🌹زیارتنامه حضرت زینب کبری(سلام الله علیها)

🌹زیارتنامه حضرت زینب کبری(سلام الله علیها)

اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا بِنْتَ فاطِمَةَ وَخَدیجَةَ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا بِنْتَ اَمیرِ الْمُؤْمِنینَ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا اُخْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یابِنْتَ وَلِیِّ اللهِ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا اُخْتَ وَلِیِّ اللهِ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا عَمَّةَ وَلِیِّ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکاتُهُ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ عَرَّفَ اللهُ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْفِی الْجَنَّةِ،وَحَشَرَنا فی زُمْرَتِکُمْ،وَاَوْرَدَنا حَوْضَ نَبیِّکُمْ،وَسَقانا بِکَاْسِ جَدِّکُمْ مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ اَبی طالِب،صَلَواتُ اللهِ عَلَیْکُمْ،اَسْئَلُ اللهَ اَنْ یُرِیَنا فیکُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ،وَاَنْ یَجْمَعَنا وَاِیّاکُمْ فی زُمْرَةِ جَدِّکُمْمُحَمَّد صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ،وَاَنْ لا یَسْلُبَنا مَعْرِفَتَکُمْ، اِنَّهُ وَلِیٌّ قَدیرٌ،اَتَقَرَّبُ اِلَی اللهِ بِحُبِّکُمْ،وَالْبَرائَةِ مِن اَعْدائِکُمْ،وَالتَّسْلیمِ اِلَی اللهِ راضِیاًبِهِ غَیْرَ مُنْکِروَلا مُسْتَکْبِروَ عَلی یَقینِ ما اَتی بِهِ مُحَمَّدٌ،وَ بِهِ راض نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْهَکَ یا سَیِّدی،اَللّهُمَّ وَ رِضاکَ وَالدّارَ الآخِرَةَ،یا سَیِّدَتی یا زَیْنَبُ، اِشْفَعی لی فِی الْجَنَّةِ،فَاِنَّ لَکِ عِنْدَ اللهِ شَاْناً مِنَ الشَّاْنِ،اَللّهمَّ اِنّی اَسْئَلُکَ اَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَةِ،فَلاتَسْلُبْ مِنّی ما اَنَا فیهِ،وَ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ اِلاّ بِاللهِ الْعَلِیِّ الْعَظیمِ،اَللّهمَّ اسْتَجِبْ لَنا وَ تَقَبَّلْهُ بِکَرَمِکَ وَ عِزَّتِکَ،و َبِرَحْمَتِکَ وَ عافِیَتِکَ،وَ صَلَّی اللهُ عَلی مُحَمَّد وَآلِهِ اَجْمَعینَ،و سَلَّمَ تَسْلیماً یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ.

Usooli Aur Akhbari Kya Hai -اصولی و اخباری کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصولی و اخباری کیا ہے؟

مولانا جعفرعلی یعسوبی نجفی[1]، پیش کش  مع اضافات و بعض حوالہ جات : مولانا میرزا نورالحسن

 مقدمہ

سب سے پہلے تو ہم کو معلوم ہونا چاہئے ہے کہ آج کل شیعوں کے خلاف بہت بڑی سازش چل رہی ہے جس میں ، جہاں اور دوسرے کام کئے جا رہے ہیں ، وہاں یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ لوگ علماء سے دور ہو جائیں اور اپنی رائے پر عمل کریں جو کہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ ہر آدمی دین کے بارے میں سب کچھ نہیں جانتا اور اس وجہ سے اس کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی عالم کے پاس آنا ہی ہوگا۔ تو سب سے پہلے تو ہم کو اس چیز سے آگاہ رہنا چاہئے ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ علماء کے بیچ میں ایسا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر شیعیت میں دوفرقے بن جائیں (یا کہا جائے کہ شیعہ دو فرقے ہیں اخباری اور اصولی)۔

تو اخبار اور اصولی کیا ہے؟

کچھ علماء قدیم محدث ہوا کرتے تھے یعنی، اگر کوئی  آ کے ان سے مسئلہ پوچھتا تھا تو وہ اس سے متعلق حدیث بیان کر دیا کرتے تھے اور بس ۔ ان کو اصحاب الروایۃ وغیرہ بھی کہتے ہیں۔

لیکن کچھ علماء محدث ہونے کے ساتھ ساتھ مجتہد و  فقیہ بھی تھے جو کہ نہ صرف یہ کہ حدیث کو بیان کرتے تھے بلکہ اس کو  دوسرے اوزان پر بھی تولتے تھے، یعنی یہ بھی دیکھتے تھے کہ یہ حدیث کہاں سے آئی  ہے، کیسے آئی ہے، اس کا راوی کون ہے اور اس میں کس چیز کے بارے میں بحث کی گئی ہے، تاکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے مسائل کا استنباط کیا جا سکے یا ان کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔ یہ سلسلہ تقریباً گیارہویں ہجری تک چلتا رہا۔

اخباریت کی ہوا

محمد امین استرآبادی

محمدامین  استر آبادی (وفات گیارہویں ھجری)، یہ جب علماء کے گروہ میں شامل ہوئے تو انہوں نے اس کو بہت زیادہ ہوا دی اور اس کو خوب اچھالا اور اس کو ایک issue بنا کے پیش کیا۔ جس کی وجہ سے علماء کے بیچ میں دو گروہ بن گئے، کچھ نے محمد امین استر آبادی کی پشتپناہی کی اور کچھ نے اصولی علماء کا ساتھ دیا۔ (یعنی انہوں نے اس چیز کو بہت زیادہ قبیح جانا کہ علماء روایت سے ہٹ کے عقل اور اجماع کو بطور حجت کیوں تسلیم کرتے ہیں جو کہ صحیح نہیں تھا ان کی نظر میں)۔

