Tags

, , , , , , , , , ,

دعاء کمیل اردو ترجمہ کے ساتھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بنام خدائے رحمن ورحیم

اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَہرتَ

خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر محیط ہے۔ اس قوت کے واسطہ سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے

بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ

اور اس کے لئے ہر شے خاضع اور متواضع ہے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر غالب ہے اور اس عزت کے واسطہ سے ہے

بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وبِعِزَّتِکَ  الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ

جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نہیں ہے۔اس عظمت کے واسطہ سے ہے جس نے ہر چیز کو پر کردیا ہے

شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اور اس سلطنت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے سے بلند تر ہے۔اس ذات کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رہنے والی ہے

وَبِاٴَسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ، وَبِعِلْمِکَ الَّذي اٴَحٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ،

اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ہے جن سے ہر شے کے ارکان معمور ہیں ۔اس علم کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے

وَبِنُورِ وَجْھِکَ الَّذي اٴَضٰاءَ لَہُ کُلُّ شَيْءٍ، یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ، یٰا اٴَوَّلَ الْاٴَوَّلینَ،

 اور اس نور ذات کے واسطہ سے ہے جس سے ہر شے روشن ہے۔اے نور، اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر۔

وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ۔ اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَھْتِکُ الْعِصَمَ ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ۔

خدایا میرے گناہوںں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں۔ان گناہوںں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔

اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَیِّرُالنِّعَمَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ

ا ن گناہوںں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ہیں ۔ان گناہوںں کو بخش دے جو دعاوٴں کو تیری بارگاہ تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں ۔

الدُّعٰآءَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلآٰءَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلي کُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُہُ، وَکُلَّ خَطٓیئَةٍ اٴَخْطٰاٴْتُھٰا۔

ان گناہوںں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔ان گناہوںں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ہوتے ہیں۔ خدایا میرے تمام گناہوںں اور میری تمام خطاوٴں کو بخش دے۔

اٴَللّٰھُمَّ إِنِّي اٴَتَقَرَّبُ إِلَیْکَ بِذِکْرِکَ،وَاٴَسْتَشْفِعُ بِکَ إِلٰی نَفْسِکَ،وَاٴَسْاٴَلُکَ

خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رہاہوں اور تیری ذات ہی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رہا ہوں تیرے کرم کے سہارے میرا سوال ہے

بِجُودِکَ اٴَنْ تُدْنِیَني مِنْ قُرْبِکَ،وَاَنْ تُوزِعَنِي شُکْرَکَ،وَاَنْ تُلْھِمَنِي ذِکْرَکَ،اٴَللّٰھُمَّ إِنّي اٴَسْاٴَلُکَ

کہ مجھے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الھام کرامت فرما۔خدایامیں نہایت درجہ

سُوٴٰالَ خٰاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خٰاشِعٍ اٴَنْ تُسٰامِحَنيوَتَرْحَمَنِي وَتَجْعَلَنِي بِقِسْمِکَ رٰاضِیاً

خشوع، خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کرر ہاہوں کہ میرے ساتھ مہربانی فرما۔مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میں ہے مجھے

قٰانِعاً،وَفي جَمیعِ الْاٴَحْوٰالِ مُتَوٰاضِعاً۔

اسی پر قانع بنادے۔ مجھے ہر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔

اٴَللّٰھُمَّ وَاٴَسْاٴَ لُکَ سُوٴٰالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فٰاقَتُہُ،وَاٴَنْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدٰائِدِ

خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ہوں

حٰاجَتَہُ،وَعَظُمَ فیمٰا عِنْدَکَ رَغْبَتُہُ۔اٴَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطٰانُکَ،وَعَلٰا مَکٰانُکَ،وَخَفِيَ

اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ہو۔خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔تیری تدبیر مخفی ۔

مَکْرُکَ،وَظَہَرَ اٴَمْرُکَ،وَغَلَبَ قَہْرُکَ،وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ،وَلٰا یُمْکِنُ الْفِرٰارُمِنْ حُکُومَتِکَ۔

تیرا امر ظاہر۔تیرا قہر غالب اور تیری قدرت نافذ ہے اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ہے۔

اٴَللّٰھُمَّ لاٰاٴَجِدُ لِذُنِوبيغٰافِراً،وَلاٰ لِقَبٰائِحيسٰاتِراً،وَلاٰلِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبیحِ

خدایا میرے گناہوںں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا، میرے قبیح اعمال

بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ، لاٰإِلٰہَ إِلاَّ اٴَنْتَ سُبْحٰانَکَ وَبِحَمْدِکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، ُ

کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ تو وحدہ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ہے۔ خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔

وَتَجَرَّاٴْت بِجَھْلي، وَسَکَنْتُ إِلٰی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لي، وَمَنِّکَ عَلَيَّ۔

اپنی جھالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ہوں کہ تونے مجھے ہمیشہ یا د رکھا ہے اور ہمیشہ احسان فرمایا ہے۔

اٴَللّٰھُمَّ مَوْلاٰيَ کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَہُ،وَکَمْ مِنْ فٰادِحٍ مِنَ الْبَلآٰءِ اٴَقَلْتَہُ،وَکَمْ مِنْ

خدایا میرے کتنے ہی عیب    ہیں جنہیں تونے چھپا دیا ہے اور کتنی ہی عظیم بلائیں ہیں جن سے تونے بچایا ہے۔ کتنی ٹھوکریں ہیں

عِثٰارٍوَقَیْتَہُ،وَکَمْ مِنْ مَکْرُوہٍ دَفَعْتَہُ،وَکَمْ مِنْ ثَنٰاءٍ جَمیلٍ لَسْتُ اٴَھْلاً لَہُ نَشَرْتَہُ۔

جن سے تونے سنبھالا ہے اور کتنی برائیاں ہیں جنہیں تونے ٹالا ہے۔کتنی ہی اچہی تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نہیں تھا اور تونے میرے بارے میں انہیں نشر کیا ہے ۔

اٴَللّٰھُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَاٴَفْرَطَ بيسُوٓءُ حٰالي،وَقَصُرَتْ بياٴَعْمٰالِي،وَقَعَدَتْ

خدایا میری مصیبت عظیم ہے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑہی ہوئی ہے ۔میرے اعمال میں کوتاہی ہے۔ مجھے کمزوریوں

بِياٴَغْلاٰلِي،وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ اٴَمَلِي وَخَدَعَتْنِي الدُّنِّیٰا بِغُرُورِھٰاوَنَفْسي بِجِنٰایَتِھٰا

کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ہے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے، دنیا نے دہوکہ میں مبتلا رکھا ہے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ہے ۔

 وَمِطٰالي یٰاسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِعِزَّتِکَ اٴَنْ لاٰیَحْجُبَ عَنْکَ دُعٰائِي سُوٓءُ عَمَلِي و فِعٰالِي،

میرے آقا ومولا! تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاوٴں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں

وَلاٰتَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْہِ مِنْ سِرِّي،وَلاٰ تُعٰاجِلْني بِالْعُقُوبَةِ عَلٰی مٰا عَمِلْتُہُ

اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاوٴں۔میں نے تنھا ئیوں میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی سزا فی الفور نہ

فيخَلَوٰاتي مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَإِسٰائَتِي،وَدَوٰامِ تَفْریطي وَجَھٰالَتِي، وَکَثْرَةِ شَہوٰاتي وَ غَفْلَتِي۔

ملنے پائے، چاہے وہ غلطیاں بد عملی کی شکل میں ہو ں یا بے ادبی کی شکل میں،مسلسل کوتاہی ہو یا جھالت یا کثرت خواھشات و غفلت۔

وَکْنِ اللّٰھُمَّ بِعِزَّتِکَ لي فی کُلِّ الْاٴَحْوٰالِ رَؤُوفاً، وَعَلَيَّ في جَمیعِ الْاُمُورِ

خدایا مجھ پرہر حال میں مہربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔خدایا۔پروردگار۔میرے پاس

عَطُوفاً،ا ِٕلٰھي وَرَبّي مَنْ لي غَیْرُکَ،اٴَسْاٴَلُہُ کَشْفَ ضُرّي، وَالنَّظَرَ فياٴَمْرِي۔

تیرے علاوہ کون ہے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرماسکے۔

إِلٰھي وَمَوْلاٰيَ اٴَجْرَیْتَ عَلَيّحُکْماً اتَّبَعْتُ فیہِ ہویٰ نَفْسي، وَلَمْ اٴَحْتَرِسْ فیہِ مِنْ

خدایا مولایا۔تونے مجھ پر احکام نافذ کئے اور میں نے خواھش نفس کا اتباع کیا اور اس با ت کی پرواہ نہ کی کہ دشمن

