Tags

​ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں 

تہمتیں ، بدنامیاں ، رسوائیاں 
زندگی شاید اسی کا نام ہے 

دوریاں ، مجبوریاں ، تنہائیاں 
کیا زمانے میں یوں ہے کٹتی ہے رات 

کروٹیں ، بے تابیاں ، انگڑائیاں 
کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار 

آہٹیں ، گھبراہٹیں ، پرچھائیاں 
ایک رند مست کی ٹھوکر میں ہیں 

شاہیاں ، سلطانیاں ، دارائیاں 
رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور 

حکمتیں ، آگاہیاں ، دانائیاں 
ایک پیکر میں سمٹ کر رہ گئیں 

خوبیاں ، زیبائیاں ، رعنائیاں 
دیدہ و دانستہ ان کے سامنے 

لغزشیں ، ناکامیاں ، پسپائیاں 
ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں 

الجھنیں، فکریں ، قیاس آرائیاں 
چند لفظوں کے سوا کچھ بھی نہیں 

نیکیاں ، قربانیاں ، سچائیاں 
کیف ، پیدا کر سمندر کی طرح 

وسعتیں ، خاموشیاں ، گہرائیاں

Advertisements