🔵 گانا بجانا 🔵

🔵 گانا بجانا 🔵

■گانا کیا ہے؟
سیَّد مرتضیٰ اپنی کتاب “وسیلہ” میں فرماتے ہیں:
گانا حرام ہے۔ گانا سُننا بھی حرام ہے اور اس کے ذریعے مال کمانا بھی حرام ہے۔ البتہ ہر اچھی آواز گانا نہیں ہے بلکہ گانا ایک خاص انداز میں آواز کو کھینچنے اور حلق میں مخصوص انداز سے گھمانے کو کہتے ہیں، جو کہ لہو ولعب اور عیش وطرب کی محفلوں میں رائج ہے۔ ایسا گانا موسیقی کے آلات سے عام طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے.”
الغرض عرفِ عام میں جِسے گانا کہا جاتا ہو وہ حرام ہے۔ پس اگر اشعار، قرآن یا نوحے مرثیے بھی گانے کی طرز پر پڑھے جائیں تو یہ بھی گناہ ہے، بلکہ عام گانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ اس طرح قرآنِ مجید اور نوحے مرثیے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا گناہ اور عذاب دُگنا ہے۔”

■گانا، گناہِ کبیرہ
جب حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام نے فرمایا تھا کہ
“گانا ایسی چیزوں میں سے ہے جس پر خداوندِ تعالیٰ نے عذاب کا قول دیا ہے.”
تو یہ آیت شریفہ بھی تلاوت فرمائی تھی:
“اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو بیہودہ چیزیں (لَہْوَالْحَدِیْثِ) خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوچے سمجھے وہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دیں اور خدا کی نشانیوں کا مذاق اُڑائیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے بڑا رسوا کر دینے والا عذاب ہے!”
(لقمان:2)
آیت میں “لَہْوَالْحَدِیْثِ” کا لفظ آیا ہے جس سے مراد گانا ہے.
اس آیت شریفہ اور امام محمد باقر علیہ السَّلام کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گانا بھی لَہْوَالْحَدِیْث یعنی بیہودہ چیزوں میں سے ایک ہے۔ بیہودہ چیز کوئی نامناسب بات، حرکت یا شاعری وغیرہ ہوسکتی ہے جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور جو انسان کو فائدے سے محروم کر دے دوسرے الفاظ میں کلامِ حق اور قرآنِ مجید کی بات ماننے سے روک دینے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْث ہے. گمراہ کردینے والی ہر چیز اور فسق وفجور، عیّاشی اور فحاشی کی طرف مائل کرنے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْث ہے خواہ وہ گانا سُننا ہو یا خود گانا ہو.

■آپس میں نفاق اور گانا
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
“گانے باجے کو اور بے ہودہ باتوں کو غور سے سُننا دل میں نفاق کو اسی طرح پیدا کردیتا ہے جس طرح پانی سبزے کی نشوونما کا باعث بنتاہے۔”
(کتاب کافی)

■گانے کا پروگرام
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:
لاَ تَدْخُلُوْا بُیوُتاً، اَللّٰہُ مُعْرِضُ عَنْ اَھْلِھَا.
(کتاب کافی)
“ایسے گھروں میں داخل بھی مت ہو جس کے رہنے والوں پر سے خدا نے اپنی نظرِرحمت ہٹالی ہو!”
یہی امام علیہ السّلام فرماتے ہیں
“بَیْتُ الْغِنَآءِ لاَ یُوٴْمَنُ فِیْہِ الْفَجِیٴَة،
وَلاَ یُجَابُ فِیْہِ الدَّعْوَةُ،
وَلاَ یَدْخُلُہُ الْمَلَک.”
“جس گھر میں گانا باجا ہوتا ہے وہ ناگہانی مصیبتوں سے محفوظ نہیں رہتا، ایسے مقام پر دُعا مستجاب نہیں ہوتی، اور ایسی جگہ فرشتے نہیں آتے.
(کتابِ کافی اور مستدرک الوسائل. باب ۷۸)

■گانا اور فقر و فاقہ
حضرت علی علیہ السَّلام سے مروی ہے وَالْغِنَآءُ یُوْرِثُ النِّفَاقَ وَ یُعَقِّبُ الْفَقْرَ.
“اور گانا باجا نفاق پیدا کرتا ہے اور فقر و فاقہ کا باعث بنتا ہے!”
(مستدرک الوسائل‘ باب ۷۸)

■گانے کا عذاب
حضر ت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ
“یُحْشَرُ صَاحِبُ الْغِنآءِ مَنْ قَبَرِ ہ اَعْمٰی وَآخْرَسَ وَاَبْکَمَ.” (جامعُ الاخبار)
گانا گانے والا شخص اپنی قبر سے جب میدانِ حشر میں نکلے گا تو اندھا بھی ہوگا، بہرا بھی ہوگا اور گونگا بھی ہو گا.