تَزْیینِ عَدُوِّي،فَغَرَّنِي بِمٰااٴَہویٰ وَاٴَسْعَدَہُ عَلٰی ذٰلِکَ الْقَضٰٓاءُ فَتَجٰاوَزْتُ بِمٰاجَریٰ عَلَيَّ مِنْ

(شیطان) مجھے فریب دے رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خواھش کے سہارے مجھے دہوکہ دیا اور میرے مقدر نے بھی اس کا سا تھ دے دیا

ذٰلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ، وَخٰالَفْتُ بَعْضَ اٴَوٰامِرِکَ۔

اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا ۔

فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَيَّ فيجَمیعِ ذٰلِکَ، وَلاٰحُجَّةَ لِي فِیمٰاجَریٰ عَلَيَّ فیہِ قَضٰاوُٴکَ،

بہر حال اس معاملہ میں میرے ذمہ تیری حمد بجالانا ضروری ہے اور اب تیری حجت ہر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ہے اور میرے پاس

وَاٴَلْزَمَنِيحُکْمُکَ وَبَلٰاوٴُکَ، وَقَدْ اٴَتَیْتُکَ یٰاإِلٰھِي بَعْدَ تَقْصیرِي وَإِسْرٰافِيعَلٰی نَفْسِي،

تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم وآزمائش کے سامنے کوئی حجت ودلیل  نہیں ہے۔اب میں ان تمام کوتاہیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں

مُعْتَذِراًنٰادِماً مُنْکَسِراًمُسْتِقیلًا مُسْتَغْفِراً مُنیباًمُقِرّاً مُذْعِناًمُعْتَرِفاً، لاٰ اٴَجِدُ مَفَرّاًمِمّٰا کٰانَ مِنّي،

کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ہو رہاہوں کہ میرے پاس ان گناہوںں سے بھاگنے کے لئے کوئی

وَلاٰمَفْزَعاًاٴَتَوَجَّہُ إِلَیْہِ فياٴَمْرِي غَیْرَ قَبُولِکَ عُذْرِي، وَإِدخٰالِکَ إِیّٰايَ في سَعَةِ رَحْمَتِکَ۔

جائے فرار نہیں ہے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تواپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔

اٴَللّٰھُمَّ فَاقْبَلْ عُذْري، وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي،وَفُکَّنِيمِنْ شَدِّ وَثٰاقِي،یٰارَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي،

لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما ۔میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔مجھے شدید قید وبند سے نجات عطا فرما۔پروردگار میرے بدن کی کمزوری،

وَرِقَّةَ جِلْدي، وَدِقَّةَ عَظْمي،یٰامَنْ بَدَاٴَخَلْقِي وَذِکْرِي وَتَرْبِیَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِیَتي ھَبْني لِابْتِدٰاءِ

میری جلد کی نرمی اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما۔اے میرے پیداکرنے والے ۔اے میرے تربیت دینے والے۔

کَرَمِکَ وَسٰالِفِ بِرِّکَ بي۔

اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرمادے۔

یٰاإِلٰھِيوَسَیِّدِي وَرَبِّي،اٴَتُرٰاکَ مُعَذِّبِي بِنٰارِکَ بَعْدَ تَوْحیدِکَ،وَبَعْدَمَاانْطَویٰ

پروردگار! کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدہٴ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے، یا میرے

عَلَیْہِ قَلْبِيمِنْ مَعْرِفَتِکَ، وَلَھِجَ بِہِ لِسٰانِيمِنْ ذِکْرِکَ،وَاعْتَقَدَہُ ضَمیرِي مِنْ

دل میں اپنے معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابراسے برباد بھی کردے ،

حُبِّکَ،وَبَعْدَصِدْقِ اعْتِرٰافِيوَدُعٰائِيخٰاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ،ہیھٰاتَ،اٴَنْتَ اٴَکْرَمُ مِنْ اٴَنْ تُضَیِّعَ

تیری محبت جاگزیں رہی ہے۔میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ہوں۔اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے تونے پالا ہے

مَنْ رَبَّیْتَہُ،اٴَوْ تُبْعِدَ مَنْ اٴَدْنَیْتَہُ،اٴَوْتُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَہُ،اٴَوْتُسَلِّمَ إِلَی الْبَلاٰءِ مَنْ کَفَیْتَہُ وَرَحِمْتَہُ۔

