Tags

✅ایک برادر نے مراجع عظام  اور مقلدین حضرات پر سوالات و اشکالات کئے تهے ان کے جوابات ہم قارئین محترم کی نظر کر رہے ہیں اب انصاف قارئین پر چهوڑتے ہیں
پوسٹ کافی لمبی ہے قارئین آخر تک پڑهنے کی زحمت فرمائیں تاکہ نتیجہ حاصل ہو…

♦سوالات از سید حسنین حیدر کاظمی

🔶جوابات از محمد عرفان

1 – رسول اللہ ﷺ کے دنیاوی خلفاء کو کیوں نہیں مانتے ؟؟ جبکہ امام کا نائب ایک غیر معصُوم کو مان کر ” ولی الامر المسلمین بھی مانتے ھو ؟؟ یہ کیا تضاد ھے ؟ رسول کا نائب غیر معصُوم نہیں ھوسکتا تو امام کا نائب غیر معصُوم کیسے ھوسکتا ھے ؟؟ ”
جواب:نیابت کی دو قسمیں ہیں
نیابت عامہ
نیابت خاصہ
ہم مجتہدین کو نائب امام نیابت عامہ کی وجہ سے سمجهتے ہیں
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا نواب اربعہ معصوم تهے ؟

2 – جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو ” اپنے جیسا ” کہتے ھیں انکو بُرا کیوں سمجھتے اور کہتے ھو ؟ جبکہ تمہارے مجتہد بھی خود کو ” آئیت اللہ ، حجّت الاسلام ، ولی الامر ، اھل الذکر ، انبیاء کے وارث کہتے ھیں ؟؟ یعنی یہ کہتے ھیں کہ ” ھم ان جیسے ھیں ؟ ” تو پھر انکو اچھا اور انکو برا کیوں ؟؟ یہ کیا تضاد ھے ؟؟

جواب:نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ
ہم نے ایسا کب کہا ہے اپنی طرف مراجع پر تہمت نہ لگاو محترم
ہم فقط یہ کہتے ہیں کہ چونکہ مراجع قرآن و احادیث صحیحہ سے احکام کو استنباط کرتے ہیں لہذا ان کی تقلید و اتباع آئمہ علیهم السلام کی اتباع ہے اوراسکی تائید خود امام معصوم نے فرمائی ہے

قال المهدی عج
الراد علیهم کالراد علینا
جنہوں نے مراجع کو ٹهکرایا گویا اس نے ہمیں رد کیا
( اصول کافی ج 1 ص 67)

3 – اغیّار کہتے ھیں ” سب صحابی ستارے ھیں کسی کی بھی پیروی کرو فلاح پاؤ گے ” تو نہیں مانتے لیکن اپنے مجتہدوں کے اختلاف کے باوجود انکے فتوؤں پر یہ سوچ کر عمل کرتے ھو کہ ” کسی بھی مجتہد کی پیروی کرو گے تو فلاح پاؤ گے ؟؟ کیا فرق ھے ان میں اور تم میں ؟؟

جواب:اغیار کی من گھڑت روایت سے استدلال کر کے آپ نے اپنی کم علمی کا اظہار کیا ہے
ہم یہ کہتے ہیں کہ تقلید صرف مجتہد جامع الشرائط کی ہوتی ہے ہر ایرے غیرے کی نہیں
اور چونکہ مراجع کرام  کی تائید خود معصوم نے فرمائی ہے اس لئے اس کی اتباع کرنا راہ نجات ہے کیونکہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا جو کچھ بھی کہتا ہے حکم خدا و رسول کی روشنی میں ہوتا ہے

4 – وہ کہتے ھیں ” رسول اللہ ﷺ نہیں رھے اس لیئے اب ھماری ذمّہ داری ھے تبلیغ کرنا اور امت کو لیکر چلنا ” تمہارے مجتہد کہتے ھیں ” امام غیبت میں ھیں اس لیئے ھماری ذمّہ داری ھے امّت کو لیکر چلنا ؟؟ ” فرق کیا ھے ؟؟