■رحمتِ خداسے محرومی
قطب راوندی نے پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ
“گانا گانے والا شخص ایسے لوگوں میں شامل ہے جن پر قیامت کے دن خدا نظرِ رحمت نہیں ڈالے گا!”

■لڑکی کی شادی میں گانا بجانا
بعض مجتہدین نے تین شرطوں کے ساتھ شادی کے موقع پر عورتوں کو گانے کی اجازت دی ہے:
(۱) پہلی شرط یہ ہے کہ گانا سُننے والوں میں کوئی مرد موجود نہ ہو، یہاں تک کہ محرم مرد بھی موجودنہ ہوں۔
(۲) دوسری شرط یہ ہے کہ گانے فحش نہ ہوں اور جھوٹی باتوں پر مشتمل نہ ہوں۔
(۳) تیسری شرط یہ ہے کہ گانے کے ساتھ ڈھول تاشہ اور دیگر بجانے کے آلات استعمال نہ ہوں۔
بعض علماء نے دف (یعنی ایسا ڈھول جس کے ایک ہی طرف کھال ہو) شادی میں بجانے کی اجازت دی ہے۔ شہیدِ ثانی اورمحققِ ثانی فرماتے ہیں کہ دف شادی میں اس صورت میں بجاناجائز ہے جب کہ اس کے اطراف میں جھنجھنے نہ لگے ہوں۔
لیکن احتیاط یہ ہے کہ شادی کے موقع پر نہ تو عورتیں گانا گائیں اور نہ ہی کوئی چیز بجائیں۔ شیخ انصاری علیہ الرَّحمہ “مکاسب” میں شہید ِثانی کتاب”دروس” میں اورسیَّد مرتضیٰ کتاب “وسیلہ” میں اس موضوع پر یہی فرماتے ہیں: اَلْاِحْتِیَاطُ طَرِیْقُ النَّجاَةِ یعنی احتیاط ہی نجات کا راستہ ہے.

Advertisements

العرق دساس وكما تدين تدان

العرق دساس وكما تدين تدان

قصة حقيقيه فيها عبرة
في قديم الزمان رجل تزوج
وفي اول يوم الزواج،،،
اجتمع حول الطعام هو وأمه وزوجته
فقدم سهم الطعام الكبير والإهتمام
لزوجته
لكونها هي عروس في أول يومها
وقدم لأمه شيء بسيط من الطعام وبلا اهتمام ….

لاحظت الزوجة وكانت حكيمة أصيلة،،
قالت له طلقني الان..
توسل لها ان تتراجع عن قرارها
وقال لها ماسبب طلبك للطلاق
قالت :-
ان العرق دساس ولا اريد انجب
منك ولد وأُهان منه كهذه الاهانة .

للاسف بعض النساء عندما
يفضلها زوجها على امه تعتقد
انها انتصرت وستكون مرتاحة
البال ونسيت أنه كما تدين تدان ..

تطلقت منه ورزقها الله زوجًا بارًا بأمه
ومرت السنين وانجبت اولاد .

وفي يوم كانت راحلة على ناقه
وعليها هودج وكانوا أولادها
يعتنون بالهودج حتى لا تمل…
وفي الطريق شاهدت قافلة
تمشي ويتبعها رجل كبير
في السن حافي القدمين خلف
القافلة يمشي لا أحد يعتني به .

فقالت لاولادها ائتوني بهذا
الرجل فاذا هو زوجها السابق
قالت له عرفتني .
قال لا قالت انا زوجتك السابقة
الم اقل لك العرق دساس … وكما تدين تدان ….
انظر الى اولادي كم هم بارين ويعتنون بي
وانظر الى حالك….أين أولادك؟
لانك اهنت امك كان هذا جزائك.

قالت لأولادها
اعتنوا به قربة الى الله تعالى ….