وہ علماء جو اخباریت کے پیروکار تھے، ان میں سید نعمۃ اللہ جزایری، فیض کاشانی، علامہ مجلسیؒ ، حر عاملہ[2]، یوسف بحرانی[3] وغیرہ ہیں۔

اس کے مقابلہ میں جو اصولی علماء ہیں، جن کا سلسلہ اماموں کے دور سے جا کے ملتا ہے ، ان میں ابن عقیل ، ابن جنید، شیخ مفید، سید مرتضیٰ، ابن ادریس حلی، محقق حلی، علامہ حلی، محقق کرکی، شہید اول، شہید ثانی ، صاحب معالم، مقدس اردبیلی،  محمد باقر مجلسی ؒ، شیخ وحید بہبہانیؒ[4]وغیرہ۔ شیخ وحید بہبہانی نے  اپنے دلائل اور کاوشوں سے اخباریت کا تقریباً خاتمہ کر دیا، اور صاحب حدائق سے کربلا میں بہت بحثیں کیں۔ اس کے بعد صاحب ریاض، صاحب جواہر، صاحب کفایہ شیخ انصاریؒ تو ان کے مقابلہ میں کوئی بچا ہی نہیں تھا۔

اختلافی مسائل بین اصولی و اخباری

1۔ اخباری علماء عقل کی حجیت کے قائل نہیں تھے۔ اسی طرح سے اجماع کی حجیت کے بھی منکر تھے۔ لیکن اس کے مقابلہ پر اصولی علماء کا کہنا ہے کہ عقل اور اجماع حجت ہیں۔ اگر عقل کسی چیز کو یقینی طور پر درک کرلے تو وہ حجت ہے، مثلاً پیغمبرﷺ کی نبوت اور خدا کی وحدانیت عقل کی بنیاد پر ثابت ہوتی ہے۔

مثلاً ، اگر روایات میں دیکھا جائے تو سحری کھانا زیادہ سے زیادہ مستحب نظر آئے گا، اس سے زیادہ نہیں، لیکن عقل یہ کہتی ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص ہے جو کہ اگر سحری نہ کرے تو روزہ نہیں رکھ سکتا یا اس کو اتنی کمزوری محسوس ہوگی کہ اس کو روزہ توڑنا پڑیگا، یا وہ بیمار پڑ جائیگا، تو اب عقل یہاں پر کہتی ہے کہ  اگر روزہ رکھنا ہے تو سحری کرنا ضروری ہے، اس وجہ سے ایسے شخص کے لئے سحری کرنا واجب ہو جائیگا، کیونکہ عقل کہتی ہے کہ جس چیز پر واجب کی ادائیگی موقوف ہو جائے وہ اسی طرح سے واجب ہو جاتی ہے جیسے وہ واجب خود۔

دوسری مثال: کیا پاسپورٹ کا بنوانا واجب ہے؟  نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں کہیں کوئی ایسی حدیث نہیں دکھا سکتے جس میں ایسا کچھ ہو، مگر اگر کسی کو حج کرنے جانا ہو اور اس پر حج کرنا واجب ہو جائے تو اب آپ کیا کہیں گے۔ اگر آپ اخباری ہیں تو کہیں گے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ حدیث میں نہیں ہے۔ مگر اگر آپ اصول عالم کے پاس آئیں گے تو وہ کہیگا کہ یہ واجب ہے کیونکہ آپ کے حج کے واجب کی ادائگی پاسپورٹ بنوانے پر موقوف ہے۔

2۔ دوسرا بڑا اختلاف یہ تھا کہ ، اخباری کہتے ہیں کہ قرآن کا ظاہر حجت نہیں ہے اس وقت تک کہ جب تک اس کی تائید میں کوئی حدیث یا روایت نہ ہو۔ یعنی اگر کسی چیز کو آپ کو ظاہر میں قرآن میں دیکھیں تو اس کے ظاہری معنی کے مفہوم کو آپ بطور حجت قبول نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کی تائید میں کوئی روایت نہ ہو۔

اصولی علماء کا کہنا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ قرآن کا ظاہر بھی حجت ہے کیونکہ قرآن کتاب ہدایت ہے، ہمارے سمجھنے اور ہمارے عمل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے۔ تو وہ آیتیں جن کے معنی ظاہر میں سمجھ میں آ جاتے ہیں، یعنی محکم  آیتیں جن کے معنی عام طور سے واضح ہوتے ہیں وہ حجت ہیں، مگر متشابہ آیتوں کے معنی کو سمجھنے کے لئے دوسری آیتوں اور حدیثوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کا نتیجہ ظاہراً یہ نکلتا ہے کہ اخباریوں کے نزدیک پھر پھرا کے صرف حدیث حجت ہے کیونکہ قرآن کو سمجھنے کے لئے بھی حدیث کی ضرورت ہے، مگر اصولیوں کے نزدیک، قرآن بھی حجت ہے، حدیث بھی حجت ہے، عقل بھی حجت اور اجماع بھی حجت ہے۔