جواب:اغیار کی فرسودہ باتوں سے استدلال کر کے آپ  قیاس کر رہے ہیں جو کہ علماء امامیہ کے نزدیک بالاجماع باطل ہے
اور آپکی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مجتہد مذکورہ بالا الفاظ نہیں کہتے بلکہ یہ ذمہ داری خود آئمہ معصومین نے علماء کے لئے معین کی ہے
قال الامام العسکری
اما من کان من لفقهاء صائنا لنفسہ حافظا لدینہ مخالفا لهواہ مطیعا لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ
فقهاء میں سے جو شخص بهی اپنے نفس کو نہ بیچتا ہو ، دین کی حفاظت کرتا ہو خواہشات نفسانی کی پیروی کرتا ہو اپنے پروردگار کا مطیع و فرمانبردار ہو پس عوام کے لئے لازم ہے کہ اس کی تقلید کریں
( وسائل الشیعہ باب نمبر 10 کتاب القضا

5 – جب نماز پڑھنا اور اوّل وقت میں پڑھنا اتنا ہی ضروری ھے اور ثواب بھی بہت زیادہ ھے تو دن میں پانچ اذانیں دے کر پانچ نمازیں کیوں نہیں پڑھتے ؟؟

جواب:آپ کا یہ اعتراض براہ راست رسول خدا کی ذات والا صفات پر ہے کہ جنہوں نے اپنی امت مرحومہ کو مشقت سے بچانے کے لئے دو وقت کی نمازوں کو ایک وقت میں جمع کیا (صحیح بخاری ج 1 باب تاخیر الظهر الی العصر )
تو جب رسول اللہ ص نے دو نمازوں کو جمع کیا بغیر کسی خوف و بارش کہ تو آپ کون ہوتے ہیں اس سہولت کو غصب کرنے والے….

6 – اذان و اقامت میں بقول تمہارے ” علیُُ ولی اللہ ” پڑھنا صرف ” مُستحب ” ھے تو پھر اسکو اپنی اذان سے ھٹا کر باقی مسلمانوں سے کیوں نہیں مل جاتے ؟؟ آخر اتحاد بین المسلمین کیلیئے اتنا بھی نہیں کرسکتے ؟؟

جواب:پہلی بات تو یہ کہ اتحاد کا جو مفہوم جناب نے سمجها ہے وہ غلط ہے
دوسری بات کہ اتحاد یہ نہیں ہے کہ کسی کے ساتھ اتحاد کی خاطر اپنے عقیدہ کو تبدیل کر دو بلکہ اتحاد یہ  ہے کہ مشترکات پر متحد ہو جاو اور اختلافی مسائل کو ہوا نہ دو یعنی اپنا عقیدہ چهوڑو نہیں اور کسی کے عقیدہ کو چهیڑو نہ.
اور اس وقت اتحاد کا عملی نمونہ ملک عزیز پاکستان میں قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کی سربراہی میں ملاحظہ کر سکتے ہیں.

7 – تقلید بقول تمہارے واجب ھے تو پھر مردے کو دفن کرتے وقت جس بیچارے نے زندگی بھر جس مجتہد کی توضیح المسائل پر عمل کیا اسکای یاد دھانی ” تلقین میں کیوں نہیں کرواتے کہ آخر کو وہ ذمّہ دار ھے اسکے اعمال کا جو مرنے والے نے اسکے فتوؤں کے مطابق سرانجام دیئے ؟؟ ”

جواب:اس سوال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جناب تقلید کے مفہوم اور اسلام کی الف سے بهی واقف نہیں ہے
مردے کو تلقین اصول دین کی کروائی جاتی ہے جبکہ ہر مجتہد نے اپنے رسالہ عملیہ میں لکها ہے کہ اصول دین میں تقلید حرام ہے تقلید صرف فروع دین میں ہوتی ہے (توضیح المسئائل سیستانی احکام تقلید مسئلہ 1)

اور دوسری بات کہ مجتہد صرف اپنے بتائے ہوئے مسئلہ کا ذمہ دار ہے جو اس نے قرآن و سنت کی روشنی میں اخذ کیا ہے و بهی اس صورت میں جب کوئی نماز پڑهے لیکن جو بد بخت نماز ہی نہ پڑهے اس کا مجتہد ذمہ دار نہیں ہے. ..