لكل زوجة تذكري
كما تدين تدان
وكذلك انت. الزوج ينطبق عليك الكلام
رفقا رفقا باامهاتكم وابااااكم لا تقصرو عليهم ولاتضيقو عليهم إيتها الزوجة اتركي زوجك يبر بأمه وكوني عون له
وانت أيها الزوج اترك زوجتك تبر أمها وكن عونا لها على بر والديها
فالحياة قصيرة ويوم من الأيام سوف تدفع ثمن ماعملته
ارسلها لجميع المضافين عندك لعل الذكرى تنفع المؤمنين

Your Limits – An Inspirational Poem

Tags

, ,

Your life is as lonely as you would like to make it,

Your joy is as much as you decide to feel it,

Your night is as long as you decide to stay awake,

Your destination is as far as you decide to walk,

No one sets the limits for you,

No one can catch the span of your sky,

Your sky is as much as you want to reach,

All you need is a positive approach in your decisions,

Spread your wings and decide to fly,

Life is wonderful if you know how to live it,

Allamah Iqbal – Khirad (Aql, intellect, wit)

Tags

, , ,

خرد نے کہہ  بھی دیا ‘لا الٰہ ‘ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

Khirad Ne Keh Bhi Diya ‘La Ilaha’ To Kya Hasil

Dil-o-Nigah Musalman Nahin To Kuch Bhi Nahin

 

If wit incites a man to say ʺNo God but Heʺ it brings no gain:

It. has no worth at all I think, unless affirmed by heart and brain.

Nine Lessons from Surah Hujurat

🌸Nine Lessons from Surah Hujurat🌸

When a glass breaks, the sound of breaking disappears immediately, whereas the glass pieces are scattered all over, hurting whoever walks over it.

Similarly, when you say something that hurts someone’s emotions and feelings, your words disappear, but in the heart remains pain for long.

Therefore, don’t say anything except good and always remember the nine advises and prohibitions that Allah has given in Surah Hujurat (The Surah of manners) before you say anything to anyone:

1.-فتبينوا:
“Fa Tabayyanu”: Investigate: whenever you receive an information, lest you harm people out of ignorance.

2.-فأصلحوا:
“Fa Aslihu”: Make settlement: between your brothers as believers are brothers.

3.-وأقسطوا:
“Wa Aqsitu”: Act justly: whenever there is a dispute try for settlement and act justly among both parties as Allah loves those who act justly.

4.-لا يسخر:
“La Yaskhar”: Don’t ridicule people, perhaps they may be better than you to Allah.

5.-ولا تلمزوا:
“Wa La Talmizu”: Don’t insult one another.

6.-ولا تنابزوا:
“Wa La Tanabazu”: Don’t call each other with offensive nicknames.

7.-اجتنبو كثيرا من الظن:
“Ijtanibu Kathiiran min Aldhan”: Avoid negative assumptions, indeed some of the assumptions are sins.

8.-ولا تجسسوا:
“Wa La Tajassasu”: Don’t spy on each other.

9.-ولا يغتب بعضكم بعضا:
“Wa La Yaghtab”: Don’t backbite about each other. It’s a major sin equivalent to eating your dead brother’s flesh.

Lastly, Allah says in the Qur’an “Remind, because the reminder benefits believers”.I ask Allah to give us the understanding and the IMAN to benefit from it. Ameen.

Copied

شہید حججی کی وصیت – ضرور پڑھیں

شہيد مدافع حرم بى بى زينب سلام اللہ عليہا محسن حججى كا الہى وصيت نامہ نشر كر ديا گيا ۔۔۔۔!!

تمام پيروان حسين و زينب سلام اللہ عليہما سے گزارش ہے كہ يہ وصيت نامہ ضرور پڑھيں اور اسے شيئر كريں۔

بسم اللہ الرحمن الرحيم۔ بعد از حمد و ستائش و درود و سلام بر اہلبيت
بہت كم وقت رہ گيا ہے جانے سے اور جتنا جانے كا وقت قريب ہوتا جارہا ہے ميرا دل بےتاب ہو رہا ہے۔ نہيں جانتاہوں كہ كيا لكھوں۔اور كس طرح سے اپنے احساسات كو بيان كروں؟ نہيں جانتا كہ كس طرح سے اپنى خوشحالى كو ذكر كروں؟ اور نہيں جانتا كہ كس طرح سے خداى منان كا شكر بجا لاؤں؟ ليكن صرف ايك وظيفہ كى خاطر چند سطور وصيت نامہ كے طور پر لكھ رہاہوں۔
نہيں جانتا كہ كس طرح سے ميرى قسمت ميں يہ عشق كا راہ لكھ ديا گيا اور نہيں جانتا كہ كونسے وہ اسباب تھے كہ اس راہ عشق پر چل نكلا۔ اس ميں كوئى شك نہيں كہ يہ ميرى ماں كے حلال دودھ كى تاثير ہے اور وہ لقمہ حلال كہ جو ميرےوالد گرامى نے مجھے كھلايا اور وہ انتخاب جو ميرى زوجہ نے كيا اس كى تاثير ہے۔ پورى زندگى عشق شہادت ميں گزار دى اور يہ ميرا اعتقاد تھا كہ صرف شہادت سے ہى بندگى كو كسب كر سكتا ہوں۔ اس مقام پر پہنچنے كے لئے ميں ںے بہت كوششيں كيں ہيں ليكن نہيں جانتا كہ اب اس مقام كو كيسے كسب كر ليا۔ ميرى اميديں فقط خدا اور اسكے رسول ص اور اسكى اہلبيت ع سے تھيں۔ اور اب بھى ہيں كہ وہ اس سياہكار كو قبول كر ليں اور اس گناہ كار پر نظر كرم فرمائيں۔ اور اگر ايسا ہو گيا تو ’’ الحمد للہ رب العلمين‘‘ اگر كسى دن اس بندہ احقر كى شہادت كى خبر سنيں تو سمجھ ليں كہ يہ فقط اس خدا وند بزرگ كاكرم ہے۔وہى تو ہے جو اپنے سياہكار بندوں كو قبول كرتا ہے اور ان كو بخشتا ہے۔