جسے تونے قریب کیا ہے اسے دور کردے۔جسے تونے پناہ دی ہے اسے راندہٴ درگاہ بنادے اور جس پر تونے مہربانی کی ہے اسے بلاوٴں کے حوالے کردے۔

وَلَیْتَ شِعْري یٰاسَیِّدي وَإِلٰھي وَمَوْلٰايَاٴَتُسَلِّطُ النّٰارَعَلٰی وُجُوہٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ

میرے سردار ۔میرے خدامیرے مولا! کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چہرے تیرے سامنے سجدہ ریز رہے ہیں ان پر بھی توآگ کو مسلط کردے گا

سٰاجِدَةً،وَعَلٰی اٴَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحیدِکَ صٰادِقَةً،وَبِشُکْرِکَ مٰادِحَةً،وَعَلٰی قُلُوبٍ

اور جو زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رہی ہیں اور تیری حمد وثنا کرتی رہی ہیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی

اعْتَرَفَتْ بِإِلٰہیتِکَ مُحَقِّقَةً، وَعَلٰی ضَمٰائِرَحَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتّٰی صٰارَتْ خٰاشِعَةً،وَ

کا اقرار ہے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ہیں کہ تیرے سامنے خاضع وخاشع ہیں یا جواعضاء وجوارح  تیر ے مراکز

عَلٰی جَوٰارِحَ سَعَتْ إِلٰی اٴَوْطٰانِ تَعَبُّدِکَ طٰائِعَةً،وَاٴَشٰارَتْ بِاسْتِغْفٰارِکَ مُذْعِنَةً۔

عبادت کی طرف ھنسی خوشی سبقت کرنے والے ہیں اور تیرے استغفا ر کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ہیں ؛ان پر بھی تو عذاب کرے گا۔

مٰاھٰکَذَا الظَّنُّ بِکَ، وَلاٰاُخْبِرْنٰابِفَضْلِکَ عَنْکَ یٰاکَریمُ یٰارَبِّ،وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ

ہرگز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نہیں ہے اور نہ تیرے فضل وکرم کے بارے میں ایسی کو ئی اطلاع ملی ہے ۔

ضَعْفيعَنْ قَلیلٍ مِنْ بَلاٰءِ الدُّنْیٰا وَ عُقُوبٰاتِھٰا، وَمٰا یَجْرِي فیھٰامِنَ الْمَکٰارِہِ عَلٰی اٴَھْلِھٰا،

پروردگار اتو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نہیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں

عَلٰی اٴَنَّ ذٰلِکَ بَلاٰءٌ وَمَکْرُوہٌ قَلیلٌ مَکْثُہُ، یَسیرٌ بَقٰائُہُ، قَصِیرٌ مُدَّتُہُ، فَکَیْفَ احْتِمٰالِي لِبَلاٰءِ الْآخِرَةِ،

قابل تحمل ہیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ہے۔ تو میں ان آخرت کی بلاوٴں کو کس طرح برداشت کروں گا

وَجَلیلِ وُقُوعِ الْمَکٰارِہِ فیھٰا،وَ ھوبَلاٰءٌ تَطُولُ مُدَّتُہُ،وَیَدُومُ مَقٰامَہُ،وَلاٰیُخَفَّفُ عَنْ

جن کی سختیاں عظیم،جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ہے۔جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اس لئے کہ یہ بلائیں

اٴَھْلِہِ، لِاٴَنَّہُ لاٰیَکُونُ إِلاّٰ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقٰامِکَ وَسَخَطِکَ،وَھٰذٰا مٰالاٰتَقُومُ لَہُ السَّمٰاوٰاتُ

تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کی تاب زمین وآسمان نہیں لاسکتے ،تو میں ایک بندہٴ ضعیف و ذلیل

وَالْاَرْضُ، یا سَیِّدِي،فَکَیْفَ لِي وَاٴَنٰاعَبْدُکَ الضَّعیفُ الذَّلیلُ الْحَقیرُ الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ۔

وحقیر ومسکین وبے چارہ کیا حیثیت رکھتا ہوں؟!

