Tags

​بسمہ تعالٰی 

ایک چیز جو میری سمجھ میں اب تک نہیں آتی تھی آج اچانک میرے ذہن میں خطور کر گئی ۔ وہ یہ کہ ہم مسجد میں جانے کی اہمیت کو بتاتے ہیں اور تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اس کی بہت اہمیت ہے مگر سوال اب سے آگے کا ہے کہ جب ہم مسجد میں داخل ہو گئے اب کیا۔ کیا صرف نماز پڑھ لینا مسجد میں جانے کا مقصد تھا یا پھر خطبہ میں وہی بات دوبارہ سننا کہ مسجد میں زیادہ سے زیادہ آنا چاہئے اور نماز اور قران پڑھنا چاہئے؟ یہ تو تحصیل حاصل ہو گئی۔ جو آ رہا ہے اس کو پھر دوبارہ بلا رہے ہیں اس کا مطلب تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ تو پھر اب جو لوگ مسجد میں آ رہے ہیں ان کے لئے وہاں کیا ہے کہ وہ آئیں کیونکہ آنے کے بعد ان کو پھر وہی سننا ہے کہ پھر آجائیے۔

 شاید یہیں پر ہماری مشکل ہے کہ ہم کو مسجد میں آنے کا مقصد ہی نہیں معلوم بلکہ وہ علماء کرام جو مسجد میں خدا کی خدمت کے لئے جاتے ہیں اکثر ان کو بھی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ مسجد میں لوگوں کو بلا کےکریں تو کیا؟

 اس کی مثال یوں دی جائے تو شاید فہم سے زیادہ قریب ہو کہ علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے مگر خود علم حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا جان لینا ہے بس یا اس سے کچھ آگے ہے؟ اسی طرح سے مسجد میں آنا کیا کافی ہے یا اس سے آگے بڑھ کے بھی ہے کچھ؟

ہمارے پاس اس طرح کے پروگراموں کا فقدان ہے کہ جسمیں ہم کسی چیز کی اہمیت کے بتانے سے آگے بڑھیں۔ بس مقصد مسجد مین جانا ہے۔ حالانکہ مسجد انسان کے لئے ایک روحانی تربیت کی جگہ ہونی چاہیے نہ یہ کہ ہم اپنی دنیا کو مسجد میں لے جائیں اور وہ کام جو باہر کرتے تھے وہی دین کے نام پر مسجد میں کریں جیسے غیبت، پرخوری، اسراف، نخوت برداری، جھوٹ، گندی سیاست وغیرہ۔ 

ہم کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ مسجد میں جانا یا اسی طرح دوسری عبادتوں کا مقصد کیا ہے، نہیں تو پھر اسی طرح سے مادیت کو اور عروج پر جاتے دیکھنے کی عادت ڈالنا پڑیگی کیونکہ ہم کو معلوم ہی نہیں کہ ان عبادتوں کا مقصد کیا ہے؟

تحریر مرزا نورالحسن  انگلینڈ 

Advertisements