اے زوجہ محترمہ !!

اگر كبھى ميرى شہادت كى خبر سنو توجان لو كہ وہ مقصد جو تم سے شادى كرنے كا تھا پورا ہو گيا ہے اور اس وقت خود پر افتخار كرنا كہ تمہارا ہمسر بى بى زينب سلام اللہ كى قربانى قرار پايا ہے۔ ايسا نہ ہو كہ بے تاب ہونے لگو ، ايسا نہ ہو كہ رونے پيٹنے لگو ، ہميشہ صبر سے كام لينا اور خود كو بى بى زينب سلام اللہ عليہا كے محضر ميں سمجھو اور غور كرو كہ اس بى بى سلام اللہ عليہا نے تم سے زيادہ مصائب ديكھے ہيں۔

بابا جان !!

ہميشہ ميرى زندگى كا اسوہ آپ ہى رہے ہيں اور ميں نے آپ سے ہى مردانگى سيكھى ہے اگر كبھى ميرى شہادت كى خبر آپ تك پہنچے تو خود كو امام حسين عليہ السلام كے محضر ميں قرار ديجيئے گا كہ انہوں نے بھى جوان بيٹے كى شہادت كو كيسے اپنے ليے سعادت سمجھا۔ آپ كا زخم تو بہت چھوٹاہے اور اس باپ كا داغ بہت گہرا ہے جس نے اپنے جوان بيٹے كو قربان كيا پس ہميشہ صبر سے كام ليجئے گا جانتا ہوں كہ بہت سخت ہے ليكن ہو سكتا ہے۔

پيارى ماں !!

ام البنين سلام اللہ عليہا نے اپنے چار جوان بيٹے حسين عليہ السلام كى خدمت ميں قربان كيئے اور ان كى پيشانى پر بل بھى نہ آيا حتى كہ جب ان كو اپنے بيٹوں كى شہادت كا بتايا گيا تو انہوں نےبيٹوں كى بجاۓ پہلے اپنے مولا و آقا حسين عليہ السلام كا پوچھا۔ اےپيارى ماں اگر كبھى ميرى شہادت كى خبر آپ تك پہنچے تو ام البنين سلام اللہ كى طرح صبر سے كام كرنا اور افتخار كرنا كہ آپ كابيٹا حسين عليہ السلام اور بى بى زينب سلام اللہ كى قربانى قرار پايا ہے۔ كہيں ايسا نہ ہو كہ فرياد اور گريہ كركے دشمن كے دل كو شاد كرو بلكہ ہميشہ صبر سے كام كرنا۔

پيارے بھيا !!

اگر كسى روز مجھے لباس شہادت ميں ديكھو تو اس وقت كو ياد كرنا جب ابا عبداللہ حسين ابن على عليہ السلام اپنے بھائى عباس عليہ السلام كے پاس پہنچے اور ان كو زخمى حالت ميں پايا تو فرمايا كہ ميرى كمر ٹوٹ گئى۔ اے بھائى ايسا نہ ہو كہ ناشكرى كرو اور وہ ہديہ جو خدا كى بارگاہ ميں پيش كيا ہے اس پر شك كرنے لگو۔

ميرى لاڈلى بہنو !!

جب تم لوگوں اور ماں اور بابا سے جدا ہو رہا تھا تو اس وقت مجھے وہ لحظہ ياد آيا تھا جب اہل حرم نے حضرت على اكبر عليہ السلام كو وداع كيا تھا ۔ جان لو كہ اگر ميرى شہادت كى خبر سنو تو غم و نالہ مت كرنا بلكہ اپنے بھيا كو على اكبر عليہ السلام كى قربانى قرار دينا اور ہرگز اس برادر حقير كى جدائى كا غم حضرت على اكبر عليہ السلام كا اہل حرم سے جداہونے كے غم سے زيادہ مت سمجھنا۔

پيارے بيٹے على جان !!