3۔ اصولی علماء کا کہنا ہے کہ یہ کتب اربعہ جو ہیں ان میں جو بھی احادیث ہیں، ان میں چھان بین کی ضرورت ہے، اور ان میں ساری کی ساری حدیثیں جو آئی ہیں وہ صحیح اور معتبر نہیں ہیں۔  اس وجہ حدیث کو دیکھنا ہوگا کہ حدیث ضعیف ہے، متواتر ہے، حسن ہے، موثق ہے یا نہیں۔

جبکہ اخباریوں کا کہنا ہے کہ سب کی سب کتب اربعہ معتبر ہیں،  بالکل اسی طرح سے جس طرح سے اہل سنت حضرت  اپنی صحاح کے بارے میں کہتے ہیں۔ (شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کیونکہ انہوں نے اپنے اوپر دوسری دلیلوں کی حجیت کو نہیں مانا اور صرف حدیث ہی ان کے نزدیک دین کو سمجھنے کا ذریعہ بچی تو ایسی صورت میں حدیث  میں بھی اگر تحقیق کرنا شروع کر دی تو پھر ان کے پاس چند چیزوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچے گا)۔

اور ایک وجہ جس کی وجہ سے ان کو اخباری کہتے ہیں وہ یہی ہے کہ ان کے پاس صرف اخبار کے علاوہ کچھ اور ہے ہی نہیں۔

فرعی اختلافات

اصل برائت عقلی[5]

اصل برائت از اقسام اصول عملی است که وظیفه عملی مکلف را در مواردی که بعد از جست‌وجو و عدم دست‌یابی به دلیل، در تکلیف واقعی شک می‌نماید، تعیین نموده و به برائت ذمه او از تکلیف مشکوک حکم می‌کند؛ به بیان دیگر، مراد از اصل برائت، اصلی از اصول عملی است که هنگام شک مکلف در تکلیف و عدم دسترسی وی به حجت شرعی، اجرا می‌شود و در مقام عمل ، مکلف را موظف به انجام آن تکلیف نمی‌داند؛ برای مثال، هنگامی که مکلف بعد از جست‌وجو و عدم دست‌یابی به دلیل، در حرمت یا حلیت استعمال دخانیات شک می‌کند، اصل برائت جاری نموده و به حلیت استعمال آن حکم می‌کند و از عقوبت مخالفت احتمالی با حکم واقعی، ایمن می‌شود.

بنابراین، هرگاه بعد از جست‌وجوی از دلیل و عدم دسترسی به آن، در تکلیف شک شود، آن تکلیف بر عهده مکلف ثابت نمی‌شود؛ یعنی در شبهه وجوبی، ترک آن، و در شبهه تحریمی، ارتکاب آن، جایز است؛ فرقی نمی‌کند که منشا شک، فقدان نص، اجمال نص یا تعارض دو نص باشد.

محل نزاع اصولیون و اخباری‌ها، خصوص شبهات تحریمی حکمی است و در سایر اقسام نزاعی ندارند؛ بنابراین، در شبهات حکمی تحریمی، اصولی‌ها، معتقد به جریان برائت و اخباری‌ها معتقد به جریان احتیاط بوده و نسبت به موارد دیگر، هر دو برائتی هستند.

اگر شبہ تحریمی ہو، یعنی کسی چیز کے حرام ہونے میں اگر شک ہو اور قرآن اور حدیث میں کچھ بھی نہ ملے تو  اس کو شبھہ تحریمیہ کہتے ہیں۔

یہاں پر اصولی کہتے ہیں ہماری عقل کہتی ہے کہ کیونکہ  قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی حرمت نہیں ملتی اس وجہ سے یہ جائز ہوگا، اور اللہ اس پر عقاب نہیں کریگا۔

مگر اخباری کہتے تھے کہ نہیں اگر کسی چیز کے حرام ہونے میں شک ہے، اور اس پر خبر یا حدیث نہ بھی ملے تو بھی اس سے بچنا احتیاطا ضروری ہے۔

پہلی مثال

روزے کی حالت میں مثلاً جس پر انجیکشن کا لگانا، یا ٹیکا لگانا، یہ جائز ہے یا نہیں؟، اصولیوں نے قرآن اور حدیث کو دیکھا کوئی دلیل نہیں ملی، اور اس پر نہ کھانا، پینا صادق آتا ہے اور نہ اور کوئی اور حرمت والی چیز تو انہوں نے کہا جائز ہے۔ لیکن اگر کوئی اخباری  عالم اگر ہوتا تو کہتا شاید یہ حرام ہے اس میں احتیاط لازمی ہے۔

دوسری مثال

 سگریٹ کا پینا کہ جس پر کوئی دلیل موجود نہیں تھی  تو اصولیوں نے کہا کہ جائز ہے،  مگر اگر اخباری ہو تو کہے کہ یہ احتیاطا حرام ہے۔

تمام اختلافات  کی صرف ایک چیز کی طرف بازگشت

اگرغور کیا جائے  تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان تمام اختلافات کی بازگشت صرف ایک مسئلہ کی طرف ہے اور وہ ہے کہ ‘کیا اجتہاد کا دائرہ تنگ ہے  یا اجتہاد کا دائرہ بڑھایا جا سکتا ہے یا وسیع ہے؟’

اخباریوں نے اجتہاد کے دائرہ کو محدود کر دیا صرف  احادیث میں، اور روایات میں۔

مگراصولی علماء نے اس دائرہ کو وسعت بخشی اور اس کے دائرہ کو وسعت دی جس کی وجہ سے اجتہاد کا دروازہ اب تک کھلا ہوا ہے اور تا قیامت کھلا رہیگا اور کہیں پر بھی ہمارے لئے مانع ایجاد نہیں ہوگا کیونکہ اس کی دلیلوں میں عقل اور اجماع کی حجیت بھی شامل ہے۔

مصادر و حوالہ جات

[1] https://www.youtube.com/watch?v=3af3xIUI9C0

[2] صاحب وسائل الشیعۃ

[3] صاحب حدائق، جن کا کہنا تھا کہ نہ میں اخباری ہوں، نہ اصولی

[4] صاحب حدائق کے یہ شاگرد تھے۔

[5] http://wikifeqh.ir/%D8%A7%D8%B5%D9%84_%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%AA_(%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84)

Thank You for Repairing My Boat

A man was asked to paint a boat.