8 – کیا تمہارا مجتہد تم کو جانتا اور پہچانتا ھے کیونکہ جب محشر میں اسکی ضرورت پڑے گی تو ” اگر اس نے قسم کھا لی کہ تمہیں اس نے زندگی میں کبھی دیکھا ھی نہیں تو کیا کرو گے ؟؟ ”

جواب:یہ سوال بهی پہلے سوالوں کی طرح عبث اور فضول سوال ہے
جب آئمہ کرام نے مراجع کی خود تائید و وثاقت کی سند دے دی ہے تو ایسے سوال کا تک ہی نہیں بنتا
مراجع نہیں پہچانتے تو کیا ہوا امام علی سے لے کر بارہویں لعل ولایت تک کہ تمام هادی اپنے شیعوں کو پہنچانتے ہیں

9 – اپنے مجتہد سے کوئ پروانہ لکھوایا ھے کہ جس پر تحریر ھو کہ ۔۔
” میں فلاں مجتہد تصدیق کرتا ھوں کہ یہ شخص میرا مقلّد ھے اور جو یہ اعمال میرے فتوے کے مطابق کرے گا اسکا ذمّہ دار ھوں ؟؟ ” نہیں لکھوایا تو کیوں ؟؟ آخر زمانہ خراب ھے بھئ ۔۔ لکھ پڑھ اچھی چیز ھوتی ھے نا ؟

جواب:جسکی تائید امام معصوم فارجعو الی رواہ حدیثنا کے ذریعے فرما دیں ان سے ہمیں پروانہ لکهوانے کی ضرورت نہیں ہے

10 – تقلید واجب ھے تو بتاؤ قبر یا حشر میں کسی معصُوم علیہ السّلام نے بتایا کہ ” قبر یا حشر میں ایک سوال یہ بھی ھوگا کہ ” من مُجتہدوک ؟؟ ” تمہارا مجتہد کون ھے ؟؟

جواب:تقلید ایک عقلی مسئلہ ہے جو کم عقلوں کو کبهی سمجھ میں نہیں آئے گا
بهئی قبر یا حشر میں سوال کسی عمل کے انجام دینے یا نہ دینے کے بارے میں سوال کیا جائے گا مثلا قبر میں عقائد کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور حشر میں اعمال کے بارے میں کہ زکواہ ادا کی تهی یا نہیں نماز پڑهی تهی یا نہیں
مجتہد کا کام یہ بتانا ہے کہ نماز کیسے انجام دینی ہے وہ بهی قرآن و سنت صحیحہ کی روشنی میں و بس

11 – اپنے مجتہد سے کوئ ثبوت مانگا کہ وہ واقعی ” نائب امام ھے بھی یا نہیں ؟ ” اگر مانگا تو کیا ملا ثبوت ؟؟ اور اگر نہیں مانگا تو کیوں نہیں مانگا ؟؟

جواب:ہم نے پہلے سوال میں بیان کر دیا ہے کہ ہم مراجع کو بحکم امام نیابت عامہ کی رو سے مرجع شیعہ جہان سمجهتے ہیں تو جس کو امام کے کلام حق کی صداقت پر شک ہے وہ ثبوت مانگے ہمیں مانگنے کی ضرورت نہیں ہے.

12 – جب تم یہ کہتے ھو کہ تقلید واجب ھے اپنے سے ” اعلم ” کی کیونکہ اسکا علم زیادہ ھے تو پھر تمہارے چھوٹے مجتہد اس بڑے ” ولی الامر المسلمین ” کی تقلید کیوں نہیں کرتے ؟؟ یہ کیا بات ھوئ کہ اگر آپ خود علم حاصل کرسکتے ھیں تو آپ پر تقلید واجب نہیں ؟؟ جبکہ جو زیادہ علم والا ھے وہ ” ولی الامر المسلمین ” سب نے مان لیا ؟؟
یہ کیسا ” ولی الامر ” ھے کہ جسکی اطاعت باقی مولویوں پر واجب نہیں ھے ؟؟