ميرے بچے مجھے معاف كرنا كہ ميں تمہارى جوانى كو نہ ديكھ سكا ہميشہ كوشش كرنا كہ ميرے راہ پر چلنا اور ہميشہ ايسا كام كرنا كہ تمہيں بھى شہادت نصيب ہو۔
ميرے پيارے بابا ، مادر اور اے ميرى ہمسر ميں آپ لوگوں كو صبر و تحمل كرنے كى التجا كرتا ہوں اور آپ سب سے معافى كى التجا كرتا ہوں اگر آپ ميں سے كسى كا ميں نے حق ضائع كيا ہو يا كسى كى غيبت كى ہو يا كسى كا دل دكھايا ہو تو آپ سب سے التماس ہے كہ مجھے معاف كرديجئے گا۔
اگر ميں شہيد ہو گيا تو جتنى بھى خداوند متعال سے مجھے اجازت حاصل ہوئى آپ سب كا شفيع ہونگا۔

اب چند اجتماعى وصيتيں كرتا ہوں۔

ميرا ايمان كامل ہے كہ امام خامنہ اى نائب بر حق امام مہدى عجل للہ فرجہ الشريف ہيں اور ميرى آپ سے التماس ہے ولايت فقيہ سے كبھى غافل مت ہوئيے گا۔

امت مسلمہ كى تمام خواہران سے ميرى التماس ہے كہ اپنےحجاب كى حفاظت كريں ايسا نہ ہو كہ آپ لوگوں كےسر كا ايك بال بھى كسى نامحرم كى نظر ميں آجاۓ۔ ايسا مت كرنا كہ تمہارا چہرا نامحرم كى نظروں كو اپنى طرف راغب كرے ۔ اپنى چادر كى حفاظت كرو اور اپنے لئے حضرت زہرا سلام اللہ عليہا اور زنان اہلبيت كو اسوہ قرار دو۔اور بى بى رقيہ سلام اللہ عليہا كے بابا سے اس وعدے كو ياد كرو كہ بى بى نے فرمايا: اے بابا ميرے حجاب كى فكر مت كريں اے بابا جان اگرجہ ميرى چادر تھوڑى سى جل گئى ہے ليكن ابھى بھى ميرے سر پر ہے۔

امت مسلمہ كے تمام جوانان سے التماس كرتا ہوں كہ غربى ثقافت كے چنگل ميں نہ آئيں ہميشہ على ابن ابى طالب عليہ السلام اور شہدا كو اپنے لئے اسوہ قرار ديں۔اور خود كو امام زمانہ عجل للہ كے ظہور كے لئے آمادہ كريں اور دشمنان اسلام سے جنگ كے لئے آمادہ رہيں كہ وہ روزبہت نزديك ہے۔ہميشہ خدا كى بندگى اختيار كريں اگر ايسا كرليا تو مجھے يقين ہے كہ آپكى عاقبت بخير ہوگى۔

آخر ميں بتانا چاہتا ہوں كہ كچھ حق الناس ميرى گردن پر ہے وہ ميرى طرف سے ادا كرديں۔ ايك مليون تومان اپنى دادى جان سے ليا تھا وہ ادا كرنا ہے اور كچھ مقدار برادر محسن ہمتى كا حساب بھى باقى ہے۔ ۳۲ ہزار تومان اور اس كےعلاوہ كچھ سامان پايگاہ شہداى بنياد امير آباد كى دينا ہے۔

اگر آپ لوگوں كے لئے ممكن ہو تو ايك ماہ كى نمازيں اور روزے ميرى طرف سے ادا كر ديجيئے گا كہ خدا نخواستہ اگر بھولے سے كبھى نماز قضا ہوئى ہو يا روزہ رہ گيا ہو تو اسكا جبران ہوجاۓ۔

اﻟﻠﻬﻢ ﻋﺠﻞ ﻟﻮﻟﯿﮏ ﺍﻟﻔﺮﺝ
ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍﺟْﻌَﻠْﻨِﯽ ﻣِﻦْ ﺃَﻧْﺼَﺎﺭِﻩِ ﻭَ ﺃَﻋْﻮَﺍﻧِﻪِ ﻭَ ﺍﻟﺬَّﺍﺑِّﯿﻦَ ﻋَﻨْﻪُ ﻭَ
ﺍﻟْﻤُﺴَﺎﺭِﻋِﯿﻦَ ﺇِﻟَﯿﻪِ ﻓِﯽ ﻗَﻀَﺎﺀِ ﺣَﻮَﺍﺋِﺠِﻪِ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺤَﺎﻣِﯿﻦَ ﻋَﻨْﻪُ ﻭَ
ﺍﻟﺴَّﺎﺑِﻘِﯿﻦَ ﺇِﻟَﻰ ﺇِﺭَﺍﺩَﺗِﻪِ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺴْﺘَﺸْﻬَﺪِﯾﻦَ ﺑَﯿﻦَ ﯾﺪَﯾﻪ
ﺁﻣﯿﻦ
١٣٩۶ /۴ /٢٧
ﻣﺤﺴﻦ ﺣﺠﺠﯽ