He brought with him paint and brushes and began to paint the boat a bright red, as the owner asked him.

While painting, he noticed that there was a small hole in the hull, and he quietly repaired it.

When he had finished painting, he received his money and left.

The next day, the owner of the boat came to the painter and presented him with a nice cheque, much higher than the payment for painting.

The painter was surprised and said “You’ve already paid me for painting the boat Sir!”

“But this is not for the paint job. It’s for having repaired the hole in the boat.”

“Ah! But it was such a small service… certainly it’s not worth paying me such a large amount for something so insignificant.”

“My dear friend, you do not understand. Let me tell you what happened.

When I asked you to paint the boat, I forgot to mention the hole that needed fixing.

When the boat dried, my kids took the boat and went on a fishing trip.

They did not know that there was a hole, and I was not home at that time.

When I returned and noticed they had taken the boat, I was distraught because I remembered that the boat had a hole in it.

Imagine my relief and joy when I saw them returning from fishing.

Then, I examined the boat and found that you had repaired the hole! You see, now, what you did? You saved the life of my children! I do not have enough money to repay your ‘small’ good deed.”

So, no matter who, when or how. Just continue to help, sustain, wipe tears, bring joy.. listen attentively and carefully repair all the ‘leaks’ you find, because you never know when one is in need of a helping hand.

You may have repaired numerous ‘boat holes’ along the way… of several people without realizing how many lives you’ve saved.

✨ …✨
🙏😁 I want to thank everyone who repaired my boat this year in every way like Good Wishes, thoughts, love, care & prayers…wApps or e-mails. Sometimes you made me laugh… sometimes you made me cry..

Thank you!!!

QOUM KE KIRDAAR BIKTE HAIN

JAWANI, HUSN, MAYKHANE, LAB O RUKHSAAR BIKTE HAIN :

HAYA KE AAINE ME KUCH; KUCH SAR E BAZAAR BIKTE HAIN :

SHARAAFAT, ZARF, HAMDARDI, DILO SE HO GAYI RUKHSAT :

JAHAAN DAWLAT CHAMAKTI HAY, WAHIN KIRDAAR BIKTE HAIN :

HAMARE RAHNUMAO KO, HUWA KYA HAY KHUDA JAANE :

KABHI ISS PAAR BIKTE HAIN; KABHI USS PAAR BIKTE HAIN :

ZARA KHUD SOCHIYE HAM PAR, TABAAHI KYU NA AAYEGI :

YE DAWR AISA HAY JISME, QOUM KE KIRDAAR BIKTE HAIN :

ZIARAT ASHURA زیارت عاشورا

زیارت عاشورا

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَباعَبْدِاللهِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللهِ ، اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ اَمیرِالْمُؤْمِنین ، وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیّینَ

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا بْنَ فاطِمَهَ سَیِّدَهِ نِسٰاءِ الْعٰالَمینَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا ثارَاللهِ وَابْنَ ثارِەِ ، وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ،

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ وَعَلَى الْاَرْواحِ الَّتى حَلَّتْ بِفِنٰائِکَ ، عَلَیْکُمْ مِنّى جَمیعاً سَلاٰمُ اللهِ اَبَداً مٰا بَقیتُ وَبَقِىَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ،

یا اَباعَبْدِاللهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّهُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصیبَهُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلىٰ جَمیعِ اَهْل ِالْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصیبَتُکَ فِى السَّمٰوٰاتِ عَلىٰ جَمیعِ اَهْلِ السَّمٰوٰاتِ،

فَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً اَسَّسَتْ اَسٰاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ ، وَ اَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتى رَتَّبَکُمُ اللهُ فیهٰا ،

وَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً قَتَلَتْکُمْ ، وَ لَعَنَ اللهُ الْمُمَهِّدینَ لَهُمْ بِالتَّمْکینِ مِنْ قِتالِکُم ، بَرِئْتُ اِلَى اللهِ وَاِلَیْکُمْ مِنْهُمْ ، وَ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَ اَتْباعِهِمْ وَ اَوْلِیٰائِهِمْ ،

یا اَباعَبْدِاللهِ اِنّى سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ اِلى یَوْمِ الْقِیامَهِ،وَ لَعَنَ اللهُ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ،وَ لَعَنَ اللهُ بَنى اُمَیَّهَ قاطِبَهً وَلَعَنَ اللهُ ابْنَ مَرْجٰانَهَ ،

وَ لَعَنَ اللهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللهُ شِمْراً ، وَ لَعَنَ اللهُ اُمَّهً اَسْرَجَتْ وَ اَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ ، بِاَبى اَنْتَ وَاُمّى ، لَقَدْ عَظُمَ مُصٰابى بِکَ ،

فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذى اَکْرَمَ مَقامَکَ ، وَاَکْرَمَنى بِکَ اَنْ یَرْزُقَنى طَلَبَ ثارِکَ مَعَ اِمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ اَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ ،

