ہے۔اس نظریہ کو آئمہ اہل بیت ؑ نے صراحتاً رد کیا ہے ذیل میں ہم چند احادیث اہل بیت ؑ سے ذکر کرتے ہیں۔(۱)امام زمان ؑ نے محمد بن علی بن ہلال الکرخی کو ایک توقیع میں غالیوں کے اس نظریہ کا رد لکھا ہے۔’’یا محمد بن علی تعالی اللہ عزوجل مما یصفون سبحانہ وبحمدہ لیس نحن شرکاء ہ فی علمہ ولا فی قدرتہ بل لا یعلم الغیب غیرہ کما قال فی محکم کتابہ تبارک وتعالی’’قل لایعلم من فی السمٰوٰت والارض الغیب الااللہ‘‘(النملل۶۵)وانا وجمیع آبائی من الاوّلین آدم ونوح وابراھیم وموسیٰ وغیرھم من النبین من الآخرین محمد رسول اللہ وعلی بن ابیطالب والحسن والحسین وغیرھم ممن مضی من الائمۃ صلوات اللہ علیھم اجمعین الی مبلغ ایّامی ومنتھی عصری عبید اللہ عزوجل۔واشھد اللہ الذی لا الہ الا ھو وکفی بہ شھیداً ومحمداًرسولہ وملائکتہ انبیاء ہ واولیاء ہ واشھدک واشھد کل من سمع کتابی ھذا انی بریء الی اللہ والی رسولہ فمن یقول انا نعلم الغیب او نشارک اللہ فی ملکہ او یحلنا محلا سوی المحل الذی نصبہ اللہ لنا وخلقنا لہ او یتعدی بنا عما قد قسرتہ لک وبینتہ فی صدر کتابی واشھد کم ان کل من نتبرّأ منہ فان اللہ یبراء منہ وملائکتہ واولیاؤہ۔وجعلت ھذا التوقیع الذی فی ھذاالکتاب امانۃ فی عنقک وعنق من سمعہ ان لایکتمہ من احد من موالیّ وشیعتی حتی یظھر علی ھذا التوقیع الکل من المولیٰ لعل اللہ عزوجل یتلافاھم فیرجعوا الی دین الحق وینتھوا عما لایعلمون منتھی امرہ ولایبلغ منتھاہ فکل من فھم کتابی ولم یرجع الی ما قد امرتہ ونھیتہ فلقد حلت علیہ اللعنۃ من اللہ وفمن ذکرت من عبادہ الصالحین۔‘‘(الاحتجاج توقیعات الناحیۃ المقدسۃ ج۲ص۲۸۸)امام زمان ؑ فرماتے ہیں:’’اے محمد بن علی خداوندعالم بزرگ وبرتر ہے ان باتوں سے جو لوگ اس کی ذات کے بارے میں کرتے ہیں۔ہم خدا کے علم وقدرت میں اس کے شریک نہیں ہیں بلکہ خدا کے علاوہ کوئی علم غیب نہیں جانتا جیسے خداوندعالم نے اپنی محکم ولاریب کتاب میں ارشاد فرمایا ہے:’’اے میرے حبیبؐ کہہ دیجیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سوائے اللہ کے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔‘‘میں اور میرے تمام اولین آباء آدم،نوح وابراہیم وموسیٰ اور باقی انبیاء علیھم السلام اور آخرین آباء جیسے محمد اللہ کے رسول وعلی ابن ابی طالب وحسن وحسین علیھم السلام اور ان کے علاوہ باقی آئمہؑ میرے باقی ماندہ دنوں تک میرے زمانے کے آخر تک یہ سارے کہ سارے اللہ کے بندے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور اس پر گواہی کے لیے خود(یعنی اللہ)اس کے رسول محمد ؐ،اس کے فرشتے،اس کے انبیاء ؑ واولیاءؑ ہی کافی ہیں۔اور میں تجھے (محمد بن علی)اور ہر اس کو جو میرے خط کو سنے گواہ قرار دیتا ہوں کہ جو یہ کہے کہ ہم غیب کا علم جانتے ہیں یا اللہ کی ملکیت میں ہمیں اس کا شریک قرار دے اور جو مقام اللہ نے ہمارے لیے معین کیا ہے اور ہمیں اس مقام کے لیے خلق کیا اس مقام کے علاوہ ہمیں کسی اور مقام پر بٹھائے اور جس چیز کو میں نے ابتداء خط میں تجھے بیان کیا ہے اس سے ہمیں بڑھا دے ان تمام سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔اور میں تجھے گواہ قرار دیتا ہوں کہ جس سے ہم بے زاری کا اعلان کریں اللہ اور اس کے فرشتے،اس کے رسول اور اس کے اولیاء بھی اس سے بیزار ہوتے ہیں۔میں اس خط کو تیری اور ہر اس شخص کی گردن پرامانت قرار دیتا ہوں جو اس خط کو سنے کہ وہ میرے محبوں اور شیعوں میں سے کسی پر اس خط کو نہ چھپائے یہاں تک کہ یہ خط میرے تمام محبوں پرعیاں ہوجائے شائد خداوندعالم ان کی تلافی کرے اور وہ دین حق کی طرف پلٹ آئیں اور جس امر کے انجام وعاقبت کو وہ نہیں جانتے اس سے باز آجائیں پس جس نے بھی میرے خط کو سمجھا اورمیرے اوامر ونواہی کی طرف نہ لوٹا اللہ اور اس کے ان نیک بندوں کی لعنت اس پر نازل ہوگی جن کا میں نے تذکرہ کیاہے۔‘‘عن ابن ابی عمیر عن ابن المغیرۃ’’ قال کنت انا ویحییٰ بن عبداللہ بن الحسن عند ابی الحسن علیہ السلام فقال لہ یحییٰ جعلت فداک انھم یزعمون انک تعلم الغیب؟وقال سبحان اللہ ضع یدک علی راسی فواللہ ما بقیت شعرہ فیہ وفی جسدی الا قامت ثم قال لاواللہ ماھی الاوراثۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔‘‘(الامالی للمفید ص۲۳المجلس الثالث)ابن مغیرہ کہتا ہے میں اور یحییٰ بن عبد اللہ ابن الحسن امام کاظم ؑ کے پاس تھے۔یحییٰ نے امام ؑ سے کہا میں آپ پر قربان ہو جاؤں وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ آپ علم غیب رکھتے ہیں؟آپ ؑ فرماتے ہیں:’’پاکیزہ ہے وہ ذات اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھو میرے سر میں اورجسم میں کوئی بال ایسا نہیں جو یہ سن کر کھڑا نہ ہوا ہو۔پھر فرمایا نہیں خدا کی قسم یہ سارا علم رسول خدا ؐکی طرف سے ہمیں ورثہ میں ملا ہے۔‘‘اسی وجہ سے شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں:’’اطلاق القول علی الآئمۃ بانھم یعلمون الغیب فھومنکر الفساد لان الوصف بذلک انما یستحقہ من علم الاشیاء بنفسہ لابعلم مستفاد وھذا لا یکون الا عزوجل۔‘‘(اوائل المقالات ص۷۷)’’آئمہ ؑ کے بارے میںیہ کہنا کہ وہ علم غیب رکھتے ہیں یہ قول فاسد ہے کیونکہ وصف علم غیب کا وہ مستحق ہے جس کے پاس اشیاء کا علم ذاتی ہو نہ کہ کسی سے حاصل کردہ ہو اور ایسا علم خداوندعالم کے سواء کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘سورۃ نمل کی آیت نمبر۶۵جس کا تذکراہ ہو چکا ہے اس کے ذیل میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں:’’الحق ان یقال ان علم الغیب المنفی عن غیرہ عزوجل وعلا ھو ماکان للشخص لذاتہ ای بلا واسطۃ فی ثبوتہ لہ وھذا مما لا یعقل لاحد من اھل السماوات الارض وما وقع للخواص لیس من ھذا العلم المنفی فی شیء فلایقال انھم علموا الغیب بذلک المعنی ومن قالہ کفر قطعاً وانما یقال انھم اظھروا او اطلعوا علی الغیب ویؤید ما ذکرانہ لم یجیء فی القرآن الکریم نسبۃ علم الغیب الی غیرہ تعالیٰ اصلاً۔