وصیتنامہ شھید محسن حججی – حتما بخوانید

به گزارش «شيعه نيوز»، شهید محسن حججی یکی از نیروهای لشکر زرهی 8 نجف اشرف و از نیروهای فعال مؤسسه شهید احمد کاظمی بود. او اهل اصفهان و 25ساله بود که در منطقه مرزی عراق و سوریه طی یورش داعش، اسیر و دو روز بعد از اسارت همچون سالار شهید اباعبدالله الحسین علیه السلام به درجه رفیع شهادت نائل شد. از این شهید بزرگوار یک فرزند دوساله به یادگار مانده است.

سرانجام پیکر مطهر شهید حججی پس از گذشت بیش از 50 روز از شهادتش وارد میهن اسلامی شد و پس از مراسم باشکوه تشییع و وداع در تهران و اصفهان، قرار است امروز نیز در میان جمع انبوهی از مردم شهیدپرور در زادگاهش نجف آباد اصفهان به خاک سپرده شود. همزمان با مراسم تشیع و خاکسپاری پیکر مطهر شهید مدافع حرم محسن حججی، متن وصیت نامه او منتشر شد. متن این وصیت نامه را ادامه می‌خوانید:

برای بانوی صبر

السلام ای بانوی سلطان عشق
السلام ای بانوی صبر دمشق
زیبنبِ دنیا و عقبیِ علی
شرح مدح لافتی الا علی
در مسیر شام غوغا کرده ایی
شهر را آشوب برپا کرده ایی
خطبه خواندی از غریبی حسین
زنده کردی کربلا در عالمیین
گر نبودی کربلایی هم نبود
گریه و شور و نوایی هم نبود
رنج هایی ست فراوان دیده ایی
خیمه ها، غارت، سواران دیده ایی
دیده بودی، حلق و چشم و حرمله
گریه کردی پا به پای قافله
بسم الله النور…
صَلی الله علیک یا اُماه یا فاطمه الزهرا”سلام علیک”
وَلاتَحسَبن الذینَ قُتلوا فی سَبیل الله اَمواتا، بَل احیاء عند رَبِهم یُرَزقون
هرگز نمیمیرد آنکه دلش زنده شد به عشق
ثبت است بر جدیده عالم دوام ما…

چند ساعتی بیشتر به رفتن نمانده است، هرچه به زمان رفتن نزدیک تر می شوم قلبم بی تاب تر می شود…نمی دانم چه بنویسم و چگونه حس و حالم را بیان کنم…نمی دانم چگونه خوشحالی ام را بیان کنم و چگونه و با چه زبانی شکر خدای منان را به جای بیاورم…به حسب وظیفه چند خطی را به عنوان وصیت با زبان قلم می نویسم…
نمیدانم چه شد که سرنوشت مرا به این راه پر عشق رساند… نمی دانم چه چیزهایی عامل آن شد…
بدون شک شیر حلال مادرم، لقمه حلال پدرم و انتخاب همسرم و خیلی چیزهای دیگر در آن اثر داشته است…

عمریست شب و روزم را به عشق شهادت گذرانده ام… و همیشه اعتقادم این بوده و هست که با شهادت به بالاترین درجه ی بندگی میرسم…
خیلی تلاش کردم که خودم را به این مقام برسانم اما نمی دانم که چقدر توانسته ام موفق باشم…

چشم امیدم فقط به کرمخدا و اهلبیت است و بس امید دارم این رو سیاه پرگناه را هم قبول کنند و به این بنده ی بدِ پرخطا نظری از سر رحمت بنمایند…
که اگر این چنین شد؛الحمدالله رب العالمین…
اگر روزی خبر شهادت این بنده حقیر سرا پا تقصیر را شنیدید؛ علت آن را جز کریمی و رحیمی خدا ندانید…
اوست که رو سیاهی چون مرا هم می بخشد و مرا یاری می کند…

همسر عزیزم زهرا جانم

اگر روزی خبر شهادتم را شنیدی بدان به آرزویم که هدف اصلی ام از ازدواج با شما بود رسیدم و به خود افتخار کن که شوهرت فدای حضرتزینب شد…
مبادا بی تابی کنی، مبادا شیون کنی، صبور باش و هر آن خودت را در محضر حضرت زینب بدان… حضرت زینب بیش از تو مصیبت دید.