یٰاإِلٰھي وَرَبّي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ،لِاٴَيِّ الْاُمُورِإِلَیْکَ اٴَشْکُو،وَلِمٰامِنْھٰااٴَضِجُّ

خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔میرے مولا! میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور

وَاٴَبْکي،لِاٴَلیمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِہِ،اٴَمْ لِطُولِ الْبَلاٰءِ وَ مُدَّتِہِ،فَلَئِنْ صَیَّرْتَني لِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ

گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تو نے

اٴَعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَیْني وَ بَیْنَ اٴَہْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَیْنِي وَبَیْنَ اٴَحِبّٰائِکَ

ان سزاوٴں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اہل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احباء اور

وَاٴَوْلِیٰائِکَ،فَھَبْنِي یٰاإِلٰھي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ وَرَبِّي،صَبَرْتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکَیْفَ

ولیاء کے درمیان جدائی ڈال دی ۔تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں

اٴَصْبِرُعَلٰی فِرٰاقِکَ،وَھَبْنِي صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نٰارِکَ فَکَیْفَ اٴَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِإِلٰی

تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نہیںکر سکتا۔اگر آتش جہنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو

کَرٰامَتِکَ،اٴَمْ کَیْفَ اٴَسْکُنُ فِی النّٰارِ وَرَجٰائِي عَفْوُکَ۔

برداشت نہیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکہوں اور پھر میں آتش جہنم میں جلادیا جاوٴں ۔

فَبِعِزَّتِکَ یٰا سَیِّدي وَمَوْلٰايَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَنينٰاطِقاً،لَاٴَضِجَّنَّ إِلَیْکَ بَیْنَ

 تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جہنم کے درمیان بھی

اٴَھْلِھٰا ضَجیجَ الْآمِلینَ،وَلَاٴَصْرُخَنَّ إِلَیْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخینَ،وَلَاٴَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکٰاءَ

امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ”عزیز گم کردہ “کی طرح تیری دوری

الْفٰاقِدینَ،وَلَاُنٰادِیَنَّکَ اٴَیْنَ کُنْتَ یٰاوَلِيَّ الْمُوْٴمِنینَ،یٰاغٰایَةَ آمٰالِ الْعٰارِفینَ،یٰا غِیٰاثَ

پر آہ وبکا کروں گا اور تو جھاں بھی ہوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس۔

الْمُسْتَغیثینَ،یٰاحَبیبَ قُلُوبِ الصّٰادِقینَ،وَیٰا إِلٰہَ الْعٰالَمینَ۔

صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ہے۔

اٴَفَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ یٰاإِلٰھي وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فیھٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فیھٰا

اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہٴ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم میں

بِمُخٰالَفَتِہِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِھٰا بِمَعْصِیَتِہِ ،وَحُبِسَ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِھٰا بِجُرْمِہِ وَجَریرَتِہِ وَہو یَضِجُّ

گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے

إِلَیْکَ ضَجیجَ مُوٴَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَیُنٰادیکَ بِلِسٰانِ اٴَھْلِ تَوْحیدِکَ،وَ یَتَوَسَّلُ

اور پھر یہ دیکہے کہ وہ امید وار رحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز

إِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ۔

نہیں سنتا ہے۔

یٰامَوْلاٰيَ،فَکَیْفَ یَبْقٰی فِي الْعَذٰابِ وَہویَرْجُوْمٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ،اٴَمْ کَیْفَ تُوْٴلِمُہُ

خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رہے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ

النّٰارُوَہویَاٴْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،اٴَمْ کَیْفَ یُحْرِقُہُ لَہیبُھٰاوَاٴَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہُ وَتَرٰی

کرنے والا کس طرح جہنم کے الم و رنج کا شکار ہوگا۔ جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تو اس کی آواز کو سن رہا ہو

مَکٰانَہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْہِ زَفیرُھٰاوَاٴَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِھٰا

ور اس کی منزل کو دیکھ رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رہا ہوگا۔

 وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ،اٴَمْ کَیْفَ تَزْجُرُہُ زَبٰانِیَتُھٰاوَہو یُنٰادیکَ یٰارَبَّہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَرْجُوفَضْلَکَ

وہ جہنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے

فيعِتْقِہِ مِنْھٰافَتَتْرُکُہُ فیھٰا،ہیھَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ

جبکہ وہ تجھے آواز دے رہا ہوگا اور تو اسے جہنم میں کس طرح چہوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوگا ،ہرگز تیرے بارے

فَضْلِکَ،وَلامُشْبِہٌ لِمٰاعٰامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاٴِحْسٰانِکَ۔

میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نہیں ہے ۔ تو نے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاوٴ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔

فَبِا لْیَقینِ اٴَقْطَعُ لَوْلاٰمٰاحَکَمْتَ بِہِ مِنْ تَعْذیبِ جٰاحِدیکَ،وَقَضَیْتَ بِہِ مِنْ إِخْلاٰدِ