‘‘(روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ج۲۰ص۱۱)’’حق بات یہ ہے کہ وہ علم غیب جس کی غیر خدا سے نفی کی گی ہے یہ وہ علم ہے جو بلاواسطہ کسی کے لیے ثابت ہو یعنی ذاتی طور پر کسی کے لیے ثابت ہو اور یہ علم زمین وآسمان میں خدا کے علاوہ کسی کے لیے معقول وممکن نہیں ہے اور جو علم خدا کے بعض برگزیدہ بندوں کے لیے ہے وہ علم نہیں ہے اور نہ ہی اس قسم کا علم علم غیب ہوتا ہے اور جس نے ایسا کہاکہ خدا کے علاوہ بھی کوئی ذاتی طور پر علم غیب رکھتا ہے تو یہ کھلاکفر ہے بلکہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا علم غیب ان کے لیے عیاں کیا گیا ہے اور اس بات کی تائید یہ ہے کہ قرآن کریم میں علم غیب کی نسبت غیرخدا کی طرف اصلا نہیں ہے۔‘‘چوتھا نظریہ:تناسخ ارواح آئمہ ؑ :’’روحوں کا بعض اجسام سے نکل کر دوسرے اجسام میں منتقل ہو نا۔‘‘نفس ناطقہ کا اس دنیا میں موت کے بعد ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف منتقل ہونے کو تناسخ کہتے ہیں جیسا کہ معاد جسمانی کے منکرین کا عقیدہ ہے۔(موسوعۃ کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم ،ج۱ص۵۱۲)یہ غالیوں کا ایک گروہ ہے جو یہ کہتے ہیں آئمہ ؑ کی ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہیں یہ نظریہ عقلی ونقلی ہر دو اعتبار سے باطل ہے۔یہ نظریہ عقلی طور پر اس لیے باطل ہے کہ اگر اس نظریہ کر مان لیا جائے تو نفس انسانی یعنی روح کا ازلی ہونا لازم آتا ہے او ر روح کا ازلی ہونا باطل ہے دوسری بات یہ ہے کہ وہ اجسام جن میں روح منتقل ہوتی ہے لازم ہے کہ وہ غیر متناہی ہوں اور یہ باطل ہے۔اس کے علاوہ علماء امامیہ نے تناسخ کے بطلان کی مختلف دلیلیں پیش کی ہیں جیسا کہ علامہ مجلسی ؒ نے بحار الانوار کی جلد۴،صفحہ۳۲ میں کتاب التوحید کے ذیل میں ابطال تناسخ پر گفتگو کی ہے۔نقلی طور پر اس لیے باطل ہے کہ اہل بیت ؑ نے اس نظریہ کو مد وشد کے ساتھ باطل کیاہے۔(۱)قال المامون للرضاعلیہ السلام یا ابا الحسن ماتقول فی القائین بالتناسخ؟فقال الرضا علیہ السلام :’’من قال بالتناسخ فھو کافر باللہ العظیم مکذب بالجنۃ والنار۔‘‘(عیون اخبار الرضا ج۲ص۲۱۸)مامون نے امام رضا ؑ سے کہا اے ابوالحسن آپ تناسخ کے قائلین کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو امام ؑ نے فرمایا:’’جس نے تناسخ کے نظریہ کو اختیار کیا وہ خدائے عظیم کا منکر ہے جنت وجہنم کو جھٹلاتا ہے۔‘‘(۲)قال ابوالحسن الرضا علیہ السلام من قال بالتناسخ فھوکافر۔(عیون اخبار الرضا ج۲ص۲۱۸)امام رضا ؑ نے فرمایا:’’جس نے تناسخ کے عقیدے کو اختیار کیا وہ کافر ہے۔‘‘پانچواں نظریہ:تفویض استقلالی:تفویض استقلالی کامعنی یہ ہے کہ ٖخداوندعالم نے کائنات کے تکوینی امور(جیسے خلق کرنا،زندہ کرنا،موت دینا،رزق دینا وغیرہ)اور تشریعی امور(مثلا احکام)نبی اکرم ؐ اور اہل بیت ؑ کے سپرد کر دیئے ہیں وہی مستقل طور پر خدا سے بے نیاز ہو کر کائنات کے تکوینی وتشریعی کاموں کی تدبیر کرتے ہیں اس کا معنی ہے تفویض استقلالی۔سید خوئی ؒ فرماتے ہیں:’’ومن الغلاۃ من ینسب الیہ الاعتراف بألوھیتہ سبحانہ الا انہ یعتقدان الامور الراجعۃ الی التشریع والتکوین کلھا بید امیر المؤمنین علیہ السلام او احد الائمۃ علیہم السلام فیری انہ المحی والممیت وانہ الخالق والرازق وھذہ عقیدۃ التفویض لان معناھا ان اللہ سبحانہ کبعض السلاطین الملوک قدعزل نفسہ عما یرجع الی تدبیر مملکتہ وفوض الامور الراجعۃ الیھا الی احد وزراۂ۔‘‘(التنقیح فی شروح العروۃ الوثقیٰ ج۳ص۷۴)’’غالیوں میں سے کچھ ایسے افراد ہیں جو خدا کی اولوہیت کا اعتراف کرتے ہیں مگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمام تکوینی وتشریعی امور کی باگ ڈور امیر المؤمنین ؑ یا باقی آئمہ ؑ میں کسی ایک کے ہاتھ میں ہے پس وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امیر المؤمنین ؑ ہی زندہ کرتے ہیں،موت دیتے ہیں،وہی خالق ورازق ہیں۔یہ تفویض کا عقیدہ ہے جس کا معنی یہ ہے کہ خدا عام بادشاہوں کی طرح ہے جو اپنی مملکت کی تدبیر میں خود کواپنے منصب سے ہٹا لے اور سلطنت کے تمام امور اپنے کسی ایک وزیر کے سپرد کردے‘‘۔اس نظریہ کی وضاحت کے لیے ایک مقدمہ کی ضرورت ہے تاکہ کچھ شکوک وشبھات دورہو جائیں۔تفویض بعض اوقات عالم تکوینی میں ہوتی ہے اور بعض اوقات عالم تشریعی میں۔وہ تفویض جو عالم تکوینی میں متصور ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔(۱)تفویض استقلالی:جس کے بارے میں بیان گذر چکا ہے کہ خداوندعالم نے اس کائنات کے تکوینی وتشریعی امور مستقل طور پر نبی واہل بیت ؑ کے سپرد کردیے ہیں اب وہ جو چاہیں کریں خداوندعالم کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔اس قسم کی تفویض غالیوں کا نظریہ ہے۔(۲)اذن الہیٰ کے ساتھ تفویض:اس کا معنی یہ ہے کہ خداوندعالم نے نبی اکرم ؐ اور ان کی اہل بیت ؑ کو کائنات کے امور پر تصرف کی قدرت وولایت عطا کی ہے لیکن یہ قدیہ حضرات کائنات میں اللہ کے اذن سے تصرف کرتے ہیں۔یہ برگزیدہ ہستیاں کوئی کام نہیں کرتیں مگر جس کام پر اللہ انہیں قدرت دیتا ہے وہی کام کرتے ہیں۔پس وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے خلق کرتے ہیں، زندہ کرتے ہیں،مردہ کرتے ہیں مگر مستقل طور پر نہیں کہ ان کی قدرت خدا کی قدرت کے مقابلے میں ہو۔اس مقدمہ کی وضاحت کے بعد ہم کہتے ہیں کہ تفویض استقلالی جزمی طور پر باطل ہے کیونکہ عقلی ونقلی ادلہ اس تفویض کو باطل کرتی ہیں کیونکہ خدا کی قدرت سے بے نیاز ہو کر کائنات کے تکوینی امور پر مستقل طور پر تصرف کرنا اس کی قدرت وسلطنت سے خروج ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ خداوندعالم کا ان کاموں میں شریک مانا جارہا ہے اور یہ باطل ہے۔کیونکہ نصوص قرآنی وروائی اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ ہر ممکن ہر آن وہر لحظہ اپنے ہونے اور باقی رہنے میں خدا کا محتاج ہے اور خدا واحد کی قدرت سے خروج ممکن نہیں ہے ۔دوسری قسم کہ خدا اپنے برگزیدہ بندوں کو تکوینی امور میں تصرف کرنے کی قدرت عطا کرتاہے اور اسی قدرت عطا کرنے کو اذن الہی کہتے ہیں۔اور اس بات پر متعدد قرآنی شواہد ہیں آیات قرآنی یہ کہہ رہی ہیں کہ خدا نے اپنے بعض بندوں کو کائنات کے تکوینی امور میں تصرف کرنے کی قدرت عطا کی ہے۔