پدر عزیزم

همیشه و در همه حال الگوى زندگی و مردانگی ام تو بوده و هستی، اگر روزی خبر شهادتم را دیدی، زمانی را در مقابل خود فرض کن که حسین بن علی در کنار جگر گوشه اش علی اکبر حاضر شد…
داغ تو بیشتر از داغ اباعبدالله نیست… پس صبور باش پدرم، می دانم سخت است اما می شود…

مادر عزیزم

ام البنین علیهاالسلام 4جوان خود را فدای حسین و زینب کرد و خم به ابرو نیاورد.
حتی زمانی که خبر شهادت پسرانش را به آن دادند باز از حسین سراغ گرفت؛ پس اگر روزی خبر شهادتم را شنیدی، همچون ام البنین صبورانه و با افتخار فریاد بزن که مرا فدای حسین و حضرت زینب کرده ای و مبادا با بی تابی خود دل دشمن را شاد کنید…
برادر عزیزم

اگر روزی مرا در لباس شهادت دیدی آن لحظه ایی را به یاد بیاور که اباعبدالله بر بالین عباس ابن علی حاضر شد و داغ برادر کمرش را خم کرد…
مبادا ناسپاسی کنی، مبادا به هدیه ایی که تقدیم اسلام کرده اید شک بیاورید…

خواهران خوبم

لحظه ی وداع با شما و مادرم و پدرم مرا به یاد آن لحظه ایی انداخت که اهل حرم حضرت علی اکبر را راهی میدان جنگ می کردند؛ پس اگر من هم رو سفید شدم غم و غصه و اشک و ناله خود را فدای علی اکبر کنید و مبادا داغ خود را از داغ دل اهلحرم بیشتر بدانید…

پسر عزیزم، علی جان…

ببخشید اگر قد کشیدنت را ندیدم و مرد شدنت را نظاره نکردم… سعی کن راه مرا ادامه بدهی… سعی کن کاری کنی که سرانجام آن به شهادت ختم شود…

پدر و مادر همسر عزیزم…

همیشه شما را همچون پدر و مادر واقعی خودم می دانستم و خوشحال ام که سرنوشتم با حضور در خانواده شما رقم خورد…
به شما هم جز صبر و تحمل چیز دیگری سفارش نمی کنم، همیشه یاد داشته باشید علی اکبر حسین هم تازه داماد کربلا بود…

از همه میخوام این رو سیاه را حلال کنید، اگر حقی از کسی ضایع کردم، اگر غیبتی پشت سر کسی کردم، اگر دلی را رنجاندم، اگر گناهی از من سر زد؛ حلالم کنید…
اگر شهید شدم تا جایی که اجازه داشته باشم؛ شفیعتان خواهم بود.

اما چند وصیت کلی

از ولایت فقیه غافل نشوید و بدانید من به یقین رسیدم که امام خامنه ای نائب بر حق امامزمان است.
از همه ی خواهران عزیزم و از همه ی زنان امت رسول الله می خواهم روز به روز حجاب خود را تقویت کنید، مبادا تار مویی از شما نظر نامحرمی را به خود جلب کند؛ مبادا رنگ و لعابی بر صورتتان باعث جلب توجه شود؛ مبادا چادر را کنار بگذارید…همیشه الگوی خود را حضرت زهرا و زنان اهل بیت قرار دهید؛ همیشه این بیت شعر را به یاد بیاورید
آن زمانی که حضرت رقیه سلام الله خطاب به پدرش فرمودند:

غصه ی حجاب من را نخوری بابا جان
چادرم سوخته اما به سرم هست هنوز…

از همه ی مردان امت رسول الله می خواهم فریب فرهنگ و مدهای غربی را نخورید؛ همواره علی ابن ابی طالب امیرالمومنین را الگو و پیشوای خود قرار دهید و از شهداء درس بگیرید…

خودتان را برای ظهورامامزمان روحی لک الفدا و جنگ با کفار به خصوص اسرائیل آماده کنید که آن روز خیلی نزدیک است.
همیشه برای خدا بنده باشید که اگر این چنین شد بدانید عاقبت همه ی شما به خیر ختم می شود…