میں تو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تو نے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کو ہمیشہ جہنم

مُعٰانِدیکَ لَجَعَلْتَ النّٰارَکُلَّھٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِاٴَحَدٍ فیھٰا مَقَرّاً وَلاٰ مُقٰاماً، لٰکِنَّکَ

میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔

تَقَدَّسَتْ اٴَسْمٰاوٴُکَ اٴَقْسَمْتَ اٴَنْ تَمْلَاٴَھٰا مِنَ الْکٰافِرینَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ اٴَجْمَعینَ،وَ اٴَنْ

لیکن تو نے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ہے کہ جہنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا  اور معاندین کو اس میں

تُخَلِّدَ فیھٰاالْمُعٰانِدینَ،وَاٴَنْتَ جَلَّ ثَنٰاوٴُکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ بِالْإِنْعٰامِ مُتَکَرِّماً،اٴَفَمَنْ

ہمیشہ ہمیشہ رکہے گا۔اور تونے ابتداہی سے یہ کہہ دیا ہے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ”مومن

کٰانَ مُوٴْمِناًکَمَنْ کٰانَ فٰاسِقاً لاٰیَسْتَوُوْنَ۔

اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے“۔

إِلٰھي وَسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي قَدَّرْتَھٰا، وَ بِالْقَضِیَّةِ الَّتي

تو خدایا ۔مولایا۔ میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت اور ہر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر

حَتَمْتَھٰا وَ حَکَمْتَھٰا، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْہِ اٴَجْرَیْتَھٰا،اٴَنْ تَھَبَ لِي فِي ھٰذِہِ اللَّیْلَةِ وَفي ھٰذِہِ السّٰاعَةِ

تجھ سے سوال کرتاہوں کہ مجھے اِسی رات میں اور اِسی وقت معاف کردے ۔میرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری

کُلَّ جُرْمٍ اٴَجْرَمْتُہُ،وَکُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُہُ،وَکُلَّ قَبیحٍ اٴَسْرَرْتُہُ،وَکُلَّ جَھَلٍ عَمِلْتُہُ،کَتَمْتُہُ

ظاہری اور باطنی برائیاں اور ساری جھالتیں جن پر میں نے خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان ،چھپا کر یا ظاہر کر کے عمل کیا ہے اور میری

اٴَوْاٴَعْلَنْتُہُ،اٴَخْفَیْتُہُ اٴَوْ اٴَظْہرتُہُ،وَکُلَّ سَیِّئَةٍ اٴَمَرْتَ بِإِثْبٰاتِھاَ الْکِرٰامَ الْکٰاتِبینَ،اَلَّذینَ وَکَّلْتَھُمْ

تمام خرابیاں جنہیں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ہے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ہے اور میرے

بِحِفْظِ مٰایَکُونُ مِنِّي،وَجَعَلْتَھُمْ شُہوداًعَلَيَّمَعَ جَوٰارِحِي،وَکُنْتَ اٴَنْتَ الرَّقیبَ عَلَيَّ

اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کررہا ہے اور جوان سے مخفی

مِنْ وَرٰائِھِمْ، وَالشّٰاھِدَ لِمٰاخَفِيَ عَنْھُمْ، وَبِرَحْمَتِکَ اٴَخْفَیْتَہُ، وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَہُ،وَاٴَنْ تُوَفِّرَ حَظِّي

رہ جائے اس کا گواہ ہے سب کو معاف فرمادے۔یہ تو تیری رحمت ہے کہ تونے انہیں چھپا دیا ہے اور اپنے فضل وکرم سے ان عیوب پر پر

مِنْ کُلِّ خَیْرٍاٴَنْزَلْتَہُ ،اٴَوْإِحْسٰانٍ فَضَّلْتَہُ،اٴَوْ بِرٍّ نَشَرْتَہُ،اٴَوْرِزْقٍ بَسَطْتَہُ،اٴَوْذَنْبٍ

دہ ڈال دیا ہے۔میرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے ہر خیر و احسان اور نشر ہونے والی ہرنیکی ۔ہر وسیع رزق۔

تَغْفِرُہُ،اٴَوْخَطَاءٍ تَسْتُرُہُ۔

ہر بخشے ہوئے گناہ۔عیوب کی ہر پردہ پوشی میں سے میرا وافر حصہ قرار دے۔

یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ، یٰاإِلٰھي وَسَیِّدِي وَمَوْلٰايَ وَمٰالَکَ رِقّي، یٰامَنْ بِیَدِہِ

اے میرے رب ۔اے میرے رب۔اے میرے رب۔اے میرے مولا اور آقا! اے میری بندگی کے مالک۔اے

نٰاصِیَتِي،یٰاعَلیماً بِضُرِّي وَمَسْکَنَتي،یٰاخَبیراً بِفَقْرِي وَ فٰاقَتِي۔

میرے مقدر کے صاحب اختیار۔ اے میری پریشانی اور بے نوائی کے جاننے والے ۔اے میرے فقر و فاقہ کی اطلاع رکھنے والے!

 یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ،اٴَسْاٴَلُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ،وَاٴَعْظَمِ صِفٰاتِکَ

اے میرے پروردگار ۔اے میرے رب۔اے میرے رب! تجھے تیری قدوسیت ۔تیرے حق اور تیرے عظیم ترین اسماء

وَاٴَسْمٰائِکَ،اٴَنْ تَجْعَلَ اٴَوْقٰاتِي مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّھٰارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً،وَبِخِدْمَتِکَ

و صفات کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ دن اور رات میں جملہ اوقات اپنی یاد سے معمور کردے۔ اپنی خدمت کی مسلسل توفیق عطا

مَوْصُولَةً،وَاٴَعْمٰاليعِنْدَکَ مَقْبُولَةً،حَتّٰی تَکُونَ اٴَعْمٰاليوَاٴَوْرٰادِي کُلُّھٰاوِرْداً

فرما۔میرے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول قرار دے تاکہ میرے جملہ اعمال اور جملہ اوراد (یعنی ورد کی جمع) سب تیرے لئے

وَاحِداً،وَحٰالِي في خِدْمَتِکَ سَرْمَداً۔

ہوں۔ اور میرے حالات ہمیشہ تیری خدمت کے لئے وقف رہیں۔

یٰاسَیِّدِي یَامَنْ عَلَیْہِ مُعَوَّلِي، یٰا مَنْ إِلَیْہِ شَکَوْتُ اٴَحْوٰالي، یٰارَبِّ یٰارَبِّ

میرے مولا۔میرے مالک! جس پر میرا اعتماد ہے اور جس سے میں اپنے حالات کی فریاد کرتا ہوں۔

یٰارَبِّ، قَوِّعَلٰی خِدْمَتِکَ جَوٰارِحِي، وَاشْدُدْ عَلَی الْعَزیمَةِ جَوٰانِحِي،وَھَبْ لِيَ الْجِدَّ في

۔اے رب۔ اے رب۔ اے رب! اپنی خدمت کے لئے میرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے میرے ارادہٴ دل کو

خَشْیَتِکَ،وَالدَّوٰامَ فِي الْإِتِّصٰالِ بِخِدْمَتِکَ،حَتّٰی اٴَسْرَحَ إِلَیْکَ فيمَیٰادینِ السّٰابِقینَ،وَ

مستحکم بنادے۔اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے

اٴُسْرِعَ إِلَیْکَ فِي الْبٰارِزینَ،وَاٴَشْتٰاقَ إِلٰی قُرْبِکَ فِي الْمُشْتٰاقینَ،وَاٴَدْنُوَ مِنْکَ

بڑہوں اور تیز رفتار افراد کے ساتھ قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصین کی طرح تیری

دُنُوَّالْمُخْلِصینَ،وَاٴَخٰافَکَ مَخٰافَةَ الْمُو قِنینَ،وَ اٴَجْتَمِعَ فِي جِوٰارِکَ مَعَ الْمُوٴْمِنینَ۔

قربت اختیار کروں۔صاحبان یقین کی طرح تیرا خوف پیدا کروں اور مومنین کے ساتھ تیرے جوار میں حاضری دوں۔

اٴَللّٰھُمَّ وَمَنْ اٴَرٰادَنِي بِسُوءٍ فَاٴَرِدْہُ وَمَنْ کٰادَنِي فَکِدْہُ، وَاجْعَلْنِي مِنْ اٴَحْسَنِ عَبیدِکَ

خدایا جو بھی کوئی میرے لئے برائی چاہے یا میرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویساہی بدلہ دینا اور مجھے بہترین حصہ پانے

نَصِیباً عِنْدَکَ، وَاٴَقْرَبِھِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ، وَاٴَخَصِّھِمْ زُلْفَةً لَدَیْکَ، فَإِنَّہُ لاٰیُنٰالُ ذٰلِکَ