ذیل میں ہم چند آیات کو اپنے محترم قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں۔(۱)قولہ تعالیٰ:’’انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیءۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراباذن اللہ وابریء الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ وأنبئکم بما تأکلون وماتدّخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لآیۃلکم ان کنتم مؤمنین۔‘‘(آل عمرآن۴۹)’’میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لیکر تمھارے پاس آیا ہوں(وہ یہ ہے کہ)میں تمھارے سامنے مٹی سے پرندے کی شکل کا مجسمہ بناتاہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو تندرست اور مردے کو زندہ کرتاہوں اور میں تم لوگوں کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا جمع کرکے رکھتے ہو اگر تم صاحبان ایمان ہو تو اس میں تمھارے لیے نشانی ہے۔‘‘یہ آیت کائنات میں تکوینی تصرف کی طرف اشارہ کررہی ہے جیسے خلق کرنا،موت دینا،زندہ کرنا،مریضوں کو شفا دینا وغیرہ لیکن ساتھ ساتھ ہم اس بات کی طرف بڑی واضح تاکید بھی دیکھتے ہیں کہ جناب عیسیٰؑ بار بار کہہ رہے ہیں کہ میں یہ کام اللہ کے اذن سے کرتا ہوں اس کی عطا کردہ قدرت سے کرتا ہوں مستقل طور پر نہیں کرتا اور باربار اذن الہی کا تکرار اس لیے کیا تاکہ کوئی جناب عیسیٰؑ کو اولوہیت کا معتقد نہ ہوجائے۔لیکن بعض افراد یہ گمان کرتے ہیں کہ جب یہ برگزیدہ ہستیاں اپنے افعال میں مستقل نہیں ہیں یعنی اللہ کی قدرت سے انجام دیتے ہیں تو پھر یہ فعل ان کا تو نہیں ہے بلکہ اللہ کا ہے۔لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس بات میں کوئی مانع نہیں ہے کہ فعل انجام دینے کی قدرت خدا کی طرف سے ہو مگر فعل حقیقی طور پر ان کا ہو اور ظاہر آیت اس بات پر واضح دلیل ہے کہ یہ افعال جناب عیسیٰؑ کے اپنے افعال تھے مگر ان کاموں کی طاقت خدا نے دی ہے اور اسی بات کی طرف آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ نے اس آیت کے ذیل میں اشارہ فرمایا ہے ’’فاستعمال افعال مثل وابری واحیی الموتی وبضمیر المتکلم تدل علی ان ھذہ الافعال من عمل الانبیاء انفسھم وان القول بان ھذہ الافعال کانت تقع بسبب دعاءھم فقط ھوقول لا یقوم علیہ دلیل بل ان ظاھر آیات یدل علی انھم کانوایتصرفون بعالم التکوین ویقومون بتلک الافعال۔‘‘(الامثل فی تفسیر کتاب اللہ المنزل ج۲ص۵۰۶،۵۰۷)’’ابریء ‘‘اور ’’احیی الموتی ‘‘کے افعال کا ضمیر متکلم کے ساتھ استعمال کرنا یہ دلالت کرتا ہے کہ یہ افعال انبیاء کے اپنے افعال ہیں اور یہ کہنا کہ یہ تکوینی افعال فقط ان کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں تو اس قول پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ ظاہر آیات دلالت کرتی ہیں کہ انبیاء کائنات کے تکوینی امور میں تصرف کرتے تھے اور ان امور کو خود انجام دیتے تھے۔‘‘پھر آقائی مکارم الشیرازی فرماتے ہیں:’’ولکن لکی لا یتصور احد ان الانبیاء والاولیاء کان لھم الاستقلال فی العمل وانھم اقامو جھازاًللخلق فی مقابل جھاز خلق اللہ و کذلک لکی لا یکون ھناک ای احتمال الشرک تکرر قول(باذن اللہ)‘‘(الامثل فی تفسیر کتاب اللہ المنزل ج۲ص۵۰۷)یہ اس لیے ہے کہ تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ انبیاء ؑ واولیاء ؑ یہ افعال مستقل طورپر کرتے تھے یعنی (اس کی قدرت سے بے نیاز ہو کر کرتے تھے)اور انھوں نے خدا کے نظام خلقت کے مقابلے میں ایک نظام ایجاد کیا اور تاکہ شرک کا احتمال پیدا نہ ہو اذن اللہ کے لفظ کا تکرار کیا ہے۔(۲)قولہ تعالیٰ فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاءً حیث اصاب والشیاطین کل بنّاء وغوّاص وآخرین مقرنین فی الاصفادھذا عطاؤنا فامنن او امسک بغیر حساب۔(ص۳۶۔۳۹)پھر ہم نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا جدھر وہ جانا چاہتے ان کے حکم سے نرمی کے ساتھ اسی طرف چل پڑتی تھی اور ہر قسم کے معمار اور غوطہ خور شیاطین کو بھی(مسخر کیا)اور دوسروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور یہ ہماری عنایت ہے جس پر چاہو عنایت کرو اور جس کو چاہو روک لو اس کاکوئی حساب نہیں ہوگا۔اس آیت کے ذیل میں مرحوم فیض کاشانی ملا محسن اپنی کتاب تفسیر الصافی میں لکھتے ہیں:’’فاعط من شئت وامنع من شئت(بغیر حساب)غیر محاسب علی منہ وامسالہ لتفویض التصرف فیہ الیک۔‘‘(تفسیر الصافی ج۴ص۳۰۰)’’(یہ بادشاہت و سلطنت جو ہم نے آپ کو دی ہے)تم جس کو چاہو دے دو اور جس سے چاہو روک لو اور اس دینے اور نہ دینے پر تمھارا کوئی محاسبہ نہ ہوگا کیونکہ اس بادشاہت وسلطنت میں تصرف کرنا تجھے سپرد کر دیا گیا ہے۔‘‘بعض حضرات نے الکافی میں موجود ایک روایت کے ذریعہ یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس ولایت تکوینی تھی مگر نبی اکرم ؐ اور ان کی عترت کے پاس اس سے افضل چیز تھی اور وہ ولایت تشریعی ہے ۔ملاحظہ ہو روایت اور اس کے بعد اس کا جواب۔روایت اگرچہ طویل ہے مگر ہم اس کے آخری حصہ کو ذکر کرتے ہیں۔موسیٰ بن اشیم کو امام صادقؑ نے فرمایا:’’یا ابن اشیم ان اللہ فوض الی سلیمان بن داود فقال ھذا عطاؤنا فامنن اوامسک بغیر حساب وفوض الی نبیہ وقال ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا فما فوض الی رسول اللہ فقد فوضہ الینا۔‘‘(الکافی الجز الاول کتاب الحجۃ ص۵۲)امام صادقؑ نے موسیٰ بن اشیم کو فرمایا:’’خداوندعالم نے سلیمان بن داؤود ؑ کی طرف کچھ امور تفویض کیے تھے اور سلیمان ؑ کے حق میں کہا یہ سب میری عطا ہے اب چاہوتولوگوں کو دے دو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور نبی اکرم ؐ کی طرف بھی کچھ چیزیں تفویض کیں اورکہا جو کچھ بھی رسول تمھیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤپس جو چیز رسول خدا ؐ کی طرف تفویض کی ہے وہی ہماری طرف بھی تفویض کی ہے۔