جواب:انسان یا تو خود مجتہد ہو یا تمام مسائل کو جانتا ہو تو وہ احتیاط پر عمل کرے گا تیسری صورت میں لامحالہ طور تقلید ہی ہے
اور دوسری بات یہ کہ مجتہد کی دو اقسام ہوتی ہیں
1-مجتہد مطلق
2-مجتہد متجزی
مجتہد مطلق وہ ہوتا ہے جو پوری فقہ کے ہر شعبہ کا مکمل ماہر ہو .
جبکہ مجتہد متجزی چند ایک ابواب فقهی میں ماہر ہوتا ہے
مجتہد متجزی جن علوم میں مہارت نہیں رکهتا وہ مجتہد مطلق کی طرف رجوع کرے گا
رہی بات جامع الشرائط مجتہد کی کہ وہ کیوں ولی فقیہ کی اطاعت نہیں کرتا تو عرض خدمت ہے کہ
الحمد للہ اس وقت کے  تمام جامع الشرائط مراجع ولی فقیہ کے مطیع و تابع فرمان ہیں جسکے حوالے سے ہم نے چند ماہ پہلے مراجع کے اقوال جو ولی فقیہ کے حق میں تهے فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا تهے .

13 – قرآن میں آیۃ اولی الامر کی تفسیر اغیّار نے کرتے ھوۓ کہا ” جو صاحب حکومت ھو وہ اولی الامر ھوتا ھے ” ۔۔ تمہارے مجتہدوں میں سے جسکے پاس حکومت ھے وہ باقی سب کا ” ولی الامر المسلمین ” ھوگیا ؟؟ کیا فرق ھے تم میں اور ان میں ؟؟ وہ غلط اور تم صحیح کیسے ؟؟
جواب:آپ بار بار اغیار کی من گھڑت تفسیروں سے استدلال کر رہے ہیں ہمیں ان سے کیا لینا دینا چاہیے تو یہ تها کہ آپ قال الصادق و قال الباقر کہ کر استدلال کرتے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی ہے اغیار کے فرسودہ اور تفسیر بالرائے والی روایات سے استدلال کیا جا رہا ہے 
پهر بهی جواب لیتے جائیے
ان کے نزدیک ہر حاکم کی اطاعت واجب ہے چاہے وہ یزید ہو یا ابن زیاد  آل سعود ہوں یا نواز شریف جبکہ ہمارے ہاں اطاعت صرف حاکم عادل کی ہوتی ہے ظالم کی نہیں اس کی بهی آگے بہت سی شرائط ہیں
اپنی بات کی تصدیق کے لئے مولائے متقیان کا فرمان نقل کرتا ہوں
مولا فرماتے ہیں کہ جسکی سیاست الہی ہو اسکی اطاعت واجب ہے

14 – جو تقلیدی ھیں وہ اپنے بچے کی پیدائش کے وقت اپنے مجتہد کی گواھی کیوں نہیں دیتے اسکے کان میں ؟؟ آخر کو اس نے بڑا ھوکر مقلّد تو بننا ھی ھے نا ؟؟ اور جسکی تقلید تم نے کی ھے اسے سب سے پہتر سمجھ کر ھی کی ھوگی ؟؟
جواب:یہ سوال بالکل بچگانہ اور کم علمی پر مبنی ہے
بهئی گواہی یا خدا کی دی جاتی ہے یا نبی و امام کی ہم مجتہد کو معصوم امام تهوڑی مانتے ہیں کہ اس کی گواہی بهی دیں لاحول ولا قوۃ الا باللہ جہالت کی بهی حد ہوتی ہے
ہم مجتہد کو امام کی تائید کے بعد دین کے معاملے میں قابل وثوق جانتے ہیں اور وہ بهی مجتہد جامع الشرائط کو
ہر کس و نا کس کو نہیں.

وما علینا الا البلاغ

لمحہ فکریہ:تقلید ہر صورت میں کرنی پڑی گی اب یہ انسان پہ depend کرتا ہے کہ وہ تقلید عالم کی کرے یا جاہل کی
متقی و پرہیزگار کی کرے یا هوا نفسانی میں گرفتار شخص کی
عبد خدا کی کرے یا عبد شیطان کی…… افلا یتدبرون؟؟؟؟

♦آخر میں دعا ہے کہ خداوند متعال ہم سب کو حق جوئی کی توفیق عطا فرمائے اور خاتمہ بالایمان  بالخیر فرمائے…
محتاج دعا…

Advertisements