والا، قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تیرے جود وکرم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

إِلاّٰبِفَضْلِکَ، وَجُدْ لِي بِجُودِکَ، وَاعْطِفْ عَلَيَّ بِمَجْدِکَ، وَاحْفَظْنِي بِرَحْمَتِکَ، وَاجْعَلْ

خدایا میرے اوپرکرم فرما۔اپنی بزرگی سے، رحمت نازل فرما اپنی رحمت سے میرا تحفظ فرمااورمیری زبا ن کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔

لِسٰانِي بِذِکْرِکَ لَھِجاً، وَقَلْبِي بِحُبِّکَ مُتَیَّماً، وَمُنَّ عَلَيَّ بِحُسْنِ إِجٰابَتِکَ، وَاٴَقِلْنِي

میرے دل کو اپنی محبت کا عاشق بنادے اور مجھ پر بہترین قبولیت کے ساتھ احسان فرما۔

عَثْرَتِي، وَاغْفِرْ زَلَّتِي، فَإِنَّکَ قَضَیْتَ عَلٰی عِبٰادِکَ بِعِبٰادَتِکَ،

میری لغزشوں سے در گذرفرما۔تو نے اپنے بندوں پر عبادت فرض کی ہے ۔ ہے

وَاٴَمَرْتَھُمْ بِدُعٰائِکَ، وَضَمِنْتَ لَھُمُ الْإِجٰابَةَ۔

انہیں دعا کا حکم دیا اوران سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔

فَإِلَیْکَ یٰارَبِّ نَصَبْتُ وَجْھِي، وَإِلَیْکَ یٰارَبِّ مَدَدْتُ یَدِي،

اب میں تیری طرف رخ کئے ہوئے ہوں اور تیری بارگاہ میں ھاتھ پہیلائے ہوں ۔تیری عزت کا واسطہ میری

فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِي دُعٰائِي، وَبَلِّغْنِي مُنٰايَ،وَلاٰتَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجٰائِي،

دعا قبول فرما، مجھے میری مراد تک پھنچادے۔ اپنے فضل وکرم سے میری امیدوں کو منقطع نہ فرمانا۔ مجھے تمام

وَاکْفِنِي شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ اٴَعْدٰائِي۔

دشمنان جن وانس کے شر سے محفوظ فرمانا۔

یٰا سَریعَ الرِّضٰا، إِغْفِرْ لِمَنْ لاٰیَمْلِکُ إِلَّا الدُّعٰاءَ، فَإِنَّکَ فَعّٰالٌ لِمٰا تَشٰاءُ، یٰا مَنِ

اے بہت جلد راضی ہوجانے والے! اس بندہ کو بخش دے جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نہیں ہے کہ توہی ہر شے کا

اسْمُہُ دَوٰاءٌ، وَذِکْرُہُ شِفٰاءٌ، وَطٰاعَتُہُ غِنیً، إِرْحَمْ مَنْ رَاٴْسُ مٰالِہِ الرَّجٰاءُ، وَسِلاٰحُہ الْبُکٰاءُ،

صاحب اختیار ہے۔اے وہ پروردگار جس کانام دوا، جس کی یاد شفا اور جس کی اطاعت مالداری ہے، اس بندہ پر رحم فرماجس کا سرمایہ فقط

یٰاسٰابِغَ النِّعَمِ، یٰادٰافِعَ النِّقَمِ، یٰا نُورَ الْمُسْتَوْحِشینَ فِي الظُّلَمِ، یٰا عٰالِماً لاٰ یُعَلَّمُ، صَلِّ عَلٰی

امیداور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے، اے کامل نعمتیں دینے والے ۔ اے مصیبتوں کو رفع کرنے والے اور تاریکیوں میں وحشت زدوں کو

مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ، وَافْعَلْ بِي مٰااٴَنْتَ اٴَھْلُہُ، وصَلَّی اللّٰہ عَلٰی رَسُولِہِ وَالْاٴَئِمَّةِ الْمَیٰامینَ مِنْ

روشنی دینے والے ۔محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور میرے ساتھ وہ برتاوٴ کر جس کا تواہل ہے۔اپنے رسول اور ان کی مبارک آل

آلِہِ، وَسَلَّمَ تَسْلیماً کَثیراً۔

آئمہ معصومین(ع)“پر صلوات وسلام فراوان نازل فرما۔  [1]

[1] http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=115308

Advertisements