‘‘جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ بعض حضرات نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ سلیمان بن داؤود ؑ کے پاس تکوینی امور میں تصرف کرنے کا حق تھا اور نبی اکرمؐ اور ان کی اہل بیت ؑ کو تشریعی امور میں تصرف کرنے کا حق تو ہے مگر تکوینی امور میں تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔اس وہم کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ جس روایت کا سہارا لے کر نبی اکرم ؐ اور انکی اہل بیت ؑ سے ولایت تکوینی کی نفی کر جارہی ہے اس روایت کی سند میں تین راوی ایسے ہیں جن کے بارے میں علماء شیعہ کے کلمات ہم آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں۔وہ تین راوی مندرجہ ذیل ہیں۔(۱)یحییٰ بن ابی عمران۔(۲)بکاربن ابی بکر۔(۳)موسیٰ بن اشیم۔سید خوئی ؒ یحییٰ بن ابی عمران وبکار بن ابی بکر کے بارے میں کہتے ہیں۔یہ گذشتہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ یحییٰ بن ابی عمران وبکار بن ابی بکر دونوں مھمل ہیں۔’’قال ایضاً بکاربن ابی بکر مجھول‘‘’’بکاربن ابی بکر مجہول الحال ہے۔‘‘موسیٰ بن اشیم:الکشی نے حفص بن میمون کے احوال کو بیا ن کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ابن اشیم خطابیہ میں سے تھا اما م صادقؑ نے اس کی مذمت کی ہے کیونکہ وہ جب امام صادقؑ کے پاس آتا تو حق بات بتاتا جب ابی خطاب کے پاس آتا تو اس کے برعکس بیان کرتا جس کے نتیجے میں لوگ ابی خطاب کی بات کو قبول کر لیتے اور امام صادقؑ کی بات کو چھوڑ دیتے۔‘‘سید خوئی ؒ فرماتے ہیں:’’موسیٰ بن اشیم کی وثاقت کسی صورت میں ثابت نہیں ہے وہ مجھول الحال ہے۔‘‘(معجم رجال الحدیث ج۱۹ص۱۸)تو ایسی روایت جو تین ایسے راویوں پر مشتمل ہو جن کی وثاقت کے بارے کچھ علم نہیں ہے نبی اکرمؐ اور ان کی اہل بیت ؑ سے ولایت تکوینی کی نفی کی جاسکتی ہے۔دوسری بات یہ ہے سند روایت سے قطع نظر ہو کر خود مدلول روایت سے بھی ولایت تکوینی کی نفی نہیں سمجھی جاتی۔کیونکہ امام صادقؑ نے فرمایاہے’’ حضرت سلیمان ؑ کے پاس ولایت تکوینی تھی اور ہمارے پاس ولایت تشریعی ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے پاس ولایت تکوینی نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس ایسی روایات موجود ہیں جن میں تصریح کی گئی ہے کہ جو کچھ حضرت سلیمانؑ کے پاس ہے وہ سب کچھ نبی اکرمؐ اور اہل بیت ؑ کے پاس موجود ہے اور جو کچھ نبی اکرم ؐاور اہل بیت ؑ کے پاس ہے وہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس نہیں ہے۔‘‘امام موسیٰ کاظم ؑ نے ایک طویل روایت میں علی بن یقطین سے فرمایا:قال علیہ السلام’’ قد واللہ اوتینا مااوتی سلیمان ومالم یؤت سلیمان ومالم یؤت احد من الانبیاء من العالمین قال اللہ عزوجل فی قصۃ سلیمان’’ھذاعطاؤنا فامنن او امسک بغیرحساب‘‘قال عزوجل فی قصۃ محمدصل اللہ علیہ وآلہ وسلم’’ماآتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔‘‘فرمایا’’ خدا کی قسم ہمیں وہ سب کچھ عطا کیاگیا ہے جو سلیمان کو دیا گیا تھا اور جو کچھ سلیمان اور کسی نبی کے پاس نہ تھا وہ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔خداوندعالم نے حضرت سلیمان ؑ کے قصے میں فرمایا:’’یہ سب میری عطاء ہے اب چاہے لوگوں کو دیدیا اپنے پاس رکھ لو تم سے حسا ب نہ ہو گا‘‘اور حضرت محمدؐکے واقعہ میں فرمایا:’’جو کچھ بھی رسول تمھیں دے دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔‘‘علامہ مجلسی ؒ فرماتے ہیں:’’فلا یمنع ھذا الکلام ان یعطی اللہ من بعدہ من الانبیاء والاوصیاء اضعاف ما اعطاہ‘‘(بحارالانوار ج۱۴)’’(حضرت سلیمان ؑ کو اتنی بڑی بادشاہت و سلطنت کا دینا)یہ مانع نہیں ہے کہ خدا حضرت سلیمان ؑ کے بعد انبیاء و اوصیاء کو ان سے دگنا عطا کردے۔‘‘اس گفتگو کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داود ؑ کو خداوندعالم نے کائنات کے بعض امور تکوینی میں تصرف کا حق دیا تھا ۔اور ہمارے آئمہ ؑ کو تکوینی وتشریعی امور میں تصرف کا حق عطا ء کیا ہے۔(۳)قولہ تعالیٰ ’’وکذلک اوحینا الیک روحاًمن امرنا۔‘‘(الشوری۵۲)’’اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی ہے۔‘‘خدا نے اپنے امر سے اپنے رسول ؐکو روح عطا کی ہے جس کی وجہ سے وہ کائنات کے تکوینی امور میں تصرف کر سکتے ہیں۔فعن جابر الجعفی عن الاما م الباقر علیہ السلام:قلت یاابن رسول اللہ ومن المقصر؟قال الذین قصروا فی معرفۃ الأئمۃ وعن معرفۃ ما فرض اللہ علیھم من امرہ وروحہ۔قلت یا سیدی وما معرفۃ روحہ؟قال ان یعرف کل من خصہ اللہ تعالیٰ بالروح فقد فوض الیہ امرہ یخلق باذنہ ویحیی باذنہ ویعلم الغیر ما فی الضمائر ویعلم ماکان وما یکون الی یوم القیامۃ وذلک ان ھذا الروح من امر اللہ تعالیٰ فمن خصہ اللہ بھذا الروح فھذا کامل غیر ناقص یفعل ما یشاء باذن اللہ یسیر من المشرق الی المغرب فی لحظۃ واحدۃ یعرج بہ الی السماء وینزل بہ الی الارض ویفعل مایشاء واراد قلت یا سیدی اوجدنی بیان ھذا الروح من کتاب اللہ قال نعم اقراء ھذہ الآیۃ ’’وکذلک اوحینا الیک روحاًمن امرنا‘‘۔جابر کہتاہے میں نے امام محمد باقرؑ سے کہا :اے فرزند رسول ؐمقصر کون ہیں؟فرمایا:’’ وہ لوگ جنھوں نے آئمہؑ کی معرفت میں کوتاہی کی اور اس روح کی معرفت میں تقصیر کی جسے اللہ نے آئمہ ؑ پر لازم قرار دیا ہے۔‘‘میں نے کہا اے میرے سردار روح کی معرفت کیا ہے ؟فرمایا:’’ہر وہ جسے اللہ تعالیٰ نے روح کے ساتھ مخصوص کیا ہے اسے ایسے پہچاناجائے کہ اللہ نے اپنا امر اسکی طرف سپرد کردیا ہے وہ اس کے اذن سے خلق کرتا ہے اورا س کے اذن سے زندہ کرتاہے،لوگوں کے دلوں میں پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔گذشتہ اور قیامت تک آنے والے واقعات سے باخبر ہے اس وجہ سے کہ یہ روح اللہ کا امر ہے اللہ جسے یہ روح عطا کرتاہے وہ کامل انسان ہے۔اللہ کے اذن سے جو چاہے وہ کرتاہے ایک لحظہ میں مشرق سے مغرب پہنچ جاتا ہے۔اسی روح کے ذریعہ آسمان کی طرف چڑھتا ہے اور زمین کی طرف اترتا ہے جو چاہتا ہے وہی کرتاہے۔‘‘میں نے کہا اے میرے سردار اس روح کے بارے میں قرآن سے کوئی بیان فرمائیں تو فرمایا:کیوں نہیں اس آیت کی تلاوت کرو’’ اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنی روح کی وحی کی ہے۔‘‘(الزام الناصب ج۱ ص۴۲،الھدایۃالکبریٰ۴۳۱،بحارالانوارج۲۶ص۱۴۔۱۵)(۴)قولہ تعالی’’ٰ وجعلنا ھم آئمۃ یھدون بامرنا۔