اَللّٰهُمَّ ٱجْعَلْنى عِنْدَکَ وَجیهاً بِالْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ فِى الدُّنْیا وَ الاْخِرَهِ ، یا اَبا عَبْدِاللهِ اِنّى اَتَقَرَّبُ اِلى اللهِ وَ اِلىٰ رَسُولِهِ ، وَاِلىٰ امیرِالْمُؤْمِنینَ وَ اِلىٰ فاطِمَهَ ، وَاِلَى الْحَسَنِ وَ اِلَیْکَ بِمُوالاتِکَ ،

وَبِالْبَرائَهِ مِمَّنْ قاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ ، وَ بِالْبَرائَهِ مِمَّنْ اَسَّسَ اَسٰاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِعَلَیْکُمْ وَ اَبْرَءُ اِلَى اللّهِ وَ اِلى رَسُولِهِ ،مِمَّنْ اَسَسَّ اَسٰاسَ ذٰلِکَ وَبَنىٰ عَلَیْهِ بُنْیانَهُ

وَجَرىٰ فى ظُلْمِهِ وَجَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَعَلىٰ اَشْیٰاعِکُمْ ،بَرِئْتُ اِلَى اللَّهِ وَ اِلَیْکُمْ مِنْهُمْ وَاَتَقَرَّبُ اِلَى اللهِ ثُمَّ اِلَیْکُمْ بِمُوٰالاتِکُمْ وَمُوالاهِ وَلِیِّکُمْ ،

وَبِالْبَرائَهِ مِنْ اَعْدائِکُمْ وَ النّاصِبینَ لَکُمُ الْحَرْبَ وَبِالْبَر ائَهِ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَاَتْباعِهِمْ ،

اِنّى سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ وَ وَلِىٌّ لِمَنْ والاکُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عادٰاکُمْ ، فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذى اَکْرَمَنى بِمَعْرِفَتِکُمْ وَ مَعْرِفَهِ اَوْلِیٰائِکُمْ ،

وَرَزَقَنِى الْبَرائَهَ مِنْ اَعْدائِکُمْ ، اَنْ یَجْعَلَنى مَعَکُمْ فِى الدُّنْیا وَ الْاٰخِرَهِ ،

وَاَنْ یُثَبِّتَ لى عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِى الدُّنْیا وَالاْخِرَهِ وَ اَسْئَلُهُ اَنْ یُبَلِّغَنِى الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللَّهِ،

وَ اَنْ یَرْزُقَنى طَلَبَ ثاریکُم مَعَ اِمامٍ مَهْدیٍ هُدىً ظاهِرٍ ناطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْکُمْ ، وَ اَسْئَلُ اللهَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّاْنِ الَّذى لَکُمْ عِنْدَەُ اَنْ یُعْطِیَنى بِمُصابى بِکُمْ ،

اَفْضَلَ ما یُعْطى مُصاباً بِمُصیبَتِهِ،مُصیبَهً مٰا اَعْظَمَهٰا وَاَعْظَمَ رَزِیَّتَها فِى الْاِسْلامِ وَفى جَمیعِ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ،

اَللّهُمَّ اجْعَلْنى فى مَقامى هٰذا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَهٌ وَمَغْفِرَهٌ ،اَللّهُمَّ اجْعَلْ مَحْیٰاىَ مَحْیٰا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ،

وَ مَمٰاتى مَمٰاتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، اَللّهُمَّ اِنَّ هٰذا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو اُمَیَّهَ وَابْنُ آکِلَهِ الْاَکْبٰادِ اللَّعینُ ابْنُ اللَّعینِ ،

عَلىٰ لِسٰانِکَ وَ لِسانِ نَبِیِّکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فى کُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فیهِ نَبِیُّکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ ،

اَللّهُمَّ الْعَنْ اَبا سُفْیانَ وَمُعٰوِیَهَ ،وَ یَزیدَ بْنَ مُعاوِیَهَ ، عَلَیْهِمْ مِنْکَ اللَّعْنَهُ اَبَدَ الاْبِدینَ،

وَهٰذا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زیٰادٍ وَآلُ مَرْوانَ ، بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللهِ عَلَیْهِ،اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ [الاَْلیمَ] ،

اَللّٰهُمَّ اِنّى اَتَقَرَّبُ اِلَیْکَ فى هٰذَالْیَوْمِ وَفى مَوْقِفى هٰذا وَ اَیّامِ حَیٰوتى بِالْبَراَّئَهِ مِنْهُمْ وَاللَّعْنَهِ عَلَیْهِمْ ، وَبِالْمُوالاتِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلامُ

سو مرتبہ کہے:

اَللّهُمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَآخِرَ تابِعٍ لَهُ عَلى ذلِکَ ، اَللّهُمَّ الْعَنِ الْعِصابَهَ الَّتى جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ ، وَشٰایَعَتْ وَبٰایَعَتْ وَتٰابَعَتْ عَلىٰ قَتْلِهِ ، اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمیعاً

سو مرتبہ کہے:

اَلسَّلٰامُ عَلَیْکَ یٰا اَبٰا عَبْدِ اللهِ ، وَعَلَى الْاَرْوٰاحِ الَّتى حَلَّتْ بِفِنٰائِکَ ، عَلَیْکَ مِنّى سَلامُ اللهِ اَبَداً ما بَقیتُ وَبَقِىَ اللَّیْلُ وَ النَّهٰارُ ، وَلا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنّى لِزِیٰارَتِکُمْ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَیْنِ ، وَعَلٰى عَلِىِّ بْنِ الْحُسَیْنِ ، وَعَلىٰ اَوْلادِ الْحُسَیْنِ ، وَعَلىٰ اَصْحٰابِ الْحُسَیْن