مقداری حق‌الناس به گردن دارم که عاجزانه می خواهم برایم ادا کنید…
– یک میلیون تومان به مادر بزرگ پدری بدهکارم
– مقداری بدهی به برادر محسن همتی ها بابت محصولات فرهنگی و کار های دیگر بدهکارم
– 32هزارتومان به اضافه مقداری سربند به پایگاه شهدای بنیاد امیرآباد بدهکارم
– اگر برایتان مقدور بود به مقدار یک ماه نماز و روزه برایم ادا کنید که اگر خدایی ناکرده گهگاهی از روی خطا نمازی قضا کردم و یا روزه ایی از دست دادم جبران شود…

اللهم عجل لولیک الفرج
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصَارِهِ وَ أَعْوَانِهِ وَ الذَّابِّینَ عَنْهُ وَ الْمُسَارِعِینَ إِلَیْهِ فِی قَضَاءِ حَوَائِجِهِ وَ الْمُحَامِینَ عَنْهُ وَ السَّابِقِینَ إِلَى إِرَادَتِهِ وَ الْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْه‏

آمین
١٣٩٦/٤/٢٧
محسن حججی

Dua Mashlool

ادخلوھا بسلام آمنین

DUA MASHLOOL

The Supplication of the Lame Man.

This supplication is also called “the supplication of the young man punished for his sins.” Being recorded in the books of al-Kaf’ami and the book of Muhaj al-Da’awat, this supplication has been taught by Imam AliAmeer al-Momineen(a.s.) to a young man who was paralyzed due to the wrongdoings and sins that he had committed against his father. After he said this supplication, the young lame man slept and saw in dream that the Holy Prophet (s.a.w.a.) came to him and passed his hand over his body saying, “Hold on to the Greatest Name (alism al-a’zam) of Almighty Allah and your deeds will be good.” When he woke up, he found himself healed from lameness.

The supplication is the following:

اللَّهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَا ذَا الْجَلالِ وَ الْاِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ يَا حَيُّ لا اِلَهَ اِلا اَنْتَ…

View original post 1,261 more words

Green Sarcasm – A Must Read

Sarcasm at its Best…too good .. read and smile …

Anonymous

Checking out at the store, the young cashier suggested to the older woman that she should bring her own shopping bags because plastic bags weren’t good for the environment.

The woman apologized and explained, “We didn’t have this green thing back in my earlier days.” The cashier responded, “That’s our problem today. Your generation did not care enough to save the environment for future generations.”

She was right — our generation didn’t have the green thing in its day. Back then, we returned milk bottles, coke bottles and beer bottles to the store. The store sent them back to the plant to be washed and sterilized and refilled, so they could use the same bottles over and over. Yes, they really were recycling.

We refilled writing pens with ink instead of buying a new pen. And we replaced the razor blades in the razor instead of throwing away the whole razor just because the blade got dull.

But, we didn’t have the green thing back in our day. We walked up the stairs because we didn’t have an escalator in every building. We walked to the kirana store and didn’t climb into a 300-hp machine every time we had to go down the lane. But, she was right. We didn’t have the green thing in our day.

Back then, we washed the baby’s nappies because we didn’t have the throw-away kind. We dried clothes on a line, not in an ‘energy gobbling machine burning up 220 volts. Wind and solar power really did dry our clothes back then. Kids got hand-me-down clothes from their brothers or sisters, not always brand-new clothing.

But, that young lady is right… We didn’t have the green thing back in our day. Back then, we had one TV or radio in the house — not a TV in every room. And, the TV had a small screen the size of a handkerchief (remember them?), not a screen the size of an SUV .

In the kitchen, we blended and stirred by hand because we didn’t have electric machines to do everything for us. When we packaged a fragile item to send by post, we used old folded newspapers to cushion it, not styrofoam or plastic bubble wrap.

Back then, we didn’t fire up an engine and burn petrol just to trim the lawn. We used a push mower or chhari that ran on human power. We exercised by working so we didn’t need to go to a health club to run on treadmills that operate on electricity. But, she’s right. We didn’t have the green thing back then.

We drank water from a matka or tap when we were thirsty instead of demanding a plastic bottle flown in from another country.

We accepted that a lot of food was seasonal and didn’t expect it to be flown from thousands of miles across the world. We actually cooked food that didn’t come out of a packet, tin or plastic wrap and we even washed our own veggies and choppped our own salad. But, we didn’t have the green thing back then.

Back then, we took the tram or a bus. And our kids rode bikes to school or walked instead of turning their moms into a 24-hour taxi service.

We had one electrical outlet in a room, not an entire collection of sockets to power a dozen appliances. And we didn’t need a computerized gadget to receive a signal beamed from satellites 2,000 miles out in space to find the nearest pizza joint.

But, isn’t it sad the current generation laments how wasteful we old folks were just because we didn’t have the green thing back then? Share to let the young turks know how bold and wise the old generation was👌