‘‘(الانبیاء۷۳)’’اور ہم نے ان سب کو پیشوا قراردیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے۔‘‘سید محمد حسین الطباطبائیؒ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:’’ولاتنفک النبوۃ عن الھدایۃ بمعنی اراء ۃ الطریق فلایبقی للامامۃ الا الھدایۃ بمعنی الایصال الی المطلوب وھی نوع تصرف تکوینی فی النفوس بتسییرھا فی سیر الکمال ونقلھا من موقف معنوی الی موقف آخر واذ کانت تصرفاً تکوینیاً وعملا باطنیا فالمراد بالامر الذی تکون بہ الھدایۃ لیس ھو الامر التشریعی الاعتباری بل مایفسرہ فی قولہ وانما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون۔‘‘(یسین۸۳)(نبی لوگوں کی ہدایت ایسے کرتا ہے کہ فقط انہیں صحیح راستہ دکھاتا ہے)نبوت اس ہدایت سے ہرگز جدا نہیں ہوسکتی تو اس صورت میں امام ؑ کے لیے ہدایت کا فقط ایک ہی معنی باقی رہ جا تا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کو منزل مقصود تک لے جانا اور اس قسم کی ہدایت دلوں میں ایک تکوینی تصرف ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو کمال کے راستے پر چلاتے ہیں اور ایک معنوی حالت سے دوسری حالت تک پہنچا دیتے ہیں۔جب یہ ہدایت ایک تکوینی تصرف اور باطنی عمل ہے تو جس امر کے ذریعہ اما مؑ ہدایت کرتا ہے اس امر سے مراد بھی امر تشریعی نہیں ہے بلکہ امر سے مراد وہ ہے جس کو آیت نے بیان کیا ہے’’اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شیء کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرے کہ ہو جا اور وہ شیء ہوجاتی ہے۔‘‘(المیزان فی تفسیر القرآن ج۱۴ص۳۰۴)ان آیات مذکورہ کے علاوہ قرآن مجید میں متعدد ایسی آیات ہیں جنھوں نے اذن الہی کے ساتھ تفویض کو بیان کیا ہے اس مختصر سی تحریر میں گنجائش نہیں ہے کہ ان تمام آیات کی طرف اشارہ کیا جائے۔لیکن نتیجے کے اعتبار سے تمام آیات کا معنی ایک ہی ہے کہ خداوندعالم نے اپنے اذن سے اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو کائنات میں تکوینی تصرف کرنے کی قدرت عطا کی ہے اور اذن الہی کے ساتھ تفویض کا یہی معنی ہے۔اور اذن الہی کے ساتھ تفویض فقط انبیاء واوصیاء کو خدا نے عطا نہیں کی ہے بلکہ جن وانس دونوں کو اس تصرف تکوینی پر قدرت عطا کی ہے۔اور نہ فقط آیات قرآنی نے اس تفویض کو ثابت کیا بلکہ روایات نے بھی ایک بہت بڑی تعداد میں اس قسم کو ثابت کیا ہے اور یہ قسم ہرگز تفویض باطل میں داخل نہیں ہے اور نہ ہی اس سے غلو لازم آتاہے۔ذیل میں ہم چند ایک روایات کو بیان کررہے ہیں جو تفویض کی اس قسم کو بیان کررہی ہیں۔(۱)عن ابی حمزۃ الثمالی عن علی ابن الحسین علیہ السلام قال قلت لہ الائمۃ یحیون الموتی ویبرؤن الاکمۃ والابرص یمشون علی الماء؟قال مااعطی اللہ نبیا قط الا وقد اعطاء اللہ محمدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم واعطاء ما لم یکن عندھم۔قلت وکل ماکان عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فقداعطاہ امیر المؤمنین علیہ السلام؟قال نعم ثم الحسن والحسین علیھما السلام بعد کل امام الی یوم القیامۃ۔ابو حمزہ ثمالی امام زین العابدین ؑ سے نقل کرتے ہیں:’’میں نے کہا :کیا آئمہ ؑ مردوں کوزندہ کرتے ہیں مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو شفا دیتے ہیں اور پا نی پر چلتے ہیں؟تو امام ؑ نے فرمایا اللہ نے کسی نبی کو کوئی ایسی چیز نہیں دی ہے جو محمد ؐکو عطا نہ کی ہو بلکہ جو کچھ رسول خدا ؐکو عطا کیا وہ باقی انبیاء ؑ کے پاس نہیں ہے۔میں نے کہا جو کچھ رسول اللہ ؐکے پاس ہے کیا وہ رسول خدا ؐنے امیر المؤمنین ؑ کو عطا کیا ہے؟فرمایا:ہاں پھر امیر المؤمنین ؑ کے بعد امام حسن ؑ و حسین ؑ کو عطا کیااور پھر ان کے بعد قیامت کے دن تک ہر امام کے پاس وہ سب کچھ ہے جو رسول خدا ؐ کے پاس تھا۔‘‘(بصائر الدرجات الکبریٰ ج۲ ص۱۵)تفویض کی دوسری قسم:عام تشریع میں تفویض:یہ بات مسلم ہے۔کہ اصل تشریع فقط خداوند عالم کی ذات میں منحصر ہے۔ارشاد ربانی ہے :’’ان الحکم الا للہ امران لاتعبدوا الاایاہ‘‘(یوسف:۴۰)’’حکم کرنے کا حق صرف خداہی کو ہے اور اسی نے حکم دیاہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے ۔‘‘لیکن بعض غالیوں کا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم نے تشریع کا حق نبی اکرمؐاوراہلبیت نبی علیہم السلام کے سپرد کیا ہے وہ مستقل طور پر اپنی مرضی سے احکام بناتے ہیں اور وحی والہام کے علاوہ اسکے ارادے ومشیئت سے بے نیاز ہو کر احکا م سازی کرتے ہیں ۔عالم تشریع میں اس قسم کی تفویض کے باطل ہونے پرعلماء کا اتفاق ہے کیونکہ جویہ عقیدہ رکھے کہ خداوندعالم کے علاوہ بھی کسی کو قانون بنانے کا حق ہے اورحلال وحرام کی باگ ڈور کسی اورکے پاس ہے تو گویااس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کو اپنا رب مان لیاہے اور جو فعل اللہ کے ساتھ خاص ہے اس فعل کو کسی اور کیلئے بھی جائزقراردیاہے گویا اس نے توحید کی حدوں کو توڑ دیاہے اور یہی شرک ہے۔مذھب شیعہ کا اس میں عقیدہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے اغلب احکام کو بیان کیا ہے اور نبی اکرمؐ اوراہل بیت ؑ نے ان احکام کی تبلیغ کی ہے لیکن بعض ایسے موضوعات وواقعات ہیں جن میں خدا نے اپنے حبیب ؐکو اذن دیاہے کہ وہ لوگوں کے لئے احکام وضع کریںیعنی نبی اکرم ؐ نے خداوندعالم کی اجازت اور اس کے اذن سے بعض احکام کو جعل کیا ہے اور اسی طرح اہل بیت ؑ نے بھی بعض ایسے احکام شرعی کو خدا کے اذن سے جعل کیاہے جن کی تشریع نہ خدانے کی اور نہ ہی رسول خداؐنے کی۔اسوجہ سے کہ اھل بیت ؑ کوئی کام ایسانہیں کرتے جو خدا کے ارادے کے مطابق نہ ہو۔لہذاانکاتشریع احکام کرنا گویاخدا و رسولؐ کی تشریع احکام کے برابر ہے۔اورعالم تشریع میں تفویض کا یہ معنی معقول ہے اوراس میں کوئی اشکال لازم نہیں آتا۔اگر اس معنی کے ثبوت پر ادلہ قائم ہوجائیں تو اس تفویض تشریعی کوقبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔علامہ مجلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں عالم تشریع میں تفویض کے معنی میں دو احتما ل پائے جاتے ہیں:۱۔