پھر یہ کہے:

اَللّٰهُمَّ خُصَّ اَنْتَ اَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنّى وَابْدَاءْ بِهِ اَوَّلاً ،ثُمَّ الثّانِىَ وَالثّالِثَ وَالرّابِعَ اَللّهُمَّ الْعَنْ یَزیدَ خامِساً ، وَالْعَنْ عُبَیْدَ اللهِ بْنَ زِیٰادٍ وَابْنَ مَرْجٰانَهَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْراً وَآلَ اَبى سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ اِلى یَوْمِ الْقِیمَهِ

پھر سجدہ میں جاکر یہ پڑھے:

اَللّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاکِرینَ لَکَ عَلٰى مُصابِهِمْ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى عَظیمِ رَزِیَّتى ، اَللّهُمَّ ارْزُقْنى شَفاعَهَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ ، وَثَبِّتْ لى قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَاَصْحابِ الْحُسَیْن ،ِ الَّذینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ.

🌷
یارَبَّ الحُسَینِ ، بِحَقِّ الحُسَینِ ، اشفِ صَدرَالحُسَینِ ، بظُهورِالحُجَّه

A Beautiful Poem: ‘Water’ by Azra Maroofi

‘Water’ by Azra Maroofi

When it rises, it’s steam
When it falls, it’s rain
Frozen in the clouds, hail
Frozen on the ground, snow

Dropping on a leaf, it’s dew
Dripping from a flower, its nectar
Falling from the eye, a tear
Flowing in the earth, a river

Trickling at the feet of Ismail, it’s ZamZam
Springing from the fingers of the Prophet, Kauthar
And when it is denied, it is KARBALA

فساد الأمّة من خلال فساد الفئات القياديَّة في المجتمع

Tags

فساد الأمّة من خلال فساد الفئات القياديَّة في المجتمع

يقول الإمام عليّ بن أبي طالب عليه السَّلام :

لما سئل عن أحوال العامة .

كيف تفسد العامَّة من النّاس ؟ فقال :
( إنَّما هي من فساد الخاصَّة )
وإنّما الخاصّة ليُقسمون على خمس .

العلماء وهم الأدلّاء على الله ، والزهّاد وهم الطريق إلى الله ، والتجّار وهم أمناء الله ،
والغزاة وهم أنصار دين الله ، والحكّام وهم رعاة خلق الله.

فإذا كان العالِم طمّاعا وللمال جمّاعا فبمن يستدلّ ؟

وإذا كان الزاهد راغباً ولما في أيدي الناس طالباً فبمن يُقتدى ؟

وإذا كان التاجر خائناً وللزكاة مانعاً فبمن يُستوثق ؟

وإذا كان الغازي مرائياً وللكسب ناظراً فبمن يُذبّ عن المسلمين ؟

وإذا كان الحاكم ظالماً وفي الأحكام جائراً فبمن يُنصر المظلوم على الظالم ؟

فوالله ما أتلف الناس إلّا العلماء الطمّاعون ،
والزهّاد الراغبون ،
والتجّار الخائنون ،
والغزاة المراؤون ،
والحكّام الجائرون ،

﴿ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ ﴾ ».

المصدر: ميزان الحكمة ج٣ الامامعلي اميرالمؤمنين

مساكم الله بالخير

An important point from Surah Ma’oon – في_رحاب_سورة_الماعون

فيرحابسورة_الماعون

بسم الله الرحمن الرحيم
” أرءيت الذي يُكذب بالدين فذلك الذي يَدعُ اليتيمو لا يَحض على طعام المسكين ”

🍃هنا وقفة تأملية مفادها انهُ لم يقل إطعام بل قال “طعام المسكين” اي ان ما تُقدمهُ للفقير هو حقه و ليس لك اي مَنٌ عليه و إنما انت كساعي بريد قد اوصل مال الله الى هذا المسكين
و نجد هذا المعنى في الحديث القدسي :

(المال مالي و الفقراء عيالي و الاغنياء وكلائي فإن بخل وكلائي على عيالي أخذت مالي و لا أُبالي)

Special Salawat from Imam Reza (AS)

قالَ الإمامُ الرّضَا علَيه السّلامُ :
من صلىّ على النبي بهذه الصلاة هُدمت ذنوبه ، وغُفرت خطاياه ، ودام سروره ، واستُجيب دعاؤه ، وأُعطي أمله ، وبُسط له في رزقه ، وأُعين على عدوه، وهُيء له سبب أنواع الخير ، وُيجعل من رفقاء نبيّه في الجنان الأعلى ومن سرّ محمد وآل محمد فليصلِّ بهذه الصلاة : 🙌🏻

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ في الأولينَ وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ في الاخِرينَ وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ في المَلا الاعْلى وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ في المُرْسَلينَ ، اللَّهُمَّ أعْطِ مُحَمَّداً الوَسيلَةَ وَالشَّرَفَ وَالفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الكَبيرَةَ، اللَّهُمَّ إِنِّي آمَنْتُ بمُحَمَّد صلّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَلَمْ أرَهُ فَلاتَحْرِمْني يَوْمَ القيامَةِ رؤيَتَهُ وَارْزُقْني صُحْبَتَهُ وَتَوَفَّني عَلى مِلَّتَهُ واسْقِني مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَبًا رَوِيًّا سائِغًا هَنيًّا لا أظْمأُ بَعْدَهُ أبَداً، إنَّكَ عَلى كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ، اللَّهُمَّ كَما آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلّ الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَلَمْ أرَهُ فَأرِني في الجِنانِ وَجْهَهُ، اللَّهُمَّ بَلِّغْ روحَ مُحَمَّدٍ عَنِّي تَحيَّةً كَثيرةً وَسَلاما.