خداوندعالم نے وحی و الہام کے بغیراحکام نبی اکرم ؐاورآئمہ ؑ کے سپرد کردئے وہ جسکو چاہیں حلال کردیں اورجسکو چاہیں حرام قرار دیں یا جو ان کی طرف وحی ہوا ہے اس کو اپنی آراء سے بدل دیں ۔تفویض کایہ معنی باطل ہے اور کوئی عاقل اسکو قبول نہیں کرتا۔جبکہ رسول خداؐ توکسی سائل کاجواب دینے کے لئے کئی دنوں تک وحی خدا کاانتظار کرتے اور اپنی طرف سے جواب نہ دیتے کیونکہ خدانے تواپنے حبیب کے بارے میں فرمایا:’’وماینطق عن الھوی ان ھوالاوحی یوحی‘‘(النجم:۳،۴)’’اوروہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتااس کی کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے۔‘‘۲۔جب خدا وندعالم نے اپنے رسول ؐکوکما ل کے ا س درجے پر فائزکیاکہ سوائے حق کے وہ کسی اورچیز کوپسندنہیں کرتے اوراپنے رب کی مشیئت کے خلاف تصور بھی نہیں کر تے تو دین میں بعض امورکی تعین ان کے سپرد کر دی ہے جیسے نماز میں اضافہ،نوافل کی تعین اور روزے کی تعیین وغیرہ۔یہ اختیاراس وجہ سے ان کے سپردکیاکہ ان کی شرافت و کرامت کااظہار ہو جائے۔ان امور کی اصل تعیین واختیار وحی والہام کے بغیر نہیں ہوتی ہے اور پھر جس چیزکو نبی اکرمؐ نے اختیار کیا وحی کے ذریعہ اسکی تائیدکی اور عقلی طور پر یہ عقیدہ فاسدنہیں ہے۔(بحارالانوار:ج:۲۵ص۳۴۸)اورتفویض تشریعی کے اس دوسرے معنی پر بہت زیادہ روایات موجود ہیں ۔عن الباقرعلیہ السلام قال ’’ان اللہ خلق محمدا صلی اللہ علیہ والہ عبدافادّبہ حتی اذا بلغ اربعین سنۃ اوحی الیہ وفوّض الیہ الاشیاء فقال ’’ومااتٰکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ فانتھوا‘‘(الحشر:۷) (بصائر الدرجات الکبری:ج:۲۔ص۲۲۸)امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اللہ نے اپنے نبی محمد ؐ کو عبد بنا کر خلق کیا پھر انہیں ادب و اخلاق کی تعلیم دی جب آپ کا سن مبارک ۴۰ سال کا ہواتو آپکی طرف وحی کی اور کچھ اشیاء آپکی طرف تفویض کیں اور کہا ’’اورجوکچھ بھی رسول خداؐ تمہیں دے دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ ۔‘‘روایات نے کچھ احکام ایسے ذکر کئے ہیں جن کونبی اکرم ؐنے بغیر وحی کے جعل کیا ہے اور پھر خداوند عالم نے ان احکام کاامضاء کیا ہے۔عن زرارہ عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال’’وضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ دیۃ العین ودیۃالنفس ودیۃالانف وحرم النبیذ وکل مسکر۔فقال لہ رجل فوضع ھذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ من غیر ان یکون جاء فیہ شیء؟قال علیہ السلام ’’نعم لیعلم من یطع الرسول ممن یعصیہ‘‘(بصائر الدرجات الکبری:ج:۲۔ص۲۳۴)امام باقر ؑ فرماتے ہیں ’’رسول خداؐ آنکھ ،جان اورناک کی دیت مقرر کی ہے،انگور سے بنائی ہوئی نشہ آورشراب اور ہر نشہ آورچیزکورسول خداؐ نے حرام کیا ہے۔ایک شخص نے امام باقر ؑ سے کہا کیا وحی کے بغیر رسول خدا ؐ نے ان چیزوں کومقرر کیاہے؟امام ؑ نے فرمایاجی ہاں تاکہ خدایہ جان سکے کہ کون رسول خداؐ کی اطاعت کرتاہے اورکون معصیت کرتاہے ‘‘عن ابن سنان عن اسحاق ابن عمارعن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال’’ان اللہ ادب نبیہ صلیاللہ علیہ والہ علی ادبہ فلماانتھی بہ الی مااراد قال لہ’’وانک لعلی خلق عظیم‘‘(القلم:۴)ففوض الیہ امردینہ فقال ’’ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا‘‘’’وان اللہ فرض فی القران ولم یقسم للجد شیئا۔وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ حرّم کل مسکر فاجاز اللہ لہ ذلک وذلک قول ’’ھذاعطاؤنافامنن او امسک بغیرحساب۔‘‘(ص:۲۹)(بصائرالدرجات الکبری:ج۔۲،ص۔۲۲۹)امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں’’اللہ نے اپنے رسول کو اپنے طریقے کے مطابق ادب و اخلاق کی تعلیم دی ہے جب رسول خداؐ اس منزل پر پہنچ گئے جس کا اللہ نے ان کے لئے ارادہ کیا تھا تو کہا بیشک(اے میرے رسولؐ)آپ بلنداخلاق پر فائزہیں پھر اپنے دین کا معاملہ ان کے سپرد کر دیا اور کہا جو کچھ رسول خداؐ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ ‘‘اللہ نے قرآن میں میراث کو بیان کیا ہے مگر دادا کی میراث کو بیان نہیں کیا۔رسول خداؐ نے ہر نشہ آورچیزکو حرام کیا اور خدا وند عالم نے اس کی تکمیل کی اور اس پر مہر ثبت کر دی اور یہ اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے کہا’’یہ ہماری عطاء ہے جسکو چاہودے دو جس سے چاہوروک لو اورتم سے اس کا حساب نہیں ہو گا۔عن اسحاق ابن عمار عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال’’ان اللہ ادب نبیہ حتی اذا اقامہ علی ما اراد قال لہ ’’خذالعفووامر بالمعروف واعرض عن الجاہلین‘‘(الاعراف۱۹۹)فلما فعل ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ زکّاہ فقال ’’وانک لعلی خلق عظیم ‘‘فلما زکّاہ فوّض الیہ دینہ فقال ومااتاکم الرسول ۔۔۔فانتھوا‘‘فحرّم اللہ الخمر وحرّم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ کل مسکر فاجاز اللہ ذلک وان اللہ انزل الصلاۃ وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وقّت اوقاتھافااجازاللہ ذلک لہ‘‘(بصائرالدرجات:۲،ص:۲۲۹)امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ’’کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ؐ کوادب اخلاق کی تعلیم دی یہاں تک کہ انہیں اس مقام تک پہنچا دیا جس مقام کا ان کیلئے ارادہ کیا تھا ارشادبانی ہے ’’آپ عفو کا راستہ اختیا ر کریں نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی کریں جب رسول خداؐ نے ان کاموں کو انجا م دیا توخداوندعالم نے انہیں تزکیہ نفس کی منزل تک پہنچا دیااورارشادفرمایا’’بے شک اے میرے حبیب ؐ آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں جب تزکیہ نفس کی منزل پر پہنچ گئے تو اپنے دین کے بعض امور ان کی طرف سپردکردئے پس کہاجو کچھ رسول ؐ تمہیں دے دیں اسے لے لو اور جس کام سے روکیں اس سے رک جاؤ۔پس اللہ نے شراب خوری کوحرام کیا تو رسول خداؐنے ہرنشہ آور چیزکوحرام کیاپس خداوندعالم نے اسی کو ہی نافذ کر دیا۔اللہ تعالی نے نمازکو نازل کیا اور رسول خدا ؐ نے ان نمازوں کے اوقات مقرر کئے توخداوندعالم نے اسی کو نافذ کر دیا۔‘‘عن عبداللہ ابن سنان عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال قلت لہ کیف کان یصنع امیرالمومنین بشارب الخمر قال کان یحدہ قلت فان عادقال کا ن یحدہ قلت فان عاد ۔قال کان یحدہ ثلاث مرات فان عادکان یقتلہ۔قلت فکیف یصنع بشارب المسکر۔قال یحدہ قلت فان عاد ۔قال کان یحدہ۔قلت فان عاد۔قال کان یحدہ۔قلت فان عاد۔قال کان یقتلہ۔قلت فمن شرب کمن شرب المسکر۔قال سواء فاستعظمت ذلک فقالؑ ’’لاتستعظم ذلک ان اللہ لماادّب نبیہ صلی اللہ علیہ والہ ائتدب ففوّض الیہ و ان اللہ حرّم مکۃوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ حرّم المدینۃ فاجاز اللہ لہ ذلک وان اللہ حرّم الخمر وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ حرّم کل مسکر فاجازاللہ ذلک وان اللہ فرض فرائض من الصلب وان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ اطعم الجدفاجازاللہ ذلک لہ ثم قال علیہ السلام’’من یطع الرسول فقداطاع اللہ‘‘(بصائرالدرجات:ج۔۲،ص۔۲۳۳)عبداللہ ابن سنان نے امام صادق ؑ سے کہا کہ شراب خورکیساتھ امیرالمومنینؑ کیاکرتے تھے؟ امام ؑ نے فرمایا اس پر شرعی حد جاری کرتے تھے میں نے کہااگر وہ دوبارہ شراب خوری کرتا تو کیا کرتے تھے؟ فرمایا پھر بھی حد جاری کرتے تھے میں کہا اگر وہ تیسر ی بار شراب خوری کرتا تو کیا کرتے تھے ؟اما مؑ نے فرمایاتین بار اس پر شرعی حد جاری کرتے اگر چوتھی بار شراب خوری کرتا تو پھر اسے قتل کر دیتے تھے میں نے کہا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ امام ؑ نے کہا حد جاری کرتے تھے ۔میں نے کہا اگر دوبارہ نشہ آور چیز استعما ل کرتاتو کیا کرتے تھے؟امامؑ نے فرمایا کہ حد جاری کرتے تھے ،میں نے کہا اگر پھر ایسا کرتا تو کیا کرتے؟امامؑ نے فرمایا اسے قتل کر دیتے تھے ۔میں نے کہا شراب خور اور نشہ آور چیزاستعما ل کرنے والا ایک جیسے ہیں اما مؑ نے فرمایا:ہاں دونوں برابر ہیں ۔میں نے اس چیزکو بڑا اور بھاری محسوس کیا تو امام ؑ نے فرمایا۔اس چیزکو بھاری محسوس نہ کرو جب اللہ نے اپنے نبی ؐکو ادب اخلاق کی تعلیم دی تو وہ ادب اخلاق کے زیور آراستہ ہو گئے۔پس اس کے نتیجے میں خدانے کچھ امور رسول خداؐ کی طرف سپردکیے ۔خدانے مکہ کو باحرم قرار دیا تورسول خداؐنے مدینہ کوباحرمت قراردیا۔اوراللہ نے رسول خدا ؐ کے اس تصرف کونافذ العمل کر دیا۔اللہ نے شراب خور کو حرام قرار دیا تو رسول خدا ؐنے ہر نشہ آور چیزکو حرام قراردیااورخدا نے اسے نافذ العمل کر دیا ۔اللہ نے صلبی رشتہ داروں کیلئے میراث قرار دی ہے تو رسول خد اؐ نے دادا کیلئے میراث میں سے حصہ مقرر کیاہے اور خدانے اسی کو نافذالعمل قرار دیاہے ۔پھر امام ؑ نے فرمایا ’’جو رسول خداؐ کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘اسحاق بن عمار نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے سوال کیا کہ دو سجدوں سے ایک رکعت کیوں بنتی ہے اور دوسجدوں سے دو رکعت کیوں نہیں بنتیں؟امام ؑ نے فرمایا:جب تونے ایسی چیزکے بارے میں سوال کیا ہے توپھر اپنے دل سے تمام باتوں کو نکال کراچھی طرح میری با ت کو سمجھ۔پہلی نماز جس کورسول خدا ؐ نے پڑھا وہ آسمان میں عرش الہی کے سامنے بارگاہ الہی میں پڑھی وہ ا سطرح جب رسول خداؐ کو معراج کرائی گئی اور آپ عرش الہی کے پاس پہنچے تو نداء قدرت آئی اے محمدؐ آب حیات کے چشمے (جسکا نا م صاد ہے) کے قریب جاؤاپنے اعضاء سبع کو دھوؤ اورپاک کرو اور اپنے رب کیلئے نمازپڑھو ۔خداوندعالم کے حکم کے مطابق رسول خداؐاس چشمے کے قریب گئے۔وضو کیا ،پس ہر عضو کو اچھی طرح دھویااور اپنے رب کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے پھر خدا نے نماز شروع کرنے کا حکم دیاتو رسول خدا ؐ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ارشادہوا اے محمدؐ(بسم اللہ الرحمن الرحیم۔الحمد للہ رب العالمین)آخرتک پڑھو۔پاک پیغمبر ؐ نے ایسے ہی کیا ۔پھر حکم دیا ۔اپنے رب کے لئے پڑھ (بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قل ھواللہ احد۔اللہ الصمد۔)رسول خداؐ یہ پڑھ کر خاموش ہو گئے پھر ارشادہوا پڑھ (لم یلد ولم یولد ۔ولم یکن اللہ کفوااحد۔)پھر رسول خداؐ خاموش ہوئے اور کہا(کذلک اللہ ربی،کذلک اللہ ربی )جب ایسے کیاتوخدا کی ذات نے حکم دیااے محمدؐ اپنے رب کیلئے رکوع کرو ۔رسو ل خدا ؐنے رکوع کیا تو خدا نے کہا اے محمد ؐ کہو (سبحان ربی العظیم وبحمد ہ)رسول خداؐنے تین مرتبہ ایسے کہاپھرکہااے محمدؐ اپنے سر کو اٹھاؤرسول خداؐ نے ایسے ہی کیا اور اپنے رب کی بارگاہ میں سیدھے کھڑے ہو گئے ۔پھر خدانے کہا اے محمدؐ اپنے رب کو سجدہ کروتو رسول خداؐ نے اپنے سر کو سجدہ میں رکھ دیا اور خدا نے کہا اے محمد ؐپڑھو (سبحان ربی الاعلی وبحمدہ ) رسول خداؐ نے تین مرتبہ پڑھا پھر حکم ہوا اے محمدؐ سیدھے بیٹھ جاؤ۔رسول خداؐ نے ایساہی کیاجب سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تواپنے رب کی بزرگی کویادکیا۔تو اللہ تعالی کے حکم کے بغیراپنی طرف سے سر سجدے میں رکھ دیا ۔تین مرتبہ تسبیح خداکی پھرحکم خدا ہوا اے محمدؐسیدھے کھڑے ہوجاؤتو رسول خداؐنے ایسے ہی کیاپھر حکم ہوا اے محمدؐ جیسے پہلی رکعت میں پڑھا ہے ایساہی پڑھو تو رسول خداؐنے ایسے ہی کیاپھر جب سجدے میں گئے تو ایک سجدہ کیا اور سجدے سے سر اٹھایا تو اپنے رب کی بزرگی کو یاد کیا تو پھر خدا کے حکم کے بغیر اپنی طرف سے سر سجدے میں رکھ دیااور تین مرتبہ تسبیح پڑھی پھر حکم ہوا اے محمد ؐسر سجدے سے اٹھاؤ۔خدا تجھے ثابت قدم رکھے اور کہا پڑھو (اشھدان لاالہ الااللہ ان محمد رسول اللہ وان الساعۃ آتیۃ لاریب فیہ وان اللہ یبعث من فی القبور )میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،محمدؐ اللہ کے رسول ہیں قیامت کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور خدا مردوں کو انکی قبروں سے اٹھائے گا (اللھم صل علی محمد آل محمد کما صلیت وبارکت وترحمت علی ابراھیم وآل ابراھیم انک حمید مجید اللھم تقبل شفاعتہ فی امتہ وارفع درجتہ ففعل )اے خدا یا آپ محمدؐوآل محمدؐ پر ایسے درود سلام بھیجیں جیسے ابراہیم ؑ وآل ابراہیم ؑ پردرودبھیجا انہیں بابرکت بنایا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائی بے شک تو قابل ستائش اور بڑی شان والا ہے ۔