📚 بحار الانوار

اللهم صل على محمد وال محمد

*إذا أردتَ أنْ تـكـونَ كـامـلا مِـن جميع الـجـهـات* If you wanted to be perfect – read this – In Arabic

إذا أردتَ أنْ تـكـونَ كـامـلا مِـن جميع الـجـهـات

📜 روي عـن الإمـام الـرضـا (عَلَيْهِ السَّلاٰمُ) :

﴿ لا يـتـمّ عـقـلُ إمـرئٍ مـسـلـمٍ حـتـى تـكـونَ فـيـه عـشـرً خـصـال :
١. الـخـيـر مـنـه مـأمـول ،
٢. و الـشـر مـنـه مـأمـون ،
٣. يـسـتـكـثـر قـلـيـل الـخـيـر مـن غـيـره ،
٤. و يـسـتـقـل كـثـيـر الـخـيـر مـن نـفـسـه ،
٥. لا يـسـأم مـن طـلـب الـحـوائـج إلـيـه ،
٦. و لا يـمـلّ مـن طـلـب الـعـلـم طـول دهـره ،
٧. الـفـقـر فـي الله أحـبّ إلـيـه مـن الـغـنـى ،
٨. و الـذل فـي الله أحـبّ إلـيـه مـن الـعـز فـي عـدوه ،
٩. والـخـمـول أشـهـى إلـيـه مـن الـشـهـرة . ﴾
ثـم قـال عَـلَـيـْـهِ السَّــلام :
﴿ الـعـاشـرة و مـا الـعـاشـرة ﴾
قـيـل لـه : و مـا هـي ؟
قـال (عَلَيْهِ السَّلاٰمُ) :
﴿ ١٠- لا يـرى أحـدا إلا قـال : هـو خـيـرٌ مـنـي و أتـقـى ،
✻ إنـمـا الـنـاس رجـلان :
✧ رجـلٌ خـيـرٌ مـنـه و أتـقـى ،
✦ و رجـلٌ شَـرٌّ مـنـه وأدنـى ،
✧ فـإذا لـقـي الـذي شَـرٌّ منه وأدنـى، قـال : لـعـلّ خـيـرُ هـذا بـاطـن و هـو خـيـر لـه ، و خـيـري ظـاهـر و هـو شَـرٌّ لـي ،
✦ و إذا رأى الـذي هـو خـيـرٌ مـنـه و أتـقـى تـواضـع لـه لـيـلـحـق بـه ،
✻ فـإذا فـعـل ذلـك فـقـد عـلا مـجـده ، وطـاب خـيـرُه ، و حـسـن ذِكْـرُه ، و سـادَ زمـانَـه ﴾

📚جواهر البحار ج٧ ص ٣٣٦

 

The Most Sinful People on The Day of Judgment


عبد اللہ ابن ابی سلول (پیغمبرﷺ کا ایک کٹر دشمن)نے ایک بار پیغمبرﷺ سے ملنے کی اجازت مانگی۔ جب پیغمبرﷺ کو اس بات کا پتہ چلا کہ وہ آگیا ہے تو پیغمبرﷺ نے اس پر اظہار ناخوشی کیا۔ لیکن پھر بھی پیغمبرﷺ نے حکم دیا کہ عبد اللہ کو آنے کی اجازت دی جائے۔ جیسے ہی عبد اللہ داخل ہوا، نبی اکرمﷺ نے اس کو بٹھایا اور اس سے بہت ہی گرم جوشی سے اور دوستانہ انداز میں گفتگو کی۔
جب عبد اللہ چلا گیا تو عائشہ نے پوچھا، یا رسول اللہ ! اس کے داخل ہونے سے پہلے تو آپ نے اس کے بارے میں اظہار ناراضگی کیا تھا مگر جیسے ہی وہ داخل ہوا تو آپ نے اس سے بہت دوستانہ انداز میں گفتگو فرمائی’۔ پیغمبرﷺ نے جواب میں فرمایا: ‘اے عائشہ! اللہ کی نظر میں سب سے بدترین قیامت کے دن وہ ہو گا جس کا احترام لوگ اس کے شر سے بچنے کے لئے کرتے ہونگے’۔

Abdullah bin Ubayy Salul (a staunch enemy of the Prophet) once sought permission to meet the Prophet (s). When the Prophet of Allah (SWT) realised who had arrived, he expressed his displeasure. However, the prophet (s) ordered that Abdullah be allowed to enter. As soon as Abdullah entered, the prophet (s) seated him and spoke to him in warm and friendly manner.

When Abdullah departed, Aishah queried, ‘O Prophet (s) of Allah (SWT), you did not speak well of him before he entered, but once he entered, you spoke to him in a very cordial manner. The Prophet (s) replied, ‘O Aishah! The most wretched of all people on the day of judgment is one whom people respect in to order to protect themselves from his evil actions.’