اے اللہ محمد ؐ کی امت میں ان کی شفاعت کو قبول کر اور ان کے درجات کو بلند کر پس رسول خداؐنے ایسے ہی کیا۔پھر ارشاد ہوااے محمدؐ:رسول خداؐ اپنے رب کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے اور کہا اے میرے رب تجھ پر میرا سلام ہو تو خدا جبار نے جواب دیا ۔اے محمدؐ تم پر بھی میرا سلام ہو میں نے اپنی نعمت کے طفیل تجھے اپنی اطاعت پر قدرت دی ہے اور اپنی عصمت کے صدقے میں تجھے اپنا نبی حبیب بنایا ہے ۔پھر امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا (اے اسحاق بن عمار)جس نماز کا خدا نے رسول خداؐ کو حکم دیا تھا وہ دو رکعتیں اور دو سجدے تھے لیکن جب ہر رکعت کے پہلے سجدے کے بعد رسول خدا ؐنے اپنے رب کے جلال وبزرگی کو یاد کیا تو ہر رکعت میں دو سجدے کر دیئے (یعنی ایک سجدے کااضافہ رسول خدؐا کی طرف سے ہے )پس خداوندعالم نے رسول خداؐ کے اس اضافی سجدے کو واجب قرار دیا ہے۔(علل الشرائع:ج۔۲،ص:۲۳۵)یہ روایت اور اس سے ملتی جلتی متعدد روایات واضح طور پربیان کررہی ہیں کہ جس نماز کو ہم دن میں پانچ مرتبہ پڑھتے ہیں اس کے بعض اجزاء کو خود اللہ نے بیان کیا ہے اور بعض اجزاء کو رسول خداؐ نے بیان کیا ہے ۔یعنی اضافہ کیا ہے اور رسول خداؐ کے اس اضافے کو اللہ نے واجب قرار دیا ہے۔اسی وجہ سے ایسی روایات ہمارے پاس موجود ہیں جو خدا وند عالم کے فرض کرد ہ ا جزاء اور رسول خدا ؐکے اضافہ کردہ اجزاء کو ممتاز وجدا کرتی ہیں ۔۶۔عن زرارہ عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال عشررکعات رکعتان عن الظھرورکعتان من العصر و رکعتا الصبح ورکعتا المغرب و رکعتا العشا الاخر ۃ لایجوز الوھم فیھن وھی الصلوۃ اللتی فرضھا اللہ عزوجل علی المؤمنین فی القران وفوض الی محمد صلی اللہ علیہ والہ فزاد النبی صلی اللہ علیہ والہ فی الصلوۃ سبع رکعات وھی سنۃ لیس فیھا قراءۃ انما ھی تسبیح و تحلیل و تکبیر و دعاء فالوھم انما یکون فیھن فزاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ فی صلاۃ المقیم غیر المسافر رکعتین فی الظہر والعصر والعشاء الاخرۃ و رکعۃ فی المغرب للمقیم والمسافر۔(الفروع من الکافی :ج۳،ص۔۲۷۳)زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ نماز کی رکعات کی تعداد دس ہے ۔دو ظہر کی،دو عصر کی،دو صبح کی ،دو مغرب کی اور دو عشاء کی ان میں شک کرنا درست نہیں جس نے ان میں شک کیاوہ نئے سرے سے قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے یہ وہی نماز ہے جس کو اللہ نے مومنین پرقرآن میں واجب کیا ہےرسول خدا حضرت محمدؐ کوخدانے کچھ امور دینی سپرد کیے پس انھوں نے نمازمیں سات رکعتوں کا اضافہ کیایہ سنت ہیں ان میں قرائت نہیں ہے بلکہ یہ تسبیح و تہلیل،تکبیر و دعا ہیں ۔شک ان زائد رکعتوں میں ہوتا ہے رسول خدا ؐنے مقیم (جو مسافر نہیں ہے)کے لیے ظہر وعصر وآخری نمازعشاء میں دودو رکعتوں کااضافہ کیاہے اور مقیم مسافر دونوں کیلئے مغرب میں ایک رکعت کا اضافہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ متعدد روایات نے اس چیز کو بڑی وضاحت کے ساتھ ثابت کیا ہے۔رسول خداؐ کو اللہ تعالی نے اپنے اذن سے تشریع کا حق سپرد کیا تھا۔اور پھر مستفیض حد تک روایات یہ کہہ رہی ہیں جو کچھ اللہ نے اپنے حبیب ؐکی طرف تفویض کیا رسول خداؐ نے اسے اپنی اہل بیت ؑ کی طرف سپرد کیا ہے۔۱۔عن ابی عبداللہ الصادق علیہ السلام قال سمعتہ یقول ’’ان اللہ ادّب رسولہ صلی اللہ علیہ والہ حتی قومّہ علی ما اراد ثم فوّض الیہ فقال ’’مااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا‘‘فمافوّض اللہ الی رسولہ فقد فوّض الینا‘‘(بصائرالدرجات:ج۔۲۔ص:۲۳۷)راوی کہتا ہے جس نے امام صادق ؑ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’اللہ نے اپنے رسول کو ادب واخلاق کی تعلیم دی یہاں تک کہ انہیں اس منزل تک پہنچادیا جس کا ان کے حق میں ارادہ کیا تھا پھر رسول خداؐکی طرف کچھ امور سپرد کیے اور کہا اور جو کچھ تمھیں رسول خداؐ دیدے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ‘‘پس اللہ نے جو کچھ اپنے رسولؐ کی طرف تفویض کیا وہ ہماری طرف تفویض کیا ہے۔‘‘۲۔عن عبداللہ بن سنان قال’’قال ابو عبداللہ الصادق علیہ السلام لاواللہ مافوّض اللہ الی احد من خلقہ الا الی رسول اللہ والائمۃعلیہ وعلیہم السلام فقال ’اناانزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراکاللہ‘‘(النساء۱۰۵)وھی جاریۃ فی الاوصیاء‘‘(بصائرالدرجات:ج۔۲۔ص:۲۴۲)عبداللہ بن سنان روایت کرتے ہیں کہ امام صادق ؑ نے فرمایا ’’نہیں خدا کی قسم اللہ نے رسول خدا ؐاور ٓائمہ علیہم السلام کے علاوہ کسی کی طرف کوئی چیز تفویض نہیں کی ہے ۔اور کہا اے رسولؐ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ جیسے اللہ نے آپ کو بتایا ہے اسی کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کریں‘‘یہ آیت اوصیاء کے حق میں بھی جاری ہے۔ ‘‘یہ ساری تشریعات جو محمد وآل محمدعلیھم السلام سے جاری ہوئی ہیں یہ اللہ کے اذن کے ساتھ جاری ہوتی ہیں مگر خدا کی تشریعات اور ان کی تشریعات میں فرق یہ ہے کہ جو کچھ خدا وند عالم نے تشریع کیا ہے بغیر کسی واسطے کے کیا ہے اس کی ا نجام دہی حتمی ہے مگر اضافہ کرنا یہ نبی ؐاور اس کی آل کی طرف سپرد ہیں اب ان کی مرضی کہ ا ضافہ کریں یا نہ کریں ۔لیکن اگر انھوں نے اضافہ کردیا تو پھر خدا ان کے اضافے کو واجب کر دیتا ہے اور خدا کے واجب کردہ کے سامنے سر جھکانا واجب ہے ۔آخر میں ہم ا س بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری گفتگو ان لوگوں سے مختلف ہے جو کہتے ہیں کہ آئمہؑ فقط نبی اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر انہیں تشریع احکام کی اجازت نہیں ہے اس نظریہ کی روشنی میں آئمہ علیھم السلام کیلئے ولایت تشریعی کا سوال ہی پید انہیں ہوتا ۔لیکن ہم نے اس گفتگو میں قرآن واحادیث کی روشنی میں رسول خدا ؐاور اھل بیت علیھم السلام کیلئے اللہ کے اذن سے ولایت تشریعی کو ثابت کیا ہے۔

+

 نوشته شده در  پنجشنبه ششم مهر ۱۳۹۱ساعت 16:5  توسط سید محمد باقر کاظمی  |

Advertisements