مباحثات/ نظری به رأی آیت‌الله‌العظمی محمداسحاق فیاض در فعالیت‌های اجتماعی زنان

مباحثات/ نظری به رأی آیت‌الله‌العظمی محمداسحاق فیاض در فعالیت‌های اجتماعی زنان

✔ گامی به پیش در فقه بانوان

«سید هادی طباطبایی»

🔹آیت‌الله فیاض(۱۳۰۹-) از مراجع افغانستانی ساکن در نجف اشرف است. وی از شاگردان برجسته‌­ی آیت‌الله خویی بوده است. ایشان در پاسخ به برخی از پرسش‌ها در خصوص فعالیت‌های اجتماعی زنان، به‌عهده‌گرفتن سه سِمَت «رهبری دولت»، «قضاوت» و «افتاء» (مرجعیت دینی) را نیز برای زنان مجاز می­‌شمارَند. مبنای اصلی ایشان چنین است که از نگاه فقهی، تفاوت‌های حقوقی و فقهی بین زن و مرد را تنها در صورتی می­‌توان پذیرفت که دلیل معتبر شرعی به‌صورت نص یا ظهور، بر اثبات آن وجود داشته باشد؛ وگرنه موضوع، داخل در قلمرو منطقه‌الفراغ یا اباحه خواهد بود و منطقة‌الفراغ یک عنصر متغیّر، متحرک و سیال است که با تغییر شرایط زمان و مکان قابل تغییر است.

🔹آیت‌الله فیاض، مقام رهبریِ حکومت را نیز برای زنان جایز می‌­شمرد. او این سئوال را مطرح می­‌کند که آیا می‌­توان برای زنِ مسلمان در زمان غیبت، در صورتی که همه شرایط از نگاه فقاهت، اعلمیت، عدالت، استقامت و قدرت اجراییِ دستورات الهی را دارا باشد، سِمَت رهبری و مقام حاکم در دولت مبتنی بر اصل حاکمیت خداوند را ثابت کرد؟ پاسخ ایشان به این پرسش این‌گونه است: «اکثر فقهای بزرگوار معتقد به ثبوت این مقام برای زن مسلمان نیستند؛ ولی ثبوت آن خالی از قوّت نیست؛ زیرا دلیلی بر عدم ثبوت نیست؛ مگر ادعای اجماع در این مسأله. در حالی که اجماع در ذات خود حجّت نیست و اعتبار ندارد؛ مگر این که احراز شود که در زمان معصومین(ع) نیز ثابت بوده و از آن زمان دست به دست و طبقه بعد از طبقه به ما رسیده باشد؛ ولی هیچ راهی برای این احراز وجود ندارد».

🔹 در خصوص مقام قضاوت برای زنان نیز رأیی خلاف اجماعِ فقها را برمی‌­گزیند و عنوان می‌کند که «اکثر فقها قائل به تخصیص قضا به مرد مسلمان و عدم عمومیت آن هستند؛ اما عمومیت آن، در صورتی که تمام شرایط زعامت دینی در زن مسلمان فراهم باشد، خالی از قوّت نیست. در مورد قضاوت عرفی بین مردم که مبتنی بر ثبوت ولایت و زعامت دینی قاضی نیست، هیچ فرقی بین مرد و زن وجود ندارد».‏

🔹 آیت‌الله فیاض همچنین کوشیده است تا برخی از آیات و احادیثی که مورد استناد قرار گرفته و زنان را از فعالیت‌های اجتماعی محروم داشته را نیز به بحث بگذارد. وی در خصوص آیه‌ی «الرّجالُ قَوّامون عَلی النِّساء»‌‎ این‌گونه اعلام موضع می‌­کند: «قوام بودن مرد بر زن، منحصر به زندگی خانوادگی است؛ یعنی در قلمرو خانواده، مرد سرپرست آن است. اما در حیات عمومی، هیچ فرقی بین زن و مرد وجود ندارد».

🔹 آیت‌الله فیاض همچنین در پاسخ به پرسشی که حدیث مربوط به نقصان زن در عقل و دین را پیش می­‌کشد این‌گونه اعلام موضع می­‌کند: «این حدیث معتبر نمی‌­باشد و نسبت‌دادن آن به رسول اکرم(ص) صحیح نیست. علاوه بر این، این حدیث قابل تأیید و تصدیق نیز نمی‌­باشد؛ زیرا بر خلاف محسوس و واقعیت‌های عینی است؛ چون ملموس و عیان است که عقل زن در همه عرصه­‌های علمی که زن حضور و موجودیت دارد، از عقل مرد کم‌تر نیست. از آیات و روایات استفاده می‌­شود که بین مرد و زن در این مورد فرقی وجود ندارد».

متن کامل مطلب👇👇👇
http://mobahesat.ir/16349
🔻🔻🔻
@mobahesatmagz

Dua – Last Friday of Ramzan

Dua – Last Friday of Ramzan

Sayyad Ibn Tawus and Shaykh al-Sadooq have both narrated the following on the authority of Jabir ibn `Abdullah al-Ansari: I visited the Messenger of Allah (a.s.) on the last Friday of Ramzan. As he saw me, he said, “Jabir: This is the last Friday of Ramzan. You should thus bid it farewell by saying the following:

 اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلهُ آخِرَ ٱلْعَهْدِ مِنْ صِيَامِنَا إِيَّاهُ

Allah, (please) do not make it the last of our fasting in this month,

 فَإِنْ جَعَلْتَهُ فَٱجْعَلْنِي مَرْحُوماً وَلاَ تَجْعَلْنِي مَحْرُوماً

But if You decide so, then (please) make me enjoy (Your) mercy and